آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سنا مرین: سرکاری رہائشگاہ پر مہمانوں کی برہنہ تصویر پر فن لینڈ کی وزیراعظم نے معافی مانگ لی
فن لینڈ کی وزیراعظم سنا مرین نے اپنی سرکاری رہائشگاہ پر مہمانوں کی ایک ہرہنہ تصویر پر معافی مانگی ہے۔
گذشتہ دنوں ان کی ایک ویڈیو لیک ہوئی جس میں انھیں ایک پارٹی میں ڈانس کرتے دیکھا گیا۔ ان پر ایسے الزامات سامنے آئے کہ یہ سب ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہے تاہم انھوں نے رضاکارانہ طور پر ڈرگ ٹیسٹ کروایا جس میں ثابت ہوا کہ انھوں نے منشیات کا استعمال نہیں کیا تھا۔
حال ہی میں جاری ہونے والی ایک تصویر میں دو معروف انفلوئینسرز کو دیکھا جا سکتا ہے جنھیں وزیراعظم کی رہائشگاہ پر جولائی کے دوران مدعو کیا گیا تھا۔ یہ تصویر منگل کو سوشل میڈیا پر کئی بار شیئر کی گئی۔
سنا مرین نے کہا کہ ’یہ تصویر نامناسب‘ تھی اور انھوں نے اس کے لیے معذرت کی ہے۔
اس تصویر میں دو خواتین ایک دوسرے کا بوسہ لے رہی ہیں اور اپنی چھاتی کو ایک ایسے سائن سے ڈھانپ رہی ہیں جس پر ’فن لینڈ‘ لکھا ہے۔
سنا مرین نے کہا کہ ہلسنکی میں ان کی سرکاری رہائشگاہ پر یہ پارٹی جولائی میں ایک میوزک فیسٹیول کے بعد ہوئی۔
فن لینڈ کے مقامی ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق وائرل ہونے والی تصویر نچلی منزل پر ٹوائلٹ میں لی گئی جو مہمانوں کے زیر استعمال ہوتا ہے۔
سنا مرین نے ایک بیان میں کہا کہ ’سوانا (بھاپ) اور تیراکی کے بعد ہم سب نے ایک ساتھ کچھ وقت گزارا۔ ایسی تصویر نہیں لی جانی چاہیے تھی تاہم اس ملاقات کے دوران کچھ بھی غیر معمولی نہیں ہوا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
35 سال کی سنا مرین سنہ 2019 میں اقتدار میں آئیں اور وہ کچھ عرصہ قبل تک دنیا کی سب سے کم عمر وزیر اعظم تھیں۔
موجودہ سیاسی ہلچل ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فن لینڈ مغربی ممالک کے فوجی اتحاد نیٹو میں شمولیت کا خواہاں ہے۔
سنا مرین نے جولائی میں دوستوں کے ساتھ کلب یا میوزک فیسٹیول جانے کی بات کو چھپا کر نہیں رکھا۔ اس کے باوجود فن لینڈ کے بعض حلقوں میں ان کے ایسے رویے پر تنقید کی گئی ہے۔
حالیہ ہفتوں کے دوران ان کے سیاسی مخالفین نے ڈانس اور پارٹی کی ویڈیو پر تنقید کو جاری رکھا۔ جب مخالف سیاستدانوں نے شک ظاہر کیا تو سنا مرین نے ڈرگ ٹیسٹ کرایا اور دعویٰ کیا کہ انھوں نے منشیات کا استعمال نہیں کیا اور صرف شراب نوشی کی تھی۔
پیر کو حکومت نے بتایا کہ ان کے ڈرگ ٹیسٹ کے نتائج کے مطابق ان کے جسم میں کوئی منشیات نہیں پائی گئیں۔
یورپی یونین کے دیگر ممالک کی طرح فن لینڈ نے بھی روسی باشندوں کو سیاحتی ویزے دینے کی مخالفت کی ہے مگر حالیہ اطلاعات کے مطابق سنا مرین کی ذاتی زندگی توجہ کا مرکز ہے، نہ کہ ان کا پالیسی ایجنڈا۔
فن لینڈ میں اس کا ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔ نائب وزیر اعظم انيكا ساريكو نے کہا کہ انھوں نے تصویر میں دیوار پہچان لی کہ یہ وزیر اعظم کی رہائشگاہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ فن لینڈ کے اکثر شہری روزمرہ کے اخراجات کے بحران سے گزر رہے ہیں اور تصویر میں نظر آنے والا طرز زندگی ان کے حالات سے ہم آہنگ نہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو دوسروں کے لیے ’اخلاقیات کا سرپرست‘ نہیں بنایا جا سکتا۔
دوسری طرف بہت سے شہریوں نے وزیر اعظم کی حمایت کی اور کہا کہ یہ سب نوجوانوں کا معمول ہے۔ ان کے مطابق زیادہ دباؤ والے سرکاری عہدے کے زندگی سے ہٹ کر ایک نوجوان خاتون کا ایسا کرنا سمجھ میں آتا ہے۔
بہت سے صارفین نے سوشل میڈیا پر ڈانس اور پارٹی کے ذریعے ان سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
ویڈیو پر تنقید اور ڈرگ ٹیسٹ
گذشتہ ہفتے سنا مرین نے کہا تھا کہ انھوں نے اپنا منشیات کا ٹیسٹ (ڈرگ ٹیسٹ) کروا لیا ہے۔ ان کی ایک حالیہ ویڈیو لیک ہونے کے بعد انھیں شدید تنقید کا سامنا تھا۔
اس ویڈیو میں انھیں فن لینڈ کی بعض معروف شخصیات کے ساتھ ڈانس کرتے اور گانے گاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے اُن سے ڈرگ ٹیسٹ کروانے کا مطالبہ کیا تھا۔
جمعے کو ایک نیوز کانفرنس کے دوران سنا مرین نے بتایا کہ انھوں نے ڈرگ ٹیسٹ کروا لیا ہے جس کے رپورٹ آئندہ ہفتے کے دوران موصول ہو جائے گی۔
سنا مرین پہلے ہی کہہ چکی تھیں کہ وہ منشیات کے زیر اثر نہیں تھیں بلکہ انھوں نے صرف شراب پی تھی اور وہ پارٹی کر رہی تھیں۔
جمعے کی نیوز کانفرنس کے دوران وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر ان الزامات کی تردید کی کہ انھوں نے پارٹی کے دوران منشیات استعمال کی تھی۔
انھوں نے رپورٹرز کو بتایا کہ ’میں نے کچھ بھی غیرقانونی نہیں کیا۔ ٹین ایج میں بھی میں نے کبھی منشیات استعمال نہیں کیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے منشیات کا ٹیسٹ صرف لوگوں کے خدشات دور کرنے کے لیے کروایا ہے۔
یاد رہے کہ سنا مرین جب فن لینڈ کی وزیراعظم منتخب ہوئی تھیں تو وہ وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہونے والی دنیا کی سب سے کم عمر شخصیت تھیں۔ وہ کبھی بھی اپنی نجی پارٹیوں کو راز میں نہیں رکھتیں اور اکثر میوزک تقریبات میں نظر آتی ہیں۔
گذشتہ برس انھوں نے اس وقت کلب جانے پر معذرت کی تھی جب وہ وہاں ایک ایسے شخص سے رابطے میں آئی تھیں، جسے کورونا تھا۔
گذشتہ ہفتے جرمن اخبار ’بِلڈ‘ نے انھیں ’کولیسٹ پرائم منسٹر اِن دی ورلڈ‘ کا خطاب دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
جمعرات کو اس ویڈیو سے متعلق بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ وہ جانتی تھیں کہ ویڈیو بن رہی ہے لیکن انھیں اس بات پر افسوس ہے کہ یہ پبلک میں لیک کر دی گئی۔
ان کا کہنا تھا ’میں نے ڈانس کیا، گایا اور پارٹی کی، یہ سب قانونی چیزیں ہیں۔ میں کبھی بھی کسی ایسی صورتحال میں نہیں پائی گئی جہاں میں نے دوسروں کو منشیات استعمال کرتے دیکھا ہو۔‘
اپوزیشن پارٹی کی لیڈر رِیکا پُرا کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پر ’شک کا سایہ‘ منڈلا رہا ہے اور یہ کہ انھیں خود ہی ڈرگ ٹیسٹ کروا لینا چاہیے۔
دیگر اپوزیشن جماعتوں کے سیاستدانوں نے وزیراعظم اور میڈیا دونوں کو اس پارٹی سے متعلق بات کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا کہ اس سے زیادہ ضروری مقامی مسائل ہیں۔
جمعرات کے دن وزیراعظم نے صحافیوں سے کہا تھا کہ ’میری ایک فیملی لائف ہے، ایک ورک لائف ہے اور فارغ اوقات میں دوستوں کے ساتھ گزارتی ہوں۔ ویسے ہی جیسے میری عمر کے بہت سے لوگ کرتے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا تھا کہ ان کو نہیں لگتا کہ انھیں اپنا رویہ بدلنے کی ضرورت ہے۔ ’میں وہی رہوں گی جو میں آج تک ہوں اور امید کرتی ہوں کہ اسے قبول کیا جائے گا۔‘
فِن لینڈ میں اس ویڈیو کو مفاد عامہ کا مسئلہ بتا کر بڑے پیمانے پر دکھایا گیا ہے۔
سنا میرین دسمبر 2019 سے حکومت میں ہیں اور انھیں اپنی جماعت کی حمایت حاصل ہے۔
میڈیا پر تبصرہ کرنے والے مقامی صحافی رابرٹ سنڈ مین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میرین جو بھی کریں ان پر ہر بار ایک ہی طرح کا منقسم کرنے والا رویہ ہوتا ہے۔‘
’کچھ لوگ ہیں جو یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کی عمر کی خاتون کا دوستوں کے ساتھ مستی کرنا عام بات ہے اور دوسری جانب وہ لوگ ہیں جنھیں جھٹکا لگا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’لیکن اب تک ایک بات یقینی ہے کہ پارٹی کی تصویروں سے ان کی یا ان کی جماعت کی مقبولیت پر کوئی خاطر خواہ فرق نہیں پڑا۔‘
ان کے مطابق موجودہ وزیر اعظم کی معروف شخصیات کے ساتھ دوستی پر لوگوں کی خاص نظر ہے جبکہ ماضی کے وزرائے اعظموں کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا تھا۔