سنیک جزیرہ: بحیرہ اسود پر واقع یوکرین کے سرپینٹ آئیلینڈ پر روس اپنا قبضہ کیوں نہ جما سکا

    • مصنف, پال کربی اور لوکف یراسلف
    • عہدہ, بی بی سی نیوز

یوکرین میں مداخلت کے پہلے روز روس نے بحیرہ اسود کے شمال مغرب میں واقع ایک چھوٹے اور پتھریلے جزیرے پر قبضہ کر لیا تھا مگر یوکرین جنگ میں اس جزیرے کا نمایاں کردار رہا ہے۔

روس نے کہا ہے کہ اس نے جذبہ خیرسگالی کے تحت یہاں سے اپنی فوجیں واپس بلا لی ہیں تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ وہ گندم کی برآمدات میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ تاہم یوکرین نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو اس کے گندم کے گوداموں پر گولہ باری کر رہا ہے۔

اس جزیرے پر ہر طرف سے براستہ فضا اور پانی حملے کیے جاسکتے ہیں۔ پہلے یہاں یوکرینی دستوں نے پہرہ دیا اور پھر روسی فوج کے چھوٹے گیریژن نے۔ تاہم دفاعی ماہرین نے یہاں تعینات کیے جانے والے دونوں ملکوں کے دستوں کو ’سِٹنگ ڈکس‘ یعنی آسان ہدف قرار دیا ہے۔

سنیک آئیلینڈ یوکرین کے ساحل سے صرف 35 کلومیٹر دور واقع ہے۔ یہ باآسانی کسی بھی میزائل، توپ اور ڈرون حملے کی زد میں آ سکتا ہے۔ روسی افواج نے 24 فروری کو اس جزیرے پر قبضہ کیا تھا۔

یوکرین کی مسلح افواج نے سنیک جزیرے پر روسی افواج کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا ہے۔ انھوں نے جزیرے تک پہنچنے والے دستوں اور سامان پر مسلسل حملے جاری رکھے۔

اپریل میں روسی بحیرہ اسود کے شمال مغرب میں روسی طیارہ شکن صلاحیت کو بڑے پیمانے پر کمزور کر دیا گیا جب بحری بیڑے کے اہم بحری جہاز موسکووا کو ڈبو دیا گیا۔

شاید یہی وجہ ہے کہ کریملن سنیک جزیرے پر طیارہ شکن سسٹم اور ریڈیو الیکٹرانک وار فیئر کا سامان لانے کو اتنا بےتاب کیوں تھا۔ اس جزیرے کا دفاع روس کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن گیا کیونکہ یہ بحیرہ اسود میں مرکزی بحری اڈے سے کافی دور تھا۔

یوکرین کے پاس محدود بحری صلاحیت ہے مگر اس نے جزیرے پر کافی حملے کیے۔ اس کے باوجود وہ اس قابل نہیں ہوا کہ اپنی افواج کو جزیرے پر تعینات کر سکے۔

یوکرینی فوج کے دفاعی تجزیہ کار الیک یدینوف سمجھتے ہیں کہ سنیک آئیلینڈ پر دستے تعینات کرنے کا کوئی جواز نہیں کیونکہ وہ آسان ہدف بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اس کے بجائے ’فائر کنٹرول‘ کا قیام ہونا چاہیے جس سے جزیرے تک پہنچنے والے کسی بھی ہدف پر حملہ کیا جا سکے۔

اس طرح بحیرہ اسود پر یوکرین کے سب سے بڑے ساحل اوڈیسا اور شمال مغرب کے خطے کی سکیورٹی بڑھائی جاسکتی ہے۔

اس جزیرے کی اہمیت کیوں؟

روس کو بحیرہ اسود کے ساحل پر بڑے پیمانے پر کنٹرول حاصل ہے اور اس کے زیر اثر علاقوں میں کریمیا کا خطہ اور بحیرہ ازوف بھی شامل ہیں۔ سنیک جزیرے پر قبضے سے اوڈیسا کا راستہ رُک کیا، یعنی اکثر یوکرینی گندم کی برآمد ناممکن ہو گئی۔

اس کا ایک مطلب یہ بھی تھا کہ بحیرہ اسود کا ساحل کسی بھی وقت حملے کی زد میں آ سکتا ہے۔ کیئو میں دفاعی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا کہ روس وہاں طویل رینج کا ایئر ڈیفنس سسٹم نصب کر سکتا ہے، جیسے ایس 400 ایئر میزائل سسٹم۔

نقشے پر ایک نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس جزیرے پر روسی کنٹرول سے نیٹو رکن رومانیہ کو بھی خطرہ لاحق ہوا تھا۔ اس کی اہم بندرگاہ کونستانتسا اور دریائے ڈینیوب میں چلنے والی ٹریفک کے بارے میں تشویش ظاہر کی گئی۔

یہ جزیرہ صرف سٹریٹیجک یا علاقائی اعتبار سے اہم نہیں بلکہ یہاں پیٹرولیم اور گیس کے بھی ذخائر موجود ہیں۔

اس کہانی میں ماسکو کا مؤقف

سٹیو روزنبرگ، بی بی سی ایڈیٹر برائے روس

ہمیں اب اس چیز کی عادت ہو گئی ہے کہ کسی واقعے پر روس اپنا مؤقف دے اور یہ یوکرین یا مغربی حکومتوں کے مؤقف سے بالکل الگ ہو۔

یہ بھی پڑھیے

ماسکو چاہتا ہے کہ ہم یہ تسلیم کر لیں کہ سنیک جزیرے سے دستوں کی واپسی مجبوری میں نہیں کی گئی۔

روس کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی دستوں نے اپنے ’بتائے گئے ٹاسک‘ مکمل کر لیے اور وہ وہاں سے چلے گئے۔ اس نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ یہ ’جذبہ خیر سگالی‘ کا حصہ ہے تاکہ یہ ثابت ہو کہ روس یوکرین کی خوراک کی برآمدات میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

سنیک جزیرے کی علاقائی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے جہاں کئی ماہ تک جاری لڑی گئی اور یہ بھی دیکھتے ہوئے کے مداخلت کے بعد سے روسی مسلح افواج نے کتنا کم جذبہ خیر سگالی دکھایا ہے، روس کے مؤقف سے ملک کے باہر بہت کم لوگ مطمئن ہو سکیں گے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ ایسا مؤقف مقامی شہریوں کے لیے ہو۔ کریملن روسی عوام کو بتانا چاہتا ہے کہ: اس لڑائی میں روس اچھے لوگوں میں سے ہے۔

ممکنہ گیم چینجر

یوکرین کے لیے یہ محض علامتی فتح نہیں بلکہ سٹریٹیجک کامیابی بھی ہے۔ روس کو اس سے دھچکا لگا ہے اور یہ ایک شرمناک شکست ہے۔ مگر اس سے وسیع پیمانے پر جنگ کی صورتحال تبدیل نہیں ہو گی۔

روس کی توجہ پورے مشرقی دونباس پر قبضہ جمانا ہے اور جنوب میں ایسے علاقوں پر کنٹرول مستحکم کرنا ہے جنھیں جنگ کے آغاز میں قبضے میں لیا گیا تھا۔

سنیک آئیلینڈ ممکنہ طور پر بحیرہ اسود کا سٹریٹیجک حصہ ہے اور یہ جدید میزائل سسٹم نصب کرنا کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ جگہ کافی چھوٹی سی ہے۔

اہم سوال ہے کہ روس کو بے دخل کر کے کیا یوکرین اپنی گندم کی برآمدات کو بحال کر پائے گا۔ جنگ سے اس کی معیشت کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ اچھی بحری قوت نہ ہونے کی وجہ سے اس کے امکان ابھی کم ہیں اور بحیرہ اسود پر روسی بحری جہازوں کا غلبہ برقرار ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن میں یوکرینی امور کے ماہر اینڈریو ولسن کہتے ہیں کہ ’عملی طور پر آپ کو گندم کی برآمدات محفوظ بنانے کے لیے 10 چیزیں چاہیے ہوں گی اور یہ صرف ان میں سے ایک چیز ہے۔‘

یوکرین نے اوڈیسا سے گندم کے قافلوں کی رکھوالی سے متعلق روسی پیشکش کو مسترد کیا ہے کیونکہ اس کے لیے بندرگاہ کے باہر بارودی سرنگیں ہٹانا ضروری ہو گا۔

یوکرین اور روس کے درمیان امن مذاکرات میں ترکی فعال کردار ادا کر رہا ہے تاہم اس کی کامیابی کی پیش گوئی کرنا ابھی قبل از وقت ہوگا کیونکہ یہ ابتدائی مراحل میں ہے۔

آئندہ چند ہفتے یوکرین کی برآمدات کے لیے اہم ہوں گے کیونکہ جولائی میں اگلی کٹائی شروع ہوگی۔