آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
گیلین میکسویل: نو عمر لڑکیوں کو جسم فروشی کے لیے تیار کرنے والی عیش و عشرت کی زندگی سے جیل تک کیسے پہنچیں؟
امریکہ کی ایک عدالت نے برطانیہ کی مقبول شخصیت گیلین میکسویل کو نوعمر لڑکیوں کو جسم فروشی کے لیے تیار کرنے اور ان کی انسانی سمگنگ اور اس کی سہولت کاری کے الزامات میں 20 برس قید کی سزا سنائی ہے۔
ساٹھ سالہ میکسویل جب قید کی سزا پوری کر کے جیل سے باہر آئیں گی تو ان کی عمر 80 برس ہو چکی ہو گی۔
گلین میکسویل کے دوست جیفری ایپسٹین پکڑے جانے کے بعد جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔
گیلین میکسویل کون ہیں؟
گیلین میکسویل 1961 میں کرسمس کے دن پیدا ہوئیں۔ ان کی پیدائش کے تین روز بعد ان کے 15 سالہ بھائی مائیکل میکسویل کو ایک حادثہ پیش آیا جس کے بعد وہ اپنی زندگی کے باقی سات سال کوما میں رہے۔
حالانکہ وہ ایک کھاتے پیتے گھرانے میں پیدا ہوئی تھیں اور ان کے والد رابرٹ میکسویل ایک نامی گرامی پبلشر تھے۔ تاہم ہر اعتبار سے گلین میکسویل کو ابتدائی سالوں میں جذباتی اعتبار سے نظرانداز کیا جاتا رہا۔ ان کی والدہ بیٹی نے بعد میں اپنی سوانح عمری میں اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ مائیکل کے حادثے کے بعد گیلین کو ان کے والدین کی جانب سے ’بہت کم توجہ دی جاتی تھی۔‘
بیٹی کے مطابق 1965 میں ایک روز ان کی تین سالہ بیٹی گیلین ان کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی اور کہنے لگی: ’ماں، یہاں میں بھی موجود ہوں۔‘ بیٹی کے مطابق گلین اس دوران انوریگسیا کا شکار بھی ہو گئی تھیں۔
ان کے والدین نے یہ کمی پوری کرنے کے لیے بعد میں اپنی بیٹی کو خوب لاڈ پیار دیا۔ تاہم اس کے باوجود وہ اپنے والد کے غصے اور سزاؤں سے نہ بچ سکیں جو وہ اپنے ہر بچے کو دیا کرتے تھے۔ تاہم وہ جلد ہی ان کی سب سے چہیتی بن گئیں۔
بیٹی نے اپنی سوانح عمری میں لکھا کہ ان کی پسندیدہ بیٹی جلد ہی ’بگڑ بھی گئی، یہ بات میں اپنے تمام بچوں میں سے صرف اسی کے بارے میں کہہ سکتی ہوں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اب جب ان کو مختلف سنگین الزامات میں مجرم پایا گیا ہے تو اس بات کی وجوہات ان کے نظرانداز کیے جانے والے بچپن میں ڈھونڈی جا سکتی ہیں۔
گلین خاصی مشکل خاتون ہیں اور ان کے جرائم کی وجوہات بیان کرنا بہت مشکل کام ہے۔ حالانکہ ان کی زندگی خاصی حد تک عوامی نظروں کے سامنے گزری ہے لیکن اس کی تفصیلات پھر بھی واضح نہیں ہیں۔
لیکن شاید ان کے بچپن اور والد سے رشتے کے ذریعے ان کے بارے میں مزید تفصیلات ظاہر ہو سکیں۔ بطور کاروباری شخصیت رابرٹ میکسویل کی شہرت ایک بدتمیز شخص کی تھی۔ گھر پر وہ ایک ’سخت گیر والد‘ کے طور پر جانے جاتے تھے جو اپنے بچوں کو برا بھلا کہتے تھے اور انھیں جسمانی اذیت بھی پہنچاتے تھے۔
ان کی سوانح عمری لکھنے والے جان پریسٹن لکھتے ہیں کہ رابرٹ اپنے تمام بچوں سے کھانے کی میز پر سخت سوالات کیا کرتے اور ان سے ان کے مستقبل کے بارے میں پوچھا کرتے اور اگر انھیں ان کی مرضی کا جواب نہ ملتا تو وہ انھیں رونے پر مجبور کر دیتے۔ رابرٹ کے ایک بیٹے ایئن پریٹسن کو بتاتے ہیں کہ ’وہ ہمیں بیلٹ سے مارا کرتے، بیٹیوں کو بھی۔‘
رابرٹ میکسویل کی طرح ایپسٹین بھی انتہائی مالدار شخص تھے، جو بروکلن کے ایک علاقے میں ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ رابرٹ میکسویل کی طرح ان کی زندگی کے اختتامی سال ذلت آمیز تھے اور وہ بھی بظاہر خودکشی کر کے ہلاک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیئے
گلین کا ایپسٹین کے ساتھ رشتہ دونوں کے لیے ہی فائدہ مند تھا۔ وہ انھیں اپنے امیر اور طاقتور دوستوں سے ملواتی تھیں اور اس کے بدلے وہ ان کے پرتعیش طرز زندگی کے لیے رقوم فراہم کرتے تھے۔
ان دونوں کا رشتہ خاصا قریبی تھا اور مقدمے کے دوران دونوں کی ہم آہنگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے وکلا نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ میکسویل ’جب ایپسٹین سے ملیں تو وہ بہت زیادہ مالدار نہیں تھیں۔‘
پیسے کا لالچ یا نفسیاتی مسائل؟
یہ ایک ایسی خاتون کا ذلت آمیز مقدر تھا جس نے اپنی تمام زندگی عیش و عشرت سے گزاری۔ یہی وجہ تھی کہ حکومتی وکلا کے لیے یہ ایک چیلنج بن گیا کہ وہ ایسا جرائم کا ارتکاب کیوں کریں گی۔
وکلا کہتے ہیں کہ پیسہ ایک وجہ ضرور تھی۔ صحافی جان سوینی نے اس مقدمے کی تفصیلات ایک پاڈکاسٹ ہنٹنگ گلین میں جاننے کی کوشش کی ہیں اور اب اس حوالے سے ایک کتاب بھی لکھ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس حوالے سے ایک گہرا نفسیاتی پہلو بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’آپ کو یہ معلوم نہیں ہو پائے گا کہ جیفری ایپسٹین کے ساتھ کیا ہوا جب تک آپ ان کے اپنے والد کے ساتھ رشتے کے بارے میں نہ جان لیں۔ سچ یہ ہے کہ گلین نے اپنے والد کو خوش کرنا سیکھا اور پھر انھیں ایک اور عفریت کو خوش کرنا تھا۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی ایسا ہی کیا ہے۔‘
رابرٹ میکسویل اور جیفری ایپسٹین میں ایک اور مماثلت یہ بھی تھی کہ دونوں کو اپنے جرائم کی مکمل سزا نہ مل سکی اور گلین کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ انھیں ایپسٹین کے جرائم کے لیے قربانی کا بکرہ بنایا گیا ہے۔ ایک خاتون کو ان کے ساتھی کے گناہوں کی سزا ملنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ تاہم پیسٹرنک اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ایپسٹین کو گلین کے بغیر اتنی تعداد میں نوجوان لڑکیوں تک رسائی ملتی۔‘
ایپسٹین کی وفات کے بعد میکسویل چھپ گئیں۔ اخبارات ان کے ٹھکانے کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں کرتے رہے۔ ان کی لاس اینجلس کے ایک برگر جوائنٹ کے باہر لی گئی تصویر کو دنیا بھر میں اخبارات کے پہلے صفحات پر شائع کیا گیا۔ تاہم جولائی 2020 میں انھیں امریکی ریاست نیو ہیمپشائر سے ان کی بنگلے سے حراست میں لیا گیا۔