آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
فرانس میں مسلمان خواتین کو تیراکی کے لیے برقینی پہننے کی اجازت دینے والا شہر حکومت سے قانونی جنگ ہار گیا
- مصنف, رابرٹ پلمر
- عہدہ, بی بی سی نیوز
فرانس کی اعلیٰ ترین عدالت نے گرینوبل شہر کی جانب سے اپیل مسترد کرتے ہوئے عوامی سوئمنگ پولز میں ’برقینی‘ پہننے پر پابندی کو برقرار رکھا ہے۔
یاد رہے کہ فرانس کے شہر گرینوبل میں گذشتہ ماہ ہی حکام نے تیراکی کرنے کے لیے برقینی پہننے کی اجازت دی تھی۔ اس فیصلے نے حکومت کے ساتھ ایک قانونی جنگ کو جنم دیا۔
واضح رہے کہ برقینی تیراکی کے لیے پہنا جانے والا وہ سوٹ ہے جو عام طور پر مسلمان خواتین مذہبی عقائد کی وجہ سے پہنتی ہیں تاکہ ان کا جسم مکمل طور پر ڈھنپا رہے۔
لیکن فرانس کی عدالت کا کہنا تھا کہ ’مذہبی تقاضوں کی بنیاد پر قواعد و ضوابط میں مخصوص استثنیٰ کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘
یہ تنازعہ فرانس کی کونسل آف سٹیٹ تک اس لیے پہنچا کیوں کہ پہلے گرینوبل شہر کی مقامی عدالت نے پابندی کو اس بنیاد پر معطل کر دیا تھا کہ اس کی وجہ سے عوامی مقامات پر غیر جانب داری کا اصول متاثر ہوتا ہے۔
فرانس کے وزیر داخلہ جیرالڈ ڈارمانن بنے بھی اس بحث میں شرکت کرتے ہوئے اس پالیسی کو ’ناقابل قبول اشتعال انگیزی‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ فرانس کی سیکیولر اقدار کے منافی ہے۔
فرانس میں تیراکی کے لیے پہنے جانے والے لباس سے متعلق سخت قوانین موجود ہیں جب کہ مذہبی عقائد کا عوامی مقامات پر اظہار بھی ایک تقرفہ انگیز معاملہ ہے۔
فرانس میں ریاستی سوئمنگ پولز میں برقینی پر عائد پابندی کی ایک وجہ حفظان صحت بھی بتائی جاتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسی قانون کے تحت تیراکی کرنے والے مردوں پر لازم ہے کہ وہ کم لبائی والی چست نیکر پہنیں۔ گرینوبل شہر نے مردوں کے لیے بھی نیکر کی طوالت میں اضافے کے لیے اجازت لینے کی کوشش کی جو ناکام ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیے
برقینی کیا ہے؟
- برقینی تیراکی کے لیے بنایا جانے والا ایک ایسا لباس ہے جس کو پہننے کے بعد چہرے، ہاتھ اور پاوں کے علاوہ جسم کا کوئی بھی حصہ دکھائی نہیں دیتا۔
- برقینی کا لفظ برقعہ اور بکینی کو ملا کر بنایا گیا ہے۔
- برقعے کے مقابلے میں برقینی میں چہرہ نظر آتا ہے۔
- برقینی خاص طور پر مسلمان خواتین کے لیے تجویز اور مارکیٹ کی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے مذہبی عقائد کے تحت عوامی مقامات پر تیراکی کر سکیں۔
فرانس میں برقینی کی مخالفت کا معاملہ 2016 میں اس وقت شروع ہوا جب مختلف شہروں کی مقامی انتظامیہ نے ملک کے ساحلوں پر اس کے استعمال پر پابندی لگانے کی کوشش کی کیوں کہ ان کے مطابق یہ فرانس میں مذہب اور ریاست کے درمیان علیحدگی کے اصولوں کی خلاف ورزی تھی۔
فرانس میں سرکاری اہلکاروں کو کام کے دوران کوئی بھی مذہبی علامت پہننے کی اجازت نہیں ہے۔
لیکن گرونیبل شہر کے میئر نے موقف اختیار کیا تھا کہ اس قانون کے تحت عوامی خدمات، مثلا سوئمنگ پولز، استعمال کرنے والوں کو اپنی مرضی کا لباس پہننے سے نہیں روکا جا سکتا۔
اس فیصلے کے خلاف کھڑی ہونے والی فرانس کی حکومت نے گزشتہ سال ہی ’اسلامی علیحدگی پسندی‘ کا راستہ روکنے کے لیے ایک قانون منظور کیا تھا۔
برقینی کے ناقدین کے مطابق نہ صرف یہ فرانسیسی معاشرے میں تنگ نظری کی علامت ہے بلکہ اس کی اجازت مسلمان خواتین پر بھی دباؤ کا باعث بنتی ہے کیوں کہ پھر وہ اسے پہننے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔
فرانسیسی دایں بازو کی رہنما مارین لی پین برکنی کو ’اسلامی پروپیگینڈا کا پہناوا‘ قرار دے چکی ہیں۔
اس کے باوجود برقینی کی حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ خواتین کو اس بات کا اختیار حاصل ہونا چاہیے کہ آیا وہ اپنے جسم کو ڈھانپنا چاہتی ہیں یا نہیں اور اس کا مذہبی انتہا پسندی سے کوئی تعلق نہیں۔