آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد عالمی منڈیوں میں گندم کی قیمتیں بڑھنے کا خطرہ
یوکرین کی جنگ کی وجہ سے تیل کی عالمی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد اب یہ بحران اجناس کی کمی کی صورت میں عالمی افق پر نمودار ہونے والے ایک بڑے طوفان کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
عالمی منڈیوں میں گندم، پکانے کے تیل اور دیگر اجناس کی متوقع کمی کی وجہ سے عالمی سطح پر پریشانی بڑھتی جا رہی ہے اور اس کی حدت اب اقوام متحدہ کے ایوان میں بھی محسوس کی جانے لگی ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے گزشتہ روز روسی سفارت اس وقت احتجاجاً اٹھ کر چلے گئے جب یورپی کونسل کے صدر نے خوراک کے عالمی بحران کا ذمہ دار روس کو ٹھہرایا۔
یورپی کونسل کے صدر چارلس مائکل نے کہا کہ روس خوراک کی ترسیل کو ترقی پذیر ملکوں کے خلاف 'سٹیلتھ میزائل' کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ یورپی کونسل نے مزید کہا کہ روس کی جنگ کے بڑے بھیانک اثرا مرتب ہو رہے ہیں اور یہ دنیا بھر محسوس کیے جا رہے ہیں اس کی وجہ سے خوراک کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور لوگ غربت کا شکار ہو رہے ہیں جس سے مختلف خطوں میں عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے۔
روس کے سفیر کی نے ردعمل میں یورپی کونسل کے سربراہ پر جھوٹ پھیلانے کا الزام عائد کیا۔
عالمی سطح پر سنگین تر ہوتے ہوئے خوراک کے بحران کے درمیان انڈیا نے گزشتہ ماہ گندم کی برآمد پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا۔ انڈیا کے اس اعلان پر کئی ملکوں نے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔
یوکرین میں جاری جنگ کی وجہ سے خوراک بڑی مقدار میں یوکرین کی بندرگاہوں پر بین الاقوامی منڈیوں پر بھیجے جانے کے انتظار میں پڑی ہیں۔
یوکرین گندم کے علاوہ خوردنی تیل، دالیں اور مکئی کا بڑا پیداوار ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے علاوہ روس بھی اجناس اور کھادیں برآمد کرنے والا بڑا ملک ہے اور اس پر پابندیوں سے بھی روس کی برآمدات پر اثر پڑ رہا ہے۔
یورپی کونسل کے صدر نے اقوام متحدہ میں کہا کہ ہزاروں ٹن اجناس یوکرین کی بندر گاہ اوڈیسہ میں پڑی ہیں اور روسی کے بحری محاصرے تک عالمی منڈیوں کو سپلائی نہیں ہو پا رہیں۔
انڈیا کی طرف گندم فروخت کرنے سے انکار پر جرمن کے وزیر خوراک اور زراعت چم اوزدمیر نے کہا تھا کہ 'اگر ہر کوئی برآمدات پر پابندی لگانا شروع کر دے گا تو اس سے بحران اور سنگیں صورت اختیار کر لے گا۔
اس کے جواب میں انڈیا کے تجارت کے وزیر پیوش گویل نے کہا تھا کہ انڈیا کی طرف سے برآمدات پر پابندی کا اثر عالمی منڈیوں پر نہیں پڑنا چاہیے کیونکہ یہ گندم برآمد کرنے والا بڑا ملک نہیں ہے۔
گو کہ انڈیا گندم فروخت کرنے والا بڑا ملک نہیں ہے لیکن اس کے اس اعلان کی وجہ سے عالمی منڈیوں پر منفی اثر پڑا اور شکاگوں میں گندم کا بینچ مارک انڈکس میں تقریباً چھ فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے کئی دن بعد تک گندم کی مختلف اقسام کی قیمتیں مسلسل بڑھتی رہی اور مئی کی 17 اور 18 تاریخ کو یہ اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
زراعت کے بارے میں عالمی اعداد و شمار اکھٹا کرنے والے ادارے 'گرو انٹیلیجنس' کے ماہر کیلی گوگہری نے کہا کہ انڈیا کے اعلان کا اثر عالمی قیمتوں پر اس لیے پڑا کے عالمی خریدار انڈیا کی طرف فروخت کی جانے والی گندم کا انتظار کر رہے تھے کیونکہ بحریہ اسود سے آنے والی گندم رک گئی تھی۔
انڈیا دنیا بھر میں گندم پیدا کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے لیکن عالمی منڈی میں فروخت ہونے والی گندم کا ایک فیصد انڈیا سے آتا ہے۔
انڈیا کی طرف سے پابندی سے کون سے ملک مثاتر ہوں گے؟
انڈیا کی حکومت گندم کی برآمد پر پابندی کا اعلان کرنے سے قبل اس طرح کے اشارے دے رہی تھی کہ وہ عالمی منڈیوں میں اجناس کی قیمتوں میں اضافے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس سال ایک کروڑ ٹن گندم برآمد کر ے گی۔ گزشتہ سال انڈیا نے صرف 20 لاکھ ٹن گندم برآمد کی تھی۔
انڈیا ایشیا اور افریقہ سے کئی ملکوں کو گندم فراہم کرنے کے لیے بات چیت کر رہا تھا اور پابندی کے اعلان کے باوجود کئی ملکوں سے اس کی بات چیت جاری ہے۔
انڈیا کی گندم کے بڑے خریداروں میں بنگلہ دیش، سری لنکا اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔
ابزرویٹری آف اکنامک کمپلیکزٹی کے مطابق سری لنکا اور متحدہ عرب امارات نے گزشتہ سال اپنی ضرورت کی پچاس فیصد گندم انڈیا سے خریدی تھی۔ جبکہ نیپال نے اپنی ضرورت کی نوے فیصد گندم انڈیا سے حاصل کی تھی۔
اب تک یہ بات واضح نہیں ہو سکی ہے کہ کیا ان ملکوں کو اس سال بھی اس مقدار میں گندم انڈیا سے مل سکے گی یا نہیں۔
عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے انڈیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گندم کی برآمد کرنے کی پابندی پر غور کرے اور کہا کہ آئی ایم ایف ان ملکوں کی مدد کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا جو یوکرین کی جنگ کی وجہ سے خوراک کی قلت کا شکار ہیں۔
خراب موسم اور کھاد کی قیمتیں
یوکرین کے بحران کے علاوہ نامواقف موسم بھی خوراک کی قلت میں ایک اہم عنصر ثابت ہو رہا ہے۔
گرو انٹیلجینس کے مطابق 'خشک سالی، سیلاب اور گرمی کی لہر کی قبل از وقت آمد کی وجہ سے بھی فصلیں خراب ہوئی ہے اور ایسا امریکہ، کینیڈا اور فرانس میں بھی ہوا ہے جو گندم پیدا کرنے والے بڑے ملک ہیں۔
گندم کی عالمی پیداوار سنہ 2022 اور 23 میں گزشتہ چار سال میں سب سے کم ہونے کی توقع ہے اور امریکی حکومت کی ایک رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر گندم کے ذخائر بھی گزشتہ چھ برس میں اپنی کم ترین سطح پر ہوں گے۔
گرو انٹیلیجنس کے مطابق کھاد کی قیمتوں میں تین گنا اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے بھی پیداوار کم ہونے امکان ہے۔
اس تنظیم نے کہا ہے کہ گندم کے عالمی ذخائر سنہ 2008 کے بعد اب اتنے کم ہونے والے ہیں۔
چین کو دنیا میں گندم پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اس نے اس سال مارچ میں کہا تھا کہ چین میں گندم کی فصل بارشوں سے شدید مثاثر ہوئی ہے۔ اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کے چین میں گندم کی فصل کو کتنا نقصان پہنچا ہے۔ اگر چین میں پیداوار بہت زیادہ کم ہوئی تو چین بھی بین الاقوامی منڈیوں میں گندم خریدنے کے لیے اترے گا جس سے گندم کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھنے کا امکان ہے۔