’میرے شہر پر بمباری ہو رہی ہے لیکن ماسکو میں میری ماں کو یقین نہیں‘

    • مصنف, ماریہ کورینیک اور جیک گڈمین
    • عہدہ, ورلڈ سروس ڈس انفارمیش ٹیم

جب سے روس نے یوکرین پر حملہ کیا ہے اولیگزینڈرا نے خارخیو میں اپنے چار کتوں کو اپنے فیلٹ کے باتھ روم میں چھپا رکھا ہے۔

"جب میں نے پہلی بار دھماکے کی آواز سنی تو میں بھاگ کر باہر سے اپنے ریسکیو کتوں کو فلیٹ کے اندر لے آئی۔ لوگ خوفزدہ تھے، اپنی کاریں چھوڑ کر بھاگ رہے تھے۔ میں بھی خوفزدہ تھی۔"

پچیس سالہ اولیگزینڈرا ہر روز ماسکو میں اپنی ماں سے بات کرتی ہیں اولیگزینڈرا نے اپنی ماں کو خارخیو میں روسی بمباری کی ویڈیوز بھی بھیجی ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی ماں یہ ماننےکے لیے تیار نہیں ہیں کہ ان کی بیٹی کی زندگی کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔

'میں اپنے ماں باپ کو خوفزدہ نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن میں نے انھیں بتایا کہ عام شہری اور بچے بمباری میں مارے جا رہے ہیں۔‘

میرے ماں باپ میرے بارے میں فکر مند ہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ کسی غلطی کی وجہ سے بم گر گیا ہو گا، وگرنہ روسی فوج سویلین کو نشانہ نہیں بنائےگئی۔ "یہ یوکرینی ہیں جو اپنے لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔"

یوکرین کے شہریوں کے خاندانوں کے افراد کا روس میں ہونا عام ہے۔ اولیگزینڈرا کے رشتہ داروں کی طرح اس جنگ کے حوالے سے ان کے خیالات مختلف ہیں۔ اولیگزینڈرا کہتی ہیں کہ اس کی وجہ روسی ذرائع ابلاغ ہے جو مکمل طورپر حکومتی کنٹرول میں ہے.

اولیگزینڈرا کہتی ہیں کہ ان کی ماں وہی باتیں دہراتی ہیں جو روسی چینلوں پر چلائی جا رہی ہیں۔

"جب انہوں نے مجھ سے وہی بات کی جو رشین ٹی وی کہہ رہا ہے تو میں بہت ڈر گئی۔ وہ لوگوں کی برین واشنگ کر رہے ہیں۔ اور لوگ ان پر اعتبار کرتے ہیں کہ یوکرین میں جنگ نہیں ‘ملٹری آپریشن‘ ہو رہا ہے۔"

وہ کہتےہیں ’’روسی تو تمھیں آزاد کرانے آئے ہیں، وہ کسی چیز کو تباہ نہیں کریں گے۔ وہ آپ کو ہاتھ بھی نہیں لگائیں گے۔ وہ صرف فوجی اڈوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ "

جب ہم اولیگزینڈرا کا انٹرویو کر رہے تھے تو اس دوران پھر شیلنگ شروع ہو گئی۔ انٹرنیٹ کنکشن بہت کمزور تھا۔ پھر ہم نے وائس میسیجز کا تبادلہ کیا۔

اولیگزینڈرا کہتی ہیں کہ وہ خاموشی کو تو تقریباً بھول چکی ہیں۔ وہ مسلسل گولہ باری کر رہے ہیں۔

اسی روز روسی ٹی وی چینلوں پر میزائل حملوں کا کوئی ذکر ہی نہیں ہے، اور نہ خارخیو میں لائن میں کھڑے لوگوں کی ہلاکت کی کوئی خبر تھی۔ روسی ذرائع ابلاغ میں یہ کہا جا رہا ہےکہ یوکرین کے عام شہریوں کو روسی فوج سے خطرہ نہیں بلکہ قوم پرست یوکرینیوں سے ہیں جو لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

روس کےسرکاری چینلز پر اسے 'سپیشل ملٹری آپریشن' کہا جا رہا ہے اور یوکرین کو اس کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔ اگر کوئی روسی چینل یوکرین میں جاری جنگ کو 'جنگ' یا 'یلغار' کہے تو اسے بندش کا خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ روس میں کچھ لوگوں نے یوکرین میں جنگ کے خلاف مظاہرے بھی کیے ہیں لیکن انھیں کبھی مقامی ذرائع ابلاغ نہیں دکھایا جاتاہے۔

میخیلو کیئو کے ایک مشہور ریسٹورانٹ کے مالک ہیں اور جب یوکرین پر روس نے حملہ کیا تو انہوں نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ روسی ٹی وی پر یوکرین پر حملے کو کس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ میخیلو نے پہلے اپنے خاندان کو کیئو کے مضافات میں منتقل کیا پھر ملک سےباہر ہنگری پہنچا کر واپس یوکرین پہنچ چکے ہیں۔

میخیلو نے بتایا کہ جب اس نے روس میں اپنے باپ سے بات کی تو ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ .

میخیلو نے بتایا کہ جب اس نے روس میں اپنے باپ سے بات کی اور انھیں بتایا کہ یوکرین میں کیا ہو رہا ہے۔

میخیلو کہتے ہیں کہ ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب ان کے والد نے کہا :''یہ بات ٹھیک نہیں ہے، وہاں کوئی جنگ ہو رہی ہے۔ درحقیقت روسی یوکرین کو نازیوں سے بچا رہے ہیں۔"

میخیلو کہتے ہیں کہ مجھے روسی پراپیگنڈے کی طاقت کا اندازہ تھا لیکن جب میں نے اپنے باپ سے یہ سنا تو مجھے بہت دکھ ہوا۔ ’’میرے اپنے والد یہ جانتے ہوئے کہ میں یہاں ہوں اور سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں میری بات پریقین نہیں کر رہے تھے۔"

میری ماں، جو میرے والد کی سابقہ بیوی ہیں، وہ بھی اسی صورتحال سے دوچار ہیں۔

"میری ماں بمباری سےبچنے کے لیے میری نانی کے ساتھ ایک باتھ روم میں چھپی ہوئی ہیں۔"

روسی میڈیا کئی سالوں سے سخت کنٹرول میں ہے اور روس پر تنقید کے حوالے کوئی چیز ان پر نشر نہیں ہو سکتی۔

روسی امور کی ماہر ڈاکٹر جوآنا سزوزٹیک کا کہنا ہے کہ روسی میڈیا میں روس کی ایک مثبت تصویر پیش کی جاتی ہے۔ ’’دوسری جنگ عظیم کے بارے میں جو کہانیاں سنائی جاتی ہیں ان کے مطابق روس نے کچھ غلط نہیں کیا ۔ اسی لیے اب بھی وہ اس پر یقین نہیں کرتے۔"

ڈاکٹر جوانا کہتی ہیں اکثر روسی دوسرے کے نکتہ نظر کو جاننے کی بھی کوشش نہیں کرتے۔ وہ صرف ایسےنکتہ نظر پر یقین کرتے ہیں جو مغرب کا مخالف ہے۔

’جو لوگ روس پر تنقید کرتے ہیں انھیں غدار اور دشمنوں کے ایجنٹ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اسی لیے آپ اپنی بیٹی پریقین نہیں کرتے۔‘

انستاسیہ کے والدین روسی باغیوں کے زیر کنٹرول ڈونیسک پیپلز ریپبلک سے 20 کلومیٹر دور ایک گاؤں میں رہتےہیں۔ یہ گاؤں ابھی تک یوکرینی حکام کے زیر انتظام ہے۔ لیکن ان کے گھر میں ہر وقت رشین ٹی وی دیکھا جاتا ہے۔ حتکہ انہوں نے اپنی گھر کی گھڑیاں بھی روسی وقت کے ساتھ ملا رکھی ہیں۔

جب انستاسیہ چوبیس فروری کو سائرن کی آواز سن کی اٹھیں تو انھیں اندازہ تھا کہ ان کے والدین کا ردعمل کیا ہو گا۔

انستاسیہ یوکرین میں بی بی سی کی نمائندہ ہیں جو دس برس پہلےکیئو منتقل ہو گئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیئے

"میں نے سب سے پہلے اپنی ماں کو پانچ بجے فون کیا۔ وہ حیران تھیں کہ میں نے اس وقت انھیں فون کیا۔ انھیں کوئی پریشانی نہیں تھی۔ میں نے پھر ماں کو فون کیا کہ میں بہت ڈری ہوئی ہوں۔

میری ماں نے کہا: ’پریشان نہ ہو،روس کیئو پر بمباری نہیں کرے گا۔ ‘ میں نے کہا کہ وہ کیئو پر بمباری کر رہے ہیں۔ اور اس سے عام شہری بھی ہلاک ہو رہے ہیں۔"

میری ماں نے ہنستے ہوئے کہا ” ہم نے بھی یہ اسی کا سامنا کیا ہے جب یوکرین نے ڈانباس پر حملہ کیا۔ "

ایک لمحے کے لیے میری سانس رک گئی۔ ماں کی بات نے میرا دل ٹوٹ گیا۔"

انستاسیہ سمجھتی ہیں کہ روسی میڈیا نے روسی فوج کے بارے میں ایک تاثر بنا رکھا ہے کہ جو یوکرین کو نازیوں سے بچا رہےہیں۔

انستاسیہ برسوں سے والدین کے ساتھ سیاسی معاملات پر بات کرنےسے کتراتی رہی ہیں لیکن اس بار اس نے اپنی ماں کے ساتھ بات ختم کر دی۔

جب انستاسیہ چار روز تک کیئو میں شیلٹر میں رہنے کے بعد وہاں سے نکل کر آئیں تو بی بی سی نےان سے بات کی۔ اس وقت وہ اپنے مستقبل کے بارے میں پریشان تھیں۔

انھوں نےکہا تھا:’’ میرے ذہن میں بہت سے خیالات آ رہے ہیں۔ ہم سب کا کیا بنے گا، یہ معاملات کہاں جا رہے ہیں، کیا میں کبھی واپس یوکرین آؤں گی، کیا میں اپنے والدین سے مل پاؤں گا جن سے مجھے آج بھی بہت پیار ہے۔ لیکن میرے اندر کچھ ٹوٹ گیا ہے جو شاید کبھی نہ جڑ پائے گا۔"