آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
روس، یوکرین کشیدگی: یوکرین پر روسی حملے کی جعلی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر زیر گردش
- مصنف, الیسٹر کولمین اور شایان سرداری زادہ
- عہدہ, بی بی سی مانیٹرنگ
یوکرین میں روسی مداخلت کے بعد آن لائن اور سوشل میڈیا ویب سائٹس پر جنگ کی جعلی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کی جا رہی ہیں۔
جب بی بی سی نے ان میں سے بعض تصاویر کی جانچ کی تو معلوم ہوا کہ یہ یوکرین اور دنیا بھر میں ماضی کی لڑائیوں سے لی گئی ہیں۔ جبکہ کچھ تصاویر تو محض فوجی دستوں کی مشقوں کی ہیں۔
ٹوئٹر سمیت سوشل میڈیا ویب سائٹس اب ایسے جعلی مواد پر کارروائیاں تیز کر رہی ہیں جن میں ایسی تصاویر اور ویڈیوز کو ہٹایا جا رہا ہے جو غلط معلومات پر مبنی ہیں اور محققین نے جانچ کے بعد اس کی تصدیق کی ہے۔
جنگی طیارے
روسی مداخلت کے ابتدائی گھنٹوں کے دوران ایسی ویڈیوز جاری کی گئیں جن کا دعویٰ تھا کہ روسی ایئر فورس کے جنگی طیارے یوکرین کی فضا میں موجود ہیں۔ یہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل بھی ہوئی ہیں۔
ایک ویڈیو کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جنگی طیارے شہری آبادی کے اوپر سے اُڑ رہے ہیں۔ اسے بعد ازاں حذف کر دیا گیا تھا۔
اس پوسٹ کے عنوان سے یہ تاثر دیا گیا کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی کی حالیہ صورتحال کچھ ایسی ہے۔
اس ویڈیو کی جانچ سے معلوم ہوا ہے کہ یہ امریکی ساختہ ایف 16 فائٹنگ فیلکن ہے جو کبھی روس یا یوکرین میں نہیں اڑایا گیا۔
ایک دوسرے ویڈیو کلپ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جنگی اور بمبار طیارے شہری آبادی کے اوپر سے اڑ رہے ہیں اور ہوائی حملے کے سائرن بجائے جا رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی کی جانچ سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ویڈیو سنہ 2020 میں فوجی پریڈ کے دوران جنگی طیاروں کے فلائی پاسٹ کی ہے۔ اور اصل آڈیو کے اوپر فضائی حملے کے سائرن کی آڈیو لگا کر اسے سنسنی خیز بنایا گیا ہے۔
ایک دوسری ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا کہ روسی چھاتہ بردار دستے یوکرین کے شہر خارکیف میں اتر رہے ہیں۔
ٹوئٹر پر اس ویڈیو کو ہزاروں افراد نے دیکھا ہے۔ لیکن یہ ویڈیو پہلی بار سنہ 2016 میں روسی زبان کی ایک ویب سائٹ پر جاری کی گئی تھی۔
ایک چوتھا ویڈیو کلپ ٹوئٹر اور یوٹیوب پر دستیاب ہے اور اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یوکرین میں روسی طیارے مار گرائے گئے ہیں۔
تاہم بی بی سی کے صحافیوں کی جانچ پر معلوم ہوا ہے کہ یہ ویڈیو خاصی پرانی ہے جب 2011 میں بنغازی میں باغیوں نے لیبیا کی حکومت کے طیارے مار گرائے تھے۔
حتی کہ اس ویڈیو میں جشن منانے والے لوگوں کی آوازیں سنی جاسکتی ہیں اور وہ عربی بول رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
تاہم بعض جعلی تصاویر اور ویڈیوز فوجی کارروائیوں کی نہیں ہیں۔
ایک ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مشرقی یوکرین کے شہر مروپل میں رہائشی عمارت کے قریب ایک دھماکہ ہوا ہے۔ ٹوئٹر پر اس ویڈیو کو امریکہ میں ایک سابق یوکرینی سفیر نے بھی شیئر کیا ہے۔
تاہم اس ویڈیو کا ایک حصہ 29 جنوری کو ٹک ٹاک پر ایک ایسے اکاؤنٹ نے اپ لوڈ کیا تھا جو دھماکوں سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز باقاعدگی سے شیئر کرتا رہتا ہے۔
اس ویڈیو کی پوسٹ روسی زبان میں لکھی گئی ہے جس سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ویڈیو کسی فوجی کارروائی کی نہیں بلکہ ایک پاور سٹیشن پر بجلی گرنے کی ہے۔
صارفین نے اس ویڈیو میں درختوں کے سرسبز ہونے پر بھی بحث کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق فروری کے دوران مروپل میں درجۂ حرارت صفر کے قریب ہے۔
بعض صارفین نے ایسی تصاویر شیئر کی ہیں جن میں روسی دستوں کی جانب سے یوکرین کے شہر خارکیف میں اپنا پرچم لہرانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
اس تصویر کا عنوان درست ہے کہ روسی دستے خارکیف کی ایک عمارت پر اپنا پرچم لہرا رہے ہیں۔ تاہم ریورس امیج سرچ ٹول کی جانچ سے معلوم ہوا ہے کہ یہ تصویر 2014 کی ہے جب اس خطے میں بدامنی پیدا ہوئی تھی۔
چینی زبان استعمال کرنے والے ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ نے ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس کا عنوان یہ ہے کہ ’پوتن دی گریٹ نے یوکرین پر حملہ کر دیا ہے۔‘
یہ ویڈیو اگست 2020 کی ہے جب بیروت میں ایک عمارت میں دھماکہ سے 200 سے زیادہ اموات ہوئی تھیں۔
حقیقت یا افسانہ
تیزی سے بدلتے واقعات کی جعلی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر ہونا ایک معمولی سی بات بن گئی ہے۔ کئی لوگ ان تصاویر کو اس لیے شیئر کرتے ہیں کیونکہ انھیں واقعی لگتا ہے کہ یہ درست ہیں۔
سوشل میڈیا پر صارفین شیئر کے بٹن کو دبانے سے پہلے کچھ سیکنڈز لے کر یہ سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں کہ آیا یہ درست ہیں اور کیا انھیں قابل اعتماد ذرائع نے جاری کیا ہے۔
کئی خبر رساں ادارے ویڈیوز استعمال کرنے سے قبل ان کی تصدیق کرتے ہیں۔ اس لیے متعدد ذرائع سے مواد کی تصدیق کے ذریعے جعلی تصاویر اور ویڈیوز کو شیئر ہونے سے روکا جاسکتا ہے۔