آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
علی ایاد: جعلی ایجنسی جہاں 52 لوگوں کو نوکری دے کر بیوقوف بنایا گیا
- مصنف, لیو سینڈز، کیٹرِن نئی، دِویا تلوار اور بین لِسٹر
- عہدہ, یو کے انسائیٹ، بی بی سی
زوم کال پر تقریباً 40 لوگ تھے، یا کم از کم جو لوگ وہاں موجود تھے ان کا یہی خیال تھا۔ گلیمرس ڈیزائن ایجنسی میں تمام عملے کی یہ میٹنگ بڑھتی ہوئی کمپنی میں نئے آنے والوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے بلائی گئی تھی۔
اس کا نام ’میڈ برڈ‘ تھا اور اس کے متحرک اور متاثرکن سربراہ علی ایاد چاہتے تھے کہ کال پر آنے والا ہر شخص پرجوش طریقے سے کام کرے، بالکل اس طرح جس طرح وہ خود کام کرتے ہیں۔
تاہم جو لوگ اپنے کیمرے آن کر چکے تھے وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ میٹنگ میں موجود کچھ لوگ حقیقی لوگ نہیں تھے۔ جی ہاں، وہ شرکا کے طور پر درج تھے۔
کچھ کے پاس فعال ای میل اکاؤنٹس اور ’لنکڈ ان‘ پروفائلز بھی تھے لیکن ان کے نام گھڑے گئے تھے اور ان کے ہیڈ شاٹس یا چہرے کی تصاویر دوسرے لوگوں کی تھیں یا اصلی نہیں تھیں۔
یہ سارا معاملہ جعلی تھا کیونکہ حقیقی ملازمین کو پہلے ہی ’ملازمت سے فارغ‘ کر دیا گیا تھا۔ بی بی سی نے اس واقعے کی تحقیق میں ایک سال صرف کیا ہے۔
مانچسٹر میں مقیم 27 سالہ سیلز مینیجر کِرس ڈوسی نے اس زوم کال سے چند ماہ قبل اکتوبر سنہ 2020 میں 'میڈ برڈ' میں ملازمت کا آغاز کیا تھا۔
انھیں بتایا گیا تھا کہ وہ گھر سے کام کریں گے۔ عالمی وبا اب بھی پھیل رہی تھی، لہٰذا یہ معمول کی بات تھی۔
کووڈ نے کِرس کی زندگی برباد کر دی تھی۔ اس وبا کی وجہ سے ان کی پہلی نوکری چلی گئی تھی اور یہی وجہ تھی کہ انھوں نے میڈ برڈ میں ملازمت کے لیے درخواست دی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ملازمت کے اشتہار میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ ’ایک ڈیجیٹل ڈیزائن ایجنسی ہے، جو لندن میں بنائی گئی ہے اور اس کا محور انسان ہیں اور یہ دنیا بھر میں چل رہی ہے۔‘ یہ بات کرس کے دل کو بھا گئی۔
میڈ برڈ نے 50 سے زائد دیگر افراد کو بھرتی کیا تھا۔ ان میں سے زیادہ تر نے سیلز میں کام کیا، کچھ نے ڈیزائن کے شعبے میں اور کچھ کو نگرانی کے لیے لایا گیا۔
ہر نئے شامل ہونے والے کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی گئی تھی جس میں ای میل پر پیغام رسانی اور زوم پر ایک دوسرے سے بات کرنا بتایا گیا تھا۔
دیگر عملہ برطانیہ سے باہر رہتا تھا۔ عالمی مارکیٹ میں جگہ بنانے کے خواہشمند، میڈ برڈ کے ہیومن ریسورس یا ایچ آر ڈیپارٹمنٹ نے دبئی سے بین الاقوامی سیلز ٹیم میں آسامیوں کے اشتہارات آن لائن جاری کیے تھے۔ یوگینڈا، انڈیا، جنوبی افریقہ، فلپائن اور دیگر ممالک سے کم از کم ایک درجن افراد کی خدمات حاصل کی گئیں۔
ان کے لیے ملازمت کا مطلب صرف تنخواہ کا چیک نہیں تھا بلکہ اس کا مطلب برطانیہ کا ویزا بھی تھا۔ اگر انھوں نے اپنی چھ ماہ کی عبوری مدت گزار لی، اور اپنے سیلز کے اہداف کو پورا کر لیا، تو ان کے معاہدوں میں کہا گیا ہے کہ میڈ برڈ انھیں برطانیہ منتقل ہونے کے لیے سپانسر کرے گی۔
علی ایاد جانتے تھے کہ برطانیہ میں نئی زندگی گزارنے کا کیا مطلب ہو سکتا ہے۔ لندن میں آباد ہونے سے پہلے وہ اکثر میڈ برڈ کے عملے سے اپنے ماضی کے بارے میں بات کرتے تھے لیکن ان کی کہانی بدلتی رہی تھی۔
ایک شخص کے سامنے انھوں نے خود کو 'مورمن' کے طور پر متعارف کرایا، جو امریکہ کی ریاست یوٹاہ میں آباد ایک فرقہ ہے۔ دوسروں کے نزدیک، وہ لبنان سے تھے، جہاں بچپن کے مشکل حالات سے انھوں نے کسی طرح ایک اچھا کاروباری بننا سیکھ لیا تھا۔
یہاں تک کہ انھوں نے اپنا نام بھی تبدیل کر لیا تھا۔ کبھی کبھی وہ اپنی کنیت میں ایک دوسرے 'وائے' کا اضافہ کر کے 'ایاد' لکھا کرتے۔ کبھی وہ 'الیکس ایڈ' کے طور پر دستخط کرتے۔
تاہم ان کی کہانی کے کچھ ایسے باب بھی تھے جن میں کوئی ردوبدل نہیں ہوا تھا۔ اس میں سب سے اہم چیز یہ تھی کہ انھوں نے کچھ عرصہ مشہور کمپنی ’نائیکی‘ کے ساتھ بھی گزارا تھا جہاں وہ تخلیقی ڈیزائنر تھے۔
انھوں نے اپنے ہر ساتھی کو یہ بھی بتایا تھا کہ وہ امریکہ کی ریاست اوریگون میں نائیکی کے ہیڈکوارٹرز میں کام کرتے رہے تھے۔ یہی وہ مقام تھا جہاں ان کی ملاقات میڈبرڈ کے شریک بانی، ڈیوّ سٹینفیلڈ سے ہوئی تھی۔
علی نے اپنے شاندار کریئر کے حوالے سے جو کہانی سنائی تھی وہ حقیقت سے دور نہیں لگتی تھی۔ ویڈیو کالز کے دوران وہ بہت متاثر کن انداز میں بات کرتے تھے۔
ان کی باتوں میں گہرائی، کرشماتی شخصیت، حتیٰ کہ یہ بھی لگتا تھا کہ وہ دوسروں کا خیال رکھنے والے انسان ہیں۔ وہ بڑے اعتماد سے بات کرتے، یہاں تک کہ کبھی کبھی لگتا تھا کہ ضرورت سے زیادہ بڑے بڑے دعوے کر کے لوگوں کو بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ وہ انداز تھا جس کی وجہ سے انھوں نے کم از کم تین افراد کو اپنی پرانی نوکریاں چھوڑ کر اپنے ساتھ کام کرنے پر رضامند کر لیا۔
میڈبرڈ کے عملے کے پاس علی کی نائیکی والی کہانی پر شک کرنے کی کوئی وجہ بھی نہیں تھی۔ اور اگر انھیں شک ہوتا بھی تو علی کے لِنکڈ ان پروفائل پر جا کر دیکھ سکتے تھے جہاں علی کے پرانے ساتھیوں کی طرف سے تعریفوں کے پل باندھے گئے تھے۔
اگلے کئی ماہ تک میڈبرڈ کا کاروبار خوب چلتا رہا، اور اس دوران ڈیزائن کے شعبے میں مزید لوگوں کو بھرتی کیا گیا تاکہ ان ٹھیکوں کی بھرمار کو مکمل کیا جا سکے جو کپمنی کی سیلز ٹیم لا چکی تھی۔
لیکن میڈبرڈ کی حقیقت کے افشا ہونے سے پہلے ہی اس کے ملازمین کو مسائل کا سامنا شروع ہو گیا۔ جس عجیب و غریب طریقے سے کمپنی نے ان سے معاہدے کیے تھے، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملازمین کو ابھی تک تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔
معاہدے کے تحت تمام ملازمین یہ تسلیم کر چکے تھے کہ پہلے چھ ماہ میں وہ کمیشن پر کام کریں گے اور چھ ماہ کی پروبیشن مکمل کے بعد ہی انھیں ماہانہ تنخواہ ملا کرے گی۔ اکثر ملازمین کو 35 ہزار سے 47 ہزار 300 ڈالر ماہانہ تک کا وعدہ کیا گیا تھا۔
معاہدے کے مطابق ماہانہ تنخواہ شروع ہونے تک ہر ملازم کو سودے میں سے ایک خاص حصہ دیا جائے گا جو اس نے طے کیا ہو گا۔
یہ تمام ملازمین نوجوان لوگ تھے جو وبا کے دنوں میں محض کسی کام کی تلاش میں تھے اور اکثر کا خیال تھا کہ ان کے پاس میڈبرڈ کی شرائط کو قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارا نہیں تھا۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ کمپنی کا کوئی بھی سواد پایہ تکمیل کو نہیں پہنچا تھا۔ فروری سہ 2021 تک کسی بھی خریدار کے ساتھ معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے تھے اور میڈ برڈ کے کسی بھی ملازم کو ایک ٹکہ بھی نہیں ملا تھا۔
بھرتی ہونے والے کچھ لوگ تو ایک ہفتے بعد ہی نوکری چھوڑ گئے، لیکن زیادہ تک رکے رہے۔ بہت سے تقریباً چھ ماہ تک کمپنی میں موجود رہے اور اس دوران کریڈٹ کارڈز پر گزارہ کرتے رہے جو خاندان والوں سے قرض لے لے کر اپنے بِل ادا کرتے رہے۔
اب تو یہ واضح ہوگیا ہے کہ میڈبرڈ کے کسی بھی ملازم کو کبھی بھی تنخواہ نہیں ملی تھی۔ کمپنی کوئی پیسے نہیں کما رہی تھی۔ لیکن یہ بات نئے آنے والوں کی معلوم نہیں تھی۔ وہ اس غلط فہمی میں مبتلا رہے کہ کپمنی سے انھوں نے ملازمت کے جو معاہدے کیے تھے وہ خاص قسم کے تھے اور ان کے مینجروں کو تو یقیناً تنخواہیں مل رہی ہوں گی۔ کمپنی جلد ہی بہت سے سودے مکمل کرنے والی تھی اور پیسے آنے والے تھے۔
اس وقت تک شاید یہی لگتا ہو، لیکن پھر وہ سہہ پہر بھی آ گئی جب ساری کمپنی دھڑام سے گر گئی۔
دو ملازمین، جیما بریٹ اور انٹونیو سٹوئرٹ کا شک پڑ گیا کہ کچھ گڑ بڑ ہے۔ انھوں نے انٹرنیٹ پر ’ریروس امیج‘ کا طریقہ استعمال کرتے ہوئے کھوج لگانے کی کوشش کی ان ساتھی ملازمین کی تصویریں شروع کہاں سے ہوئیں۔ بہت جلد ہی انھیں معلوم ہو گیا کہ ان کے کئی ساتھی ملازمین کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ دونوں نے کپمنی کے تمام عملے کو جین سمتھ کے فرضی نام سے ای میل بھیجنے کا فیصلہ کر لیا۔
یہ ای میل انھوں نے جس سہہ پہر بھیجی اس دن بظاہر کمپنی میں بڑا کام تھا اور ہر کوئی مصروف تھا۔ ای میل میں انھوں نے میڈ برڈ کے بانی افراد پر ’شرمناک اور غیر اخلاقی‘ رویے کا الزامات لگاتے ہوئے یہ بھی لکھا کہ انھوں نے دوسرے لوگوں کا تخلیقی کام چرایا ہے اور ’جعلی‘ عملہ بنایا ہوا ہے۔
کپمنی کے حقیقی ملازمین کے لیے یہ انکشافات ہوش اڑا دینے والے تھے۔ انہیں لگا کہ وہ کپمنی کے لیے جو کام کر رہے تھے وہ تو تمام جھوٹ تھا۔
اب انھیں محسوس ہونے لگا کہ وہ گذشتہ کئی ماہ سے جو محنت کرتے رہے ہیں اور کپمنی کو جتنا وقت دے چکے ہیں، اس کا تو کوئی معاوضہ نہیں ملے گا۔
یہ بھی پڑھیے
یہی وہ وقت تھا جب بی بی سی نے میڈبرڈ کے سارے معاملے کی تحقیق کرنا شروع کی۔ اس دوران ہم نے نہ صرف جین سمتھ کی ای میل میں لگائے گئے الزامات کی تصدیق کی، بلکہ مزید چھان بین بھی کی۔
جھوٹے اور چُرائے ہوئے پروفائل
ہمیں معلوم ہوا کہ کپمنی کا یہ دعویٰ جھوٹ تھا کہ ’ہم گذشتہ دس برس سے مقامی اور عالمی سطح پر اپنی مصنوعات فروخت کرنے کا تجربہ رکھتےہیں۔‘
اس کے برعکس حقیقت یہ تھی کہ علی ایاد برطانیہ میں قاونی طور پر اپنی کمپنی کا اندارج اُسی دن کرایا تھا جس دن انھوں نے سیلز مینجر کے عہدے کے لیے کِرس ڈوسی کا انٹرویو کیا تھا، یعنی 23 ستمبر2020 کو۔
میڈبرڈ کے سینیئرمینجروں میں کم از کم چھ ایسے تھے جو جعلی تھے، یعنی اصل میں ان کا کوئی وجود نہیں تھا۔ ان کی شناخت انٹرنیٹ پر موجود مختلف لوگوں کی تصاویر چرا کر بنائی گئی تھیں اور ان کے نام بھی خود ہی بنائے گئے تھے۔
کپمنی کے ان کرتا دھرتا جعلی افراد میں میڈ برڈ کے شریک بانی ڈیو سٹینفلیڈ بھی شامل تھے، حالانکہ لِنکڈ ان پر ان کا ایک نیا وفائل بھی موجود تھا اور علی ہر وقت ان کا ذکر کرتے رہتے تھے۔
دھوکہ کھا جانے والے عملے کے کچھ لوگ تو اس جعلی بانی کی طرف سے ای میلز بھی وصول کر چکے تھے۔
ایک ملازم کو علی یہ بھی کہہ چکے تھے کہ اگر وہ ڈیو سے رابطہ کرنا چاہتے ہیں تو انھیں ای میل بھیج دیں کیونکہ وہ نائیکی کے ساتھ کسی پراجیکٹ میں اس قدر مصروف ہیں کہ وہ فون بھی نہیں اٹھا سکتے۔
اپنی تحقیق میں چہرہ شناخت کرنے والی (فیشل ریکگنیشن) ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہمیں یہ بھی معلوم ہو گیا کہ ڈیو سٹینفیلڈ کی جو تصویر زوم میٹنگز میں دکھائی جاتی تھی وہ اصل میں چیک ریپبلک کے شہر پراگ میں مقیم مچل کیلس کی ہے جو شہد کی مکھیوں کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ جب ہم نے ان سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے تو میڈبرڈ، علی ایاد یا ڈیو سٹینفلیلڈ کا نام تک نہیں سنا۔
ان جعلی مینجروں میں ایک اور نام نائجل وائٹس کا تھا۔ یہ نام استعمال کرنے والا شخص جنوری میں ہونے والی زوم کال میں بھی موجود تھا، لیکن اس کی تصویر کسی گرافِک ڈیزائنر کی نہیں تھی بلکہ یہ ایک ماڈل کی تصویر تھی جو گوگل سے چرائی گئی تھی۔
جب ہم نے 'جِنجر مین' کے الفاظ سے گوگل پر تصویریں تلاش کی تو سب سے پہلے سامنے آنے والی تصویروں میں اس شخص کا چہرہ بھی شامل تھا۔ اس شخص کا چہرہ انٹرنیٹ پر ہر جگہ موجود تھا۔
ہم نے ان تمام 42 افراد سے بھی رابطہ کیا جن کے بارے میں میڈبرڈ کا دعویٰ تھا کہ یہ لوگ ماضی میں کمپنی کے لیے کام کر چکے ہیں۔ ان میں سے جن افراد نے ہماری درخواست کا جواب دیا، ان میں ایک بھی ایسا نہیں تھا جس نے کبھی بھی میڈورڈ میں کام کیا ہو۔
جب ہم نے اس معاملے کی مزید کھوج لگائی تو علی کی اپنی کہانی بھی جھوٹ نکلی۔ ان کے دعوے کے برعکس علی نے کبھی بھی نائیکی کے ساتھ 'کریئٹِو لِیڈ' کی حیثیت سے کام نہیں کیا تھا۔
نائیکی نے ہمیں تحریری شکل میں تصدیق کی کپمنی نے کبھی بھی علی ایاد نامی شخص کو ملازم نہیں رکھا اور نہ ہی اس سے ملتے جلتے (عرفی) نام کے کسی اور شخص کو۔
اور پھر باری آئی علی کے انسٹاگرام اکاؤنٹ کی جہاں انھوں نے اپنے 90 ہزار سے زیادہ مداحوں کو یہ بتایا ہوا تھا کہ ایک ماڈل اور انفلوئنسر کی حیثیت سے وہ کیا کچھ کر چکے ہیں اور اب بھی کر رہے ہیں۔
میڈبرڈ کے ملازمین کے دھوکہ کھانے اور علی کو سراہنے کی ایک بڑی وجہ انسٹاگرام پر علی کا اکاؤنٹ تھا۔ لیکن حقیقت یہ تھی کہ علی انسٹاگرام پر اپنی زندگی کی جو تصویر پیش کر رہے تھے، وہ ان کی حقیقی زندگی سے کوسوں دور تھی۔
انسٹاگرام پر ان کی ایک پوسٹ پر ہماری توجہ خاص طور پر مرکوز ہو گئی۔
اس تصویر میں علی ایاد مشہور فیشن میگزین 'جی کیو' کا صفحہ کھول کے دکھا رہے تھے جہاں وہ سپین کے معروف برینڈ 'ماسیمو دُتی ' کی جیکٹ پہنے ماڈلنگ کر رہے تھے۔
لیکن جب ہم نے جی کیو کا وہ شمارہ لیکر اس کا صفحہ نمر 63 کھولا تو وہاں علی کی کوئی تصویر نہیں تھی، بلکہ اس اس صفحے پر تو ایک گھڑی کا اشتہار تھا۔
تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ علی ایاد نے نہ تو کبھی ماسیمو دُتی کے لیے ماڈلنگ کی تھی اور نہ ہی 'جی کیو' میں ان کی کوئی تصویر کبھی شائع ہوئی تھی۔
جب میڈبرڈ کے عملے کو معلوم ہوا کہ ان کے ساتھ دھوکا ہوا ہے تو انھیں شدید دھچکا لگا۔ ان میں سے کچھ تو ایسے تھے جو تنخواہ کے بغیر چھ چھ ماہ کام کر چکے تھے۔
یہ لوگ آج بھی بیروزگار ہیں اور وبا کے اس دور میں شدید مالی مشکلات سے کا شکار ہیں۔ وہ تو یہ بھی نہیں بتا سکتے کہ ان کے ساتھ ہوا کیا ہے۔
اپنی پہلی تنخواہ کے انتظار میں سیلز مینیجر کرِس ڈوسی ماہانہ بِل ادا کرنے کے لیے اپنے کریڈٹ کارڈ پر دس ہزار پاؤنڈ کا قرض لے چکے تھے۔
دوسرے ممالک میں کمپنی کے ملازمین کا حال شاید اس بھی برا تھا۔ انڈیا کے شہر چنئی سے تعلق رکھنے والے ایلوس جان کو ایک وقت یہ لگ رہا تھا کہ کچھ ہی عرصے میں وہ برطانیہ روانہ ہو جائیں گے۔
ان کی چھ ماہ کی پروبیشن ختم ہونے میں چند ہی ہفتے باقی رہ گئے تھے اور انھیں پوری امید تھی کہ علی ان کا ویزا سپانسر کر دیں گے۔ لیکن جب انھیں جین سمتھ کی ای میل ملی وہ ذہنی ڈپریشن میں چلے گئے۔ ان کا کہنا تھا ’میرے تمام خواب چکنا چور ہو چکے تھے۔‘
ان دنوں ایلوس جان چونکہ دبئی میں کام کر رہے تھے، اس لیے ان کے لیے مسائل شدید بڑھ گئے۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ میڈبرڈ کے نمائندے کے طور پر کوئی سودا طے کر دیتے تو دبئی کے سخت قوانین کی وجہ سے انھیں لینے کے دینے پڑ سکتے تھے، اور قید کی سزا ہو سکتی تھی یا انھیں واپس انڈیا بھجوا دیا جاتا۔
ایلوس کے بقول 'مجھے نہیں معلوم علی کو کبھی بھی یہ سمجھ آئے گی اس نے ہم سب کو کتنی بڑی مصیبت میں ڈال دیا تھا۔' ایلوس سمجھتے ہیں علی نے یہ سب کچھ ایسے کیا جیسے یہ کوئی کھیل ہو۔
بہت سے ملازمین شرمندہ تھے کہ ان کے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ ہو گیا ہے۔ یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے کئی دنوں اور ہفتوں تک اپنے دوستوں اور خاندان والوں سے یہ بات چھپائے رکھی۔
اور دیگر لوگوں کے لیے کسی دوسرے شخص کو یہ سارا معاملہ سمجھانا بھی مشکل ہو رہا تھا۔ وہ جب بھی بتانے کی کوشش کرتے کہ ان کے ساتھ کیا ہوا، لوگ ایسے سوال پوچھتے جن کے جواب دھوکہ کھا جانے والے عملے کے پاس نہیں تھے۔
کیا علی کو اپنے کیے کے نتائج کا علم ہوا؟
کافی عرصے تک علی کا یہی کہنا تھا کہ وہ اپنا مؤقف بتانا چاہتے ہیں کہ یہ تمام واقعات کیسے ہوئے۔ کی ماہ تک ہمارے اور علی ایاد کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہوتا رہا اور آخر کار وہ بی بی سی کے دفتر آ کر کیمرے کے سامنے انٹرویو دینے پر آمادہ ہو گئے۔
تاہم پھر ایک ہی دن پہلے انھوں نے آنے سے انکار کر دیا۔ اگر ہمیں علی کا مؤقف لینا تھا تو ہمارے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا کہ ہم ان سے رابطے کی کوشش کرتے رہیں۔
علی سے آمنا سامنا
آخر گذشتہ برس اکتوبر میں ایک دن لندن کی ایک سڑک روک لیا ہمارا علی سے ٹاکرا ہو ہی گیا۔ انھوں نے سیاہ رنگ کی چمڑے کی جیکٹ پہن رکھی تھی اور وہ ایک ٹیوب سٹیشن کی جانب جا رہے تھے۔
اگر وہ ہمیں دیکھ کر حیران ہوئے بھی تھے تو بھی انھوں نے ظاہر نہیں ہونے دیا، اور جب ہم نے سوال پوچھنا شروع کیے تو پہلے پہل انھوں نے ہمیں نظرانداز کرنے کی کوشش کی۔لیکن کچھ دیر بعد وہ مجبوراً ہمارے سوالوں کا جواب دینے لگے۔
علی کا اصرار تھا کہ وہ کوئی بھلے کا کام کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ 'میں صرف یہ جانتا ہوں کہ ہم نے کووڈ کے دنوں میں لوگوں کے لیے کچھ اچھے مواقع پیدا کیے۔
جب ہم نے ان پر الزام لگایا کہ انھوں نے جعلی اکاؤنٹ بنائے اور دوسرے لوگوں کے کاموں کو چرایا، تو وہ غصے میں آ گئے۔
’میں نے ایسا کیا؟‘
’آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ میں نے ایسا کیا ہے؟‘
کیا علی یہ کہنا چا رہے تھے کہ کوئی اور شخص اس میں ملوث تھا؟
لیکن جب ہم نے اپنی بات پر اصرار کیا، تو انھوں نے کسی دوسرے شخص کا نام نہیں بتایا۔
اس بات کا امکان ہمیشہ تھا کہ اس معاملے کے پیچھے شاید کوئی اور ماسٹر مائنڈ بیٹھا ہوا تھا، اور یہ ایک ایسی چیز تھی جس کے بارے میں ہم شروع سے غور کر رہے تھے۔ لیکن چونکہ علی نے کبھی کسی کا نام نہیں لیا اور نہ کوئی مدد کی، اس لیے ہم اس حوالے سے مزید تحقیق کرنے سے قاصر رہے۔
علی کا یہ بھی اصرار تھا کہ میڈ برڈ کا ایک اپنا دفتر بھی تھا لیکن جب ہم نے بار بار پوچھا کہ وہ دفتر کہاں ہے، تو علی نے بات بدل دی اور یہ کہا کی ان کی مراد ورچوئل آفس تھی۔ دفتر کے لیے 'ضروری نہیں کہ آپ کے پاس کمپیوٹرز اوردوسری چیزیں موجود ہوں، ہے ناں؟‘
'یہ تو ہے ہی ایک ڈیجیٹل کمپنی۔'
اس کے بعد علی نے ہمارے سوالوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔
جب تک علی ہمارے سوالوں کے جواب نہیں دیتے، ہم کبھی بھی یقین سے نہیں کہہ سکیں گے کہ علی ایاد نے آخر میڈبرڈ بنائی کیوں تھی۔
جن لوگوں نے علی کے ساتھ آن لائن بہت سا وقت گزارا اور ای میلز کا تبادلہ کرتے رہے، ان کے ذہن میں دو چیزیں آتی ہیں۔
پہلا خیال یہ ہے کہ علی نے یہ تمام حربے ایک کاروبار شروع کرنے کے لیے کیے تھے۔
ہو سکتا ہے کہ اس کا آغاز جھوٹ سے ہوا ہو، لیکن ہو سکتا ہے آنے والے دنوں میں میڈبرڈ واقعی سودے کرنے میں کامیاب ہو جاتی اور یوں اسے پیسے ملنا شروع ہو جاتے۔ عملے کا خیال تھا کہ کمپنی چند ہی دنوں میں مختلف خریداروں کےساتھ معاہدوں پر دستخط کرنے ہی والی تھی، لیکن سب کچھ بکھر کے رہ گیا۔
ان لوگوں کا خیال ہے کہ اگر یہ چھوٹ نہ پکڑے جاتے تو ہو سکتا ہے کسی کو کبھی معلوم ہی نہ ہوتا کہ میڈبرڈ کا آغاز کیسے ہوا تھا اور لوگ اس کپمنی کے ساتھ کاروبار کرتے رہتے۔
اس حوالے سے دوسرا نظریہ یہ ہے کہ علی ایاد شاید اس کمپنی کے ذریعے صرف پیسے نہیں کمانا چاہتے تھے۔
ہو سکتا ہے علی کو یوں آن لائنباس بن کر مزا آتا ہو۔ لگتا ہے کہ جب وہ یہ کپمنی چلا رہے تھے تو وہ بہت خوش تھے۔ وہ جب ملازمت کے خواہشمند کسی شخص سےآن لائن انٹریو لیتے تھے تو اکثر یہ انٹرویو ایک گھنٹے سے زیادہ جاری رہتا۔
زوم میٹنگز میں بھی وہ اکثر بتاتے کہ وہ لوگوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کو اجاگر کر کے اور انھیں نئے مواقع فراہم کر کے ان کی زندگی بدل چکے ہیں۔
وہ اپنے عملے کے لوگوں کو اکثر انٹرنیٹ لِنک بھیجتے اور کہتے کہ کام کرنے کے ساتھ ساتھ یہ میوزک بھی سنا کرو۔ وہ ایک ہر دلعزیز اور ’کُول‘ باس بننا چاہتے تھے، اور یہ سچ ہے کہ جتنا عرصہ یہ آن لائن کمپنی چلتی رہی، ان کے عملے کے لوگ انھیں ایک کول باس ہی سمجھتے تھے۔
کورونا وائرس کی عالمی وبا نے بہت سے لوگوں کے کام کرنے کے طریقوں کو بدل دیا ہے اور اب کمپیوٹر سکرین کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ کرنا معمول بن چکا ہے۔ علی ایاد نے اسی چیز سے فائدہ اٹھایا۔
لگتا ہے وہ ایلون مسک بننا چاہتے تھے، جو ان کے ہیرو بھی ہیں۔ ان کا خیال یہی تھا کہ میڈبرڈ بنا کر وہ اپنی منزل پر جلد پہنچ جائیں گے، ایک ایسی دنیا میں جہاں لوگ حقیقی دنیا کی بجائے صرف ان کی آن لائن شناخت کو ہی دیکھیں گے۔
علی نے جو جوا کھیلا اس کا سب سے عجیب پہلو کیا ہے؟
جی ہاں یہ بات سچ ہے کہ جس دنیا میں ہم آج رہ رہے ہیں، وہاں علی کی آن لائن شناخت اپنا جادو تقریباً دکھا چکی تھی۔