لال بیگ کی افزائش: ’لوگ سمجھتے تھے میں پاگل ہوں، مگر اس کاروبار نے میری قسمت بدل دی‘

افریقی ملک تنزانیہ میں لال بیگ (کاکروچ) کی افزائش نسل کرنے والے کسان نے بی بی سی کو بتایا کہ کیسے اس کاروبار نے ان کی قسمت بدل کر رکھ دی ہے۔
لوسوئس کاوہگو کا کہنا ہے کہ ’جب میں نے لال بیگ کی فارمنگ (افزائش) شروع کی تو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ میں پاگل ہو گیا ہوں مگر اب اس کاروبار سے میری اچھی خاصی کمائی ہو جاتی ہے۔‘
اور اب ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ لال بیگ مشرقی افریقی ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔
گذشتہ ماہ تنزانیہ کی ایک معروف گلوکارہ اور ماڈل سومو ہمیسی کی ’غذائیت سے بھرپور لال بیگ‘ کھانے کی ایک ویڈیو بہت وائرل ہوئی تھی۔
اپنے سٹیج نام ’اُمی ڈول‘ سے شہرت حاصل کرنے والی گلوکارہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کیڑوں (لال بیگ) کا ذائقہ مچھلی اور سفید گوشت کے ذائقے جیسا ہوتا ہے اور ان کے مطابق انھوں نے لال بیگ کو روسٹ کرنے، کباب بنانے یا فرائی کرنے کے لیے کوکونٹ آئل کا استعمال کیا۔

کسان لوسوئس کاوہگو کا کہنا ہے کہ اب تنزانیہ کے باہر سے گاہک ان سے لال بیگ خریدنے کے لیے معلومات حاصل کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ابھی تک تنزانیہ میں بھی لال بیگ کی افزائش کے کاروبار کو کسانوں کی اکثریت نے تسلیم نہیں کیا ہے۔
اُن کا کہنا ہے کہ ’میری خواہش ہے کہ زیادہ لوگ اس کام میں دلچسپی لیں تاکہ ہم ان کی بڑی تعداد مارکیٹ کو مہیا کر سکیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ کچھ کیڑوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ دنیا میں سب سے زیادہ صحت بخش اور غذائیت سے بھرپور خوراک ہیں۔
کیڑوں کی تقریباً 20,000 انواع ایشیا، لاطینی امریکہ اور یہاں تک کہ افریقہ کے کچھ حصوں میں بسنے والی قومیں کھاتی ہیں۔ تنزانیہ میں بہت سی انواع کے کیڑے، ٹڈے اور پسو کھائے جاتے ہیں۔
دارالسلام کے مہمبیلی نیشنل ہسپتال کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ اگر لال بیگوں کی صحیح طور پر افزائش کی جائے تو ان میں موجود غذائیت کا عنصر بڑھ جاتا ہے۔
ماہر غذائیت سکولیسٹیکا ملِنگا نے بی بی سی کو بتایا کہ لال بیگ میں بڑی غذائیت، چربی، وٹامن بی 12 اور زنک کی مقدار پائی جاتی ہے جو قوت مدافعت کو بڑھانے میں مدد دیتی ہے۔
خیال رہے کہ ویکی پیڈیا میگزین کے مطابق ایشیا میں دواسازی کی صنعت اور کاسمیٹکس کمپنیاں کیڑوں کی اصل خریدار ہیں۔ صنعت میں اس کی اہمیت کی وجہ سے کاسمیٹک کمپنیاں بیٹل کے پروں کے سیلولوز کے معیار کو ایک خاص قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔









