آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ملکہ الزبتھ دوم: اُس مکان کا معمہ جہاں ’کِھلی رنگت اور خوبصورت بالوں والی‘ ملکہ برطانیہ پیدا ہوئیں
- مصنف, شان کوکلین
- عہدہ, بی بی سی نیوز روئیل کورسپونڈنٹ
وہ مکان کہاں واقع ہے جہاں ملکہ برطانیہ کی پیدائش ہوئی تھی؟ کیا برطانیہ میں سیاحت کی غرض سے جانے والے افراد اُس مکان کو غلط جگہ پر تلاش کر رہے ہیں؟ اور کیا یہ دعوے درست ہیں کہ جنگ کے دوران اُس مکان کو نقصان پہنچا تھا؟
ملکہ برطانیہ 21 اپریل 1926 کو لندن کے علاقے میئر میں واقع مکان 17، بروٹن سٹریٹ میں پیدا ہوئیں۔ یہ نہ تو محل تھا، نہ کوئی بڑی جاگیر، حتٰی کہ ہسپتال بھی نہیں، بلکہ لندن کی ایک مصروف سڑک پر بنا ہوا ایک مکان جس کی دیواریں ساتھ والے مکانوں سے جڑی ہوئی تھیں۔
ملکہ کے والدین اُن کی ولادت سے چند ہفتے قبل ہی یہاں منتقل ہوئے تھے اور یہ اُن کے سکاٹِش نانا، نانی ارل اور کاؤنٹس آف سٹریتھمور کی ملکیت تھا۔
شاہی مؤرخ رابرٹ لیسی کا کہنا ہے کہ ’یہ اس بات کی نشانی ہے کہ اُن دنوں شاہی خاندان زیادہ خوشحال نہیں تھا۔‘
یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اُس وقت وہ ملکہ بننے کے لیے پیدا نہیں ہوئی تھیں کیونکہ وہ بادشاہ کے چھوٹے بیٹے کی اولاد تھیں اور اُن کے تخت پر بیٹھنے کا امکان کم تھا۔
کیا مکان بمباری کا نشانہ بنا؟
وہ گھر جہاں ملکہ کی پیدائش ہوئی تھی اب موجود نہیں ہے اور آن لائن ایسے دعوے تواتر کے ساتھ سامنے آتے رہے ہیں کہ وہ مکان دوسری عالمی جنگ کے دوران ہونے والے فضائی حملوں کے نتیجے میں نقصان پہنچا تھا۔
مثلاً وکی پیڈیا میں لکھا ہے کہ ’مکان کو بمباری سے نقصان پہنچا تھا اور بعد میں اسے مسمار کر دیا گیا تھا۔‘
مگر برِٹش لائبریری اور دوسرے آرکائیوز میں موجود دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ 18ویں صدی میں تعمیر ہونے والا یہ مکان درحقیقت دوسری عالمی جنگ سے کہیں پہلے ختم ہو چکا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دراصل یہ پراپرٹی ڈویلپرز تھے جو فضائی حملوں سے زیادہ سنگ دل ثابت ہوئے اور ملکہ کے پہلے مکان کو زمین بوس کر ڈالا۔
سنہ 1937 میں فراک کوٹ اور ٹاپ ہیٹ پہنے ایک شخص نے 17، بروٹن سٹریٹ اور برکلے سکوائر کے نُکڑ تک بنے ہوئے ملحقہ مکانات کو گرانا شروع کر دیا۔
پہلے تو اس جگہ پر کینیڈین پیسیفک ریلوے کے لیے ہوٹل بنانے کا منصوبہ تھا، مگر بعد میں یہاں بڑے دفاتر اور ریٹیل کامپلکس بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
یہ وہ وقت تھا جب لوگوں کو فن تعمیر کے ورثے اور تاریخی اہمیت سے کسی طرح کا جذباتی لگاؤ نہیں تھا۔ پچھتاوے کے کسی شائبے کے بغیر عمارتوں کو گرانے والی کمپنیوں نے یہاں بنے مکانات کو، جنھیں اس وقت کی ایک رپورٹ میں ’لندن کے 20 سب سے تاریخی مکانات‘ قرار دیا گیا تھا، زمین پر ڈھیر کر دیا۔
زمانۂ جنگ کے مصور سر مؤیرہیڈ بون نے ایک دلخراش تصویر میں مزدوروں کے ہاتھوں ان شاندار عماروں کے سامنے کے حصے گرائے جانے کی منظر کشی کی ہے۔
اس کے علاوہ لندن میٹروپولیٹن آرکائیو میں موجود سنہ 1939 کے ایک سرویئر نوٹ میں 17، بروٹن سٹریٹ کی فائل اس توثیق کے ساتھ بند کر دی گئی تھی کہ پرانا گھر مسمار کیا جا چکا ہے اور ’اس کی زمین اب اس پلاٹ کا حصہ ہے جس پر برکلے سکوائر ہاؤس تعمیر کیا گیا ہے۔‘
ایسٹریا نامی اس فرم کا، جو اس وقت برکلے سکوائر ہاؤس کا انتظام کرتی ہے، کہنا ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے دوران اس جگہ بنی عمارت ایئر منسٹری کے پاس تھی۔
کیا اب اس جگہ چائنیز ریسٹورنٹ ہے؟
ملکہ کی جائے پیدائش کے بارے میں ایک اور دعوٰی یہ سامنے آیا ہے کہ اب اس جگہ پر چائنیز ریسٹورنٹ ہے۔
یہ کہانی بھی نامکمل ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ہکّاسن ریسٹورنٹ کا پتہ بھی 17، بروٹن سٹریٹ ہے۔ پھر اسی بلاک میں تختے لگے ایک آفس کا پتہ بھی یہ ہی ہے۔ اس کی برابر ہی میں کسی تجارتی فرم کا شیشہ لگا استقبالیہ بھی موجود ہے۔ یہ سب ایک ایسی جگہ پر تعمیر کیے گئے ہیں جہاں 1920 کی دہائی میں نجی مکانات ہوا کرتے تھے۔
وہ جگہ جو اصلی 17، بروٹن سٹریٹ کے سب سے زیادہ قرین از قیاس لگتی ہے وہ برکلے سکوائر ہاؤس میں ایک غیر معروف بزنس فرم کا بغلی دروازہ ہے۔
کار شوروم
لندن میٹروپولیٹن آرکائیو میں پرانی فائلوں کے کئی بنڈل اور نقشے موجود ہیں جن میں اصل مکان کی تفصیل پائی گئی ہے۔
ان سے لگتا ہے کہ وہ گمشدہ مکان اسی داخلی دروازے کے پاس کہیں ہوا کرتا تھا اور پھیل کر آج کے اس کار شوروم تک جا پہنچتا تھا جس میں اب بُگاٹی اور بینٹلی کاریں فروخت ہوتی ہیں۔
مگر ملکہ کے اس پرانے مکان کے بڑے حصے پر اب شیشے والا استقبالیہ بنا ہوا ہے۔
یہاں نصب دو کتبے ملکہ کی جائے پیدائش کی نشاندہی کرتے ہیں، ان میں سے ایک ویسٹمنسٹر کاؤنسل کا نصب کردہ ہے۔ عمارت کی ساخت میں رد و بدل کی وجہ سے اب ان دنوں کتبوں کو اصل مقام کے ایک کونے میں لے جا کر لگایا گیا ہے۔
مگر ان میں سے کوئی بھی نیلے رنگ کا سرکاری کتبہ نہیں ہے کیونکہ انگلش ہریٹیج کے ترجمان کے بقول سرکاری کتبے اصل عمارتوں پر لگائے جاتے ہیں، اور ویسے بھی کسی زندہ شخصیت کے نام کے کتبے نہیں لگائے جاتے۔
ویسٹمنسٹر کاؤنسل کے شبعۂ منصوبہ بندی سے وابستہ ٹوبی کٹبرٹسن کا کہنا ہے کہ اس جگہ کا شمار اس وقت لندن کے ’اعلیٰ درجے‘ کے علاقوں میں ہوتا تھا، مگر اس سے زیادہ امیر وہ علاقے تھے جہاں مکانوں کے نمبر نہیں بلکہ نام ہوا کرتے تھے۔
جب سنہ 1926 میں ملکہ یہاں پیدا ہوئیں تو ان کے شاہی دادا دادی اسی روز انھیں دیکھنے اس مکان میں آئے تھے۔ ملکہ میری نے اپنی ڈائری میں لکھا کہ ان کی پوتی ’بہت پیاری، کِھلی رنگت اور خوبصورت بالوں والی) تھی۔
اسی جگہ وزیر داخلہ جوئسن ہِکس بھی آئے تھے، کیونکہ اس وقت کسی شاہی پیدائش کے موقع پر وزیر داخلہ کی موجودگی کا دستور قائم تھا۔ وہ اتنے آمریت پسند تھے کہ لوگ انھیں ’چھوٹا میسولینی‘ کہنے لگے تھے۔
یہ ہی وہ گھر تھا جہاں سے ملکہ کی والدہ الزبتھ بوزلاین سنہ 1923 میں شادی کے لیے نکلی تھیں۔ تقریباً تین سال بھی وہ اور ان کے شوہر اپنے پہلے بچے کی پیدائش کے لیے پھر اسی گھر میں آئے گئے۔
یہ مکان ہارلے سٹریٹ پر واقع سپیچ تھراپسٹ لائنل لوگ کے کلینک سے تھوڑی دوری پر واقع تھا۔ یہ وہ ہی معالج تھے جنھوں نے سنہ 1926 سے مستقبل کے بادشاہ کے ہکلانے کا علاج کیا تھا۔
سیاحوں سے روپوش
وہ زمانہ مے فیئر میں اونچے طبقے کی محفلوں اور فیشن کے دلدادہ افراد کے اجتماعات کا رہا ہو گا۔
مگر یہ سیاسی ہیجان انگیزی اور تلاطم کا وقت بھی تھا۔ ملکہ کی پیدائش کے چند ہفتے بھی ہی عام ہڑتال کا اعلان ہو گیا اور ان کے دادا شاہ جارج پنجم نے ہڑتالوں سے متعلق امرا کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اُن کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے اُن کی تنخواہ میں گزارا کر کے دیکھیں۔‘
ملکہ اور ان کے والدین اسی برس مرکزی لندن کے ایک دوسرے علاقے پکاڈیلی منتقل ہو گئے۔
اس وقت کے ایک اخباری تراشے کے مطابق ’ننھی شہزادی جس کمرے میں پیدا ہوئی ہے وہ سادہ مگر سب سے زیادہ روشن ہے۔‘
یہ مکان جہاں مستقبل کے ایک بادشاہ اور دو ملکاؤں نے سکونت اختیار کی تھی سیاحتی اعتبار سے زیادہ مقبولیت نہیں پا سکا۔
مؤرخ رابرٹ لیسی کا کہنا ہے کہ ’میرے خیال میں اس کی وجہ ملکہ کا شرمیلا پن ہے، وہ اپنا ڈھنڈورا نہیں پیٹتیں۔‘
موجودہ قیمت
یہ جگہ اب بھی شاہی جاگیر کا حصہ ہے، مگر ابو ظہبی کے شاہی خاندان کی جاگیر کا۔ کہا جاتا ہے کہ لندن کے اس حصے میں جائیداد کی قیمت پانچ ارب پاؤنڈ ہے۔
جنگ کے بعد اس علاقے میں رہنا لوگوں کی استطاعت سے باہر ہو گیا تو بہت سے مکانوں کو دفتروں میں بدل دیا گیا۔
مگر اب پھر سے دفاتر کی جگہ پرتعیش رہائشی اپارٹمنٹس لے رہے ہیں۔ پراپرٹی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر وہ مکان آج موجود ہوتا تو اس کی قیمت ڈھائی کروڑ سے دس کروڑ پاؤنڈ تک ہوتی۔
خفیہ عاشق
یہ مکان سنہ 1937 میں گِرا دیا گیا، اور غیر متوقع طور پر نوجوان الزبتھ اور ان کے والدین شاہی محل بکنگھم پیلس منتقل ہو گئے۔
سنہ 1936 میں اُن کے والد جارج ششم کی حیثیت سے بادشاہ بن گئے کیونکہ ان کے بھائی ایڈورڈ ہشتم ایک امریکی مطلقہ والس سِمپسن سے شادی کا فیصلہ کر لیا تھا۔
اس شاہی بحران کے دنوں میں سپیشل برانچ والوں نے مسز سِمپسن کے بارے میں خفیہ معلومات جمع کیں تو پتا چلا کہ گائے مارکس ٹرنڈل نامی ایک کار سیلزمین سے ان کا معاشقہ رہا تھا۔
اس کہانی میں ایک آخری دلچسپ موڑ یہ آیا کہ اس دلنشین تعلق کی تفصیلات جس پتے سے ملیں، وہ تھا 18 بروٹن سٹریٹ، جی ہاں وہ ہی جگہ جہاں اب بینٹلی کاروں کی ڈیلرشپ ہے۔