امریکہ میں ’تاریخ کے بدترین طوفانی بگولے‘: ’کینٹکی میں ہلاک شدگان کی تعداد 100 سے بڑھ سکتی ہے‘

امریکہ میں ریاست کنٹیکی کے گورنر کا کہنا ہے کہ ریاست کے متعدد شہروں اور قصبوں میں طوفان اور تیز ہواؤں کے بگولوں کی زد میں آ کر ہلاک ہونے والوں کی تعداد 100 سے بڑھ سکتی ہے۔

اب تک کینٹکی سمیت چھ ریاستوں میں ان بگولوں سے ہونے والی تباہی کے نتیجے میں 94 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں سے 80 افراد کینٹکی میں جبکہ 14 دیگر پانچ ریاستوں میں مارے گئے ہیں۔

جمعے کو آنے والے 30 بگولوں نے متعدد قصبات کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا اور امریکی صدر جو بائیڈن نے سب سے زیادہ متاثرہ ریاست کینٹکی میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔

گورنر اینڈی بشیر کا کہنا تھا کہ یہ ریاست کی تاریخ کا سب سے تباہ کن طوفان تھا اور وقت کے ساتھ ساتھ لاپتہ افراد کے زندہ بچ جانے کی امید بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔

ریاست کینٹکی میں کم از کم 80 افراد ان بگولوں کی زد میں آ کر ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے درجنوں ایک موم بتیاں بنانے والے کارخانے میں موجود تھے۔

کینٹکی کی لیفٹیننٹ گورنر جیکولین کولمین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ہر گزرتے گھنٹے کے ساتھ ہلاک شدگان کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’تعداد ابھی سامنے آ رہی ہے۔ ہماری ایمرجنسی ریسپانس ٹیمیں نقصان کا اندازہ لگا رہی ہیں اور جاننے کی کوشش کر رہی ہیں کہ کون زندہ بچا ہے۔‘

کینٹکی سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے رکن جیمز کومر کے مطابق ریاست کے سب سے متاثرہ علاقے مے فیلڈ میں تباہی مچانے والا بگولے سے بڑا بگولا آج تک نہیں دیکھا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ کسی بھی طوفان سے ہونے والی بدترین تباہی ہے جو کہ میں نے دیکھی ہے۔ یہاں اتنی لمبائی کے بگولے پہلے بھی آتے رہے ہیں لیکن اتنا چوڑا بگولا ہم نے آج تک نہیں دیکھا۔‘

پولیس نے کہا ہے کہ ریاست کے مغربی حصے میں اس طوفان سے بہت زیادہ نقصان ہوا ہے۔ شیرف میٹ سینڈرسن نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ہاپکنز کاؤنٹی میں تیز ہواؤں نے ایک مال بردار ٹرین کو پٹری سے اتار دیا۔

مےفیلڈ میں بگولے کا نشانہ بننے والے موم بتی بنانے کے کارخانے سے 40 افراد کو نکالا گیا ہے تاہم 60 سے زیادہ اب بھی لاپتہ ہیں اور کینٹکی کے گورنر اینڈی بیشیئر کا کہنا ہے کہ اب کسی کے زندہ بچنے کی امید نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سنیچر سے کوئی ملبے سے زندہ نہیں نکل سکا ہے۔

’اس کارخانے کی عمارت کے ملبے کے اوپر 15 فٹ ملبہ مزید موجود ہے جن میں خطرناک کیمیائی مادے بھی ہیں۔ اگر کوئی وہاں سے زندہ نکلا تو یہ ایک معجزہ ہی ہو گا۔‘

اینڈی بشیر کے مطابق ٹورنیڈو نے 227 میل کے علاقے میں تباہی مچائی ہے۔

امریکی صدر بائیڈن نے فیڈرل ایمرجنسی ڈیزاسٹر اعلامیے پر دستخط کر کے کینٹکی کے لیے ہنگامی امداد کی فراہمی کا راستہ کھول دیا ہے۔ امریکی صدر نے طوفانی بگولوں سے ہونے والی تباہی کو المیہ قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مے فیلڈ کے ایک رہائشی ٹونی میکر نے بگولوں کے علاقے کو نشانہ بنانے کا منظر دہراتے ہوئے بتایا ’اچانک سائرن بجے اور چند لمحوں بعد جیسے ہمارے کانوں کے پردے جیسے پھٹ گئے۔ ایسا لگا کہ ہمارا مکان اڑنے والا ہے۔ ایسا تھا جیسے کوئی بم پھٹا ہو۔ مجھے نہیں پتا کہ اس میں کوئی کیسے زندہ بچ سکتا ہے۔‘

حکام نے مے فیلڈ کو اس تباہی کا ’گراؤنڈ زیرو‘ قرار دیا ہے۔ اتوار کی صبح مے فیلڈ کا دورہ کرنے والی بی بی سی کی نامہ نگار نومیہ اقبال کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں داخل ہوں تو لگتا ہے کہ آپ کسی فلم کے سیٹ پر پہنچے ہیں جہاں تباہی کا منظر فلمایا جا رہا ہو۔

مکانات اپنے ہی ملبے تلے دفن ہیں۔ درخت جڑوں سے اکھڑے پڑے ہیں اور دس ہزار آبادی والے اس قصبے کا کچھ ہی حصہ باقی بچا ہے۔

طوفانی بگولوں سے ریاست الینوائے میں ایمازون کے ایک ویئر ہاؤس میں چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور پولیس کا کہنا ہے کہ تاحال یہ معلوم نہیں کہ کتنے کارکن لاپتہ ہیں تاہم 45 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔

ان بگولوں سے ریاست ٹینیسی میں چار، آرکنساس میں دو جبکہ میزوری میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔

ریاست ٹینیسی میں ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی کے ترجمان ڈین فلینر نے کہا ہے کہ شمال مغربی علاقوں لیک کاؤنٹی میں دو اور اوبئن کاؤنٹی میں ایک شخص کی ہلاکت ہوئی ہے۔

ریاست آرکنساس میں کریگ ہیڈ کاؤنٹی کے جج مارون ڈے کا کہنا ہے کہ ان طوفانوں کے بعد ایک نرسنگ ہوم میں 20 لوگ پھنس گئے تھے اور اس کی چھت گرنے سے ایک شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ پھنسے ہوئے لوگوں کو بچا لیا گیا تھا مگر یہ عمارت اب مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے۔

ان طوفانی بگولوں سے قبل امریکہ میں مارچ 1925 میں ریاست میزوری میں ایسا ایک طوفان آیا تھا جس نے 219 میل کے علاقے میں تباہی مچائی تھی اور اس واقعے میں 695 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تاہم ایسے طوفانی بگولوں کا موسمِ بہار اور موسم گرما کے علاوہ آنا نہ ہونے کے برابر ہے۔