آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پراسرار بینک ڈاکہ: امریکی پولیس کو مفرور بینک چور کی تلاش میں نصف صدی لگ گئی
امریکہ میں قانون نافذ کرنے والے حکام نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کی سب سے بدنام بینک ڈکیتیوں میں سے ایک کے مفرور ملزم کی 52 برس کی تلاش کے بعد شناخت کر لی گئی ہے۔
ٹیڈ کونراڈ امریکی ریاست اوہائیو کے شہر کلیولینڈ میں سوسائٹی نیشنل بینک میں بطور درزی کام کر رہا تھا جب اس نے جولائی 1969 میں اپنے آجر کو لوٹ لیا۔ وہ 215,000 ڈالرز لے کر غائب ہو گیا، جس کی آج کے دور میں مالیت 1.7 ملین ڈالرز تک بنتی ہے۔
امریکہ کی وفاقی پولیس کی تفتیش کے مطابق ٹیڈ کونراڈ نے اتنی رقم لوٹنے کے بعد ایک پُرسکون اور عام سی زندگی گزاری اور پھر رواں برس مئی میں پھیپھڑوں کا کینسر اس کی موت کا سبب بن گیا۔ ٹیڈ اس وقت صرف 20 سال کا تھا جب اس نے ڈکیتی کی تھی۔
اطلاعات کے مطابق اس نے بینک کی کمزور سیکیورٹی کا فائدہ اٹھایا اور جمعے کی شام کو برانچ بند ہونے کے بعد بھورے کاغذ کے تھیلے میں پیسے بھرے اور چلتا بنا۔
جب تک دوسرے بینک ملازمین کو دو دن صرف اس بات کا پتا چلانے میں لگے کہ رقم چوری ہو گئی ہے تب تک ٹیڈ کانراڈ غائب ہو چکا تھا۔
اس نے ایک ایسے تلاش کے سلسلے کو جنم دیا جو نصف صدی سے زیادہ عرصے تک جاری رہا اور امریکہ کے سب سے زیادہ مطلوب اور حل نہ ہونے والے پراسرار مقدمے کے طور پر ٹیلی ویژن شوز میں موضوع بحث بن گیا۔
امریکہ کی وفاقی پولیس کے مطابق ٹیڈ کونراڈ نے مبینہ طور پر اپنے دوستوں کو بینک لوٹنے کے منصوبے کے بارے میں بتایا تھا اور اس بات پر فخر کیا تھا کہ یہ کرنا کتنا آسان ہوگا۔ مبینہ طور پر وہ 1968 کی اسٹیو میک کیوین کی ڈکیتی فلم، تھامس کراؤن افیئر کے جنون میں مبتلا تھا اور اس نے ڈکیتی کی تیاری کے دوران اسے ایک درجن سے زیادہ بار دیکھا۔
پولیس کا کہنا ہے جب ٹیڈ لاپتہ ہوئے جو پہلا کام اس نے کیا وہ اپنا نام تبدیل کر کے تھامس رینڈیل رکھ لیا اور جرم کے مقام سے 1000 کلومیٹر دور بوسٹن کے مضافاتی علاقے میں آباد ہونے سے قبل واشنگٹن ڈی سی اور لاس اینجلس فرار ہو گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تفتیش کاروں کے مطابق بینک چوری کے بعد ٹیڈ نے ایک بہت پرسکون اور عیاشی کی زندگی بسر کی اور نیو یارک ٹائمز کے مطابق ٹیڈ نے چالیس برس ایک گالف پروفیشنل اور پرانی کاروں کو فروخت کرنے والے ڈیلر کے طور پر گئے تھے۔
کئی دہائیوں تک اس مقدمے پر کوئی پشرفت نہ ہو سکی اور یہ سرد خانے کی نظر رہا۔ تاہم پولیس اس وقت حرکت میں آئی جب ایک اخبار میں ٹیڈ کے ان کے تبدیل شدہ نام سے ان کی موت کے بعد ان کی زندگی پر مضمون شائع ہوا۔ پولیس نے جو کاغذات سنہ 1960 کی دہائی کے دوران دائر کیے تھے دستاویزات کے ساتھ موازنہ کیا جو ٹیڈ نے حال ہی میں مکمل کیے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
ستم ظریفی یہ ہے کہ اس میں سنہ 2014 میں بوسٹن کی عدالت میں ٹیڈ کے دیوالیہ پن کے مقدمے کے کاغذات بھی شامل تھے۔
بینک ڈکیتی کو ایسی انوکھی داستان جس کی تفتیش والد نے شروع کی اور پھر ان کی موت کے بعد امریکی پولیس میں ان کے بیٹے نے اس کا سراغ لگایا۔
پولیس افسر پیٹر ایلیٹ اس کیس کے اہم تفتیش کاروں میں سے ایک تھے۔ انھیں یہ مقدمہ اپنے والد جان سے وراثت میں ملا تھا، جو یہ جاننے کے جنون میں مبتلا تھے کہ اس بہادر چور کا آخر کیا بنا۔
پیٹر ایلیٹ کے مطابق ’میرے والد نے ٹیڈ کانراڈ کی تلاش کے عمل کو کبھی نہیں روکا اور وہ ہمیشہ 2020 میں اپنی موت اس مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے متمنی رہے۔
’مجھے امید ہے کہ میرے والد اپنی امریکی پولیس کی تحقیقات کے بارے میں یہ جان کر آج تھوڑا سکون میں ہوں گے کہ بالآخر یہ پراسرار مقدمہ کئی دہائئوں بعد اختتام پذیر ہوا۔