سوڈان میں سویلین حکومت تحلیل ’وزیراعظم عبداللہ ہمدوک سمیت متعدد سیاسی رہنما گرفتار‘

افریقی ملک سوڈان میں فوج نے سویلین حکومت کو تحلیل کر کے عبوری وزیر اعظم عبداللہ ہمدوک سمیت متعدد سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کر لیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق فوج نے پیر کی صبح سے کچھ وقت قبل دیگر رہنماؤں کے علاوہ وزیر اعظم عبداللہ ہمدوک سمیت چار وزرا کو بھی حراست میں لے لیا۔

فوج نے ملک میں ایمرجنسی کا نافذ کرکے حکومت کو چلانے کےلیے ایک مشترکہ کونسل کے قیام کا اعلان کیا ہے جس کی سربراہی جنرل عبدالفتح برہان کر رہے ہیں۔

جنرل عبدالفتح برہان نے سویلین حکومت کو تحلیل کرنے کی وجہ میں ملک میں جاری سیاسی چپقلش تھی۔

سوڈان میں فوجی اور سیاسی رہنماؤں کے درمیان طویل عرصے سے مخاصمت چلی آ رہی تھی۔

سوڈانی فوج سنہ 2019 میں صدر عمرالبشیر کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ عبوری حکومت میں شریک اقتدار ہے۔

فوج نے کئی گروپس کے سیاسی اتحاد فورسز فار فریڈم اینڈ چینج (ایف ایف سی) کے ساتھ اقتدار میں شریک ہونے کے لیے ایک ڈیل کی تھی جس کے بعد ایک آزاد کونسل کا قیام عمل میں لیا گیا۔

فوج کی جانب سے سویلین حکومت کو تحلیل کیے جانے کے بعد لوگ دارالحکومت خرطوم کی سڑکوں پر احتجاج کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ شہرمیں گولیاں چلنے کی بھی اطلاعات ہیں۔

پیر کے روز سامنے آنے والی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مظاہرین نے ایک چیک پوسٹ کو آگ لگا دی ہے اور فوجی ہیڈکواٹرز کے نزدیکی علاقوں میں داخل ہوتے ہوئے دیکھے جا سکتےہیں۔

سوڈان کی وزارتِ اطلاعات کے فیس بک صفحے پر ایک پیغام میں ملک کے وزیراعظم عبداللہ ہمدوک نے بھی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پرامن مظاہرے کریں اور ’انقلاب کا تحفظ‘ کریں۔ وزیراعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کی افواج نے انھیں ان کے گھر میں قید کر دیا ہے اور ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ فوجی بغاوت کے حق میں بیان دیں۔

وزارتِ اطلاعات کی جانب سے ایک اور پیغام میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے ایسا بیان جاری کرنے سے انکار کے بعد انھیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کو ایک عینی شاہد نے کہا ہے کہ عام لوگوں کی آمدورفت کو محدود رکھنے کے لیے شہر میں فوج اور نیم فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ خرطوم ایئرپورٹ کو بند کر دیا گیا ہے جبکہ پروازوں کو معطل کر دیا گیا ہے۔

سوڈان میں 2019 میں صدر عمرالبشیر کی اقتدار سے علیحدگی کے بعد فوج اور سیاسی رہنماؤں کی کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا تھا جس کا کام ملک میں ایک سال بعد انتخابات کراکے اقتدار سیاسی جماعتوں کے حوالے کر نا تھا۔ مگر اس معاہدے پر عمل نہیں ہو سکا کیونکہ ایک طرف حریف سیاسی گروہ تھے اور دوسری طرف خود فوج کے اندر تقسیم موجود تھی۔

ستمبر میں سابق صدر کے پیروکاروں کی طرف سے بغاوت کی کوشش ناکام بنانے کے بعد کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ اس مہینے سوڈان میں جمہوریت کی بحالی کے مخالفین خرطوم کی سڑکوں پر نکل آئے اور فوج سے ملک کا اقتدار سنبھالنے کا مطالبہ کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے

جمہور نواز گروپس کا مؤقف ہے کہ یہ فوج کی طرف سے دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کی ایک منظم کوشش تھی۔

گذشتہ جمعرات کو دسیوں ہزاروں افراد نے عبوری حکومت کے ساتھ اظہار یکجہتی دکھانے کے لیے خرطوم میں مظاہرہ کیا۔

حالیہ مہینوں میں عبوری حکومت کی حمایت میں کمی آئی ہے کیونکہ ملکی معیشت دباؤ میں ہے۔

امریکہ نے کہا ہے کہ سوڈان میں فوجی بغاوت کی خبریں پریشان کن ہیں۔ امریکی نمائندے جیفری فیلٹمین نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ فوج کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کی کوئی بھی کوشش ناقابلِ قبول ہو گی اور اس اقدام سے ملک کے لیے امریکی امداد خطرے میں پڑ جائے گی۔

سوڈان کی تاریخ میں فوج کا کردار

1956 میں سوڈان کی آزادی کے بعد سے ہی ملک کی سیاست میں مسلح افواج نے اہم کردار ادا کیا ہے:

آزادی کے صرف دو سال بعد ہی 1958 میں چیف آف سٹاف میجر جنرل ابراہیم آبود نے ایک خونی بغاوت کے بعد اقتدار پر قبضہ کر لیا۔

1964 کی ایک مقبول بغاوت نے فوج کو اقتدار چھوڑنے پر مجور کر دیا۔

تاہم 1969 میں کرنل جعفر النیمیری کی سربراہی میں ایک اور بغاوت کے بعد اقتدار واپس فوج کے پاس آگیا۔ جعفر النیمیری کو خود کئی بغاوتوں کا سامنا رہا۔

1985 میں لیفٹیننٹ جنرل عبد الرحمان سوار الدحاب کی سربراہی میں فوجی سربراہان کے ایک گروہ نے النیمیری کو اقتدار سے نکال باہر کیا۔

ایک سال بعد الدحاب نے تمام اختیارات منتخب حکومت کے وزیراعظم الصادق الماہدی کے حوالے کر دیے۔

تین سال بعد جون 1989 میں بریگیڈیئر عمر البشیر کی سربراہی میں اسلامی فوجی سربراہان نے الماہدی کے غیر مستحکم اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔

30 سال سے عمر البشیر اقتدار میں ہیں اور ان کی حکومت کو کئی چیلنجز کا سامنا رہا ہے۔