آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شمالی کوریا میں اس سال کافی خوراک کیوں نہیں ہے؟
- مصنف, ریئلیٹی چیک اور بی بی سی مانیٹرنگ
- عہدہ, بی بی سی نیوز
شمالی کوریا کو ماضی میں بھی سنگین قسم کے قحط کا سامنا رہا ہے اور اب وہاں کے رہنما کم جونگ ان نے آنے والے دنوں میں کھانے کی شدید قلت کا انتباہ دیا ہے۔
اس انتہائی خفیہ ملک سے قابل اعتماد معلومات حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔
مگر ہم شمالی کوریا میں خوراک کی صورتحال کے بارے میں کیا جانتے ہیں اور اس سال یہ صورتحال اتنی خراب ہونے کا خدشہ کیوں ہے؟
کھانے کی قیمتوں کی کیا صورتحال ہے؟
خوراک کی قلت کے واضح اشاروں میں سے ایک بنیادی کھانے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔
شمالی کوریا کے اندر سے اپنے رابطوں کے ذریعے معلومات اکٹھا کرنے والی این کے ڈیلی ویب سائٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، فروری میں ایک کلو مکئی (مکئی) کی قیمت تیزی سے بڑھ کر 3137 ون (تقریباً 2 ڈالر کے برابر) ہوگئی۔
ایشیا پریس ویب سائٹ (جو ملک میں سمگل ہونے والے فون پر شمالی کوریائی باشندوں کے ساتھ بات چیت کرتی ہے) کے مطابق، جون کے وسط میں قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی سے اضافہ ہوا۔
شمالی کوریائی باشندے چاول کے مقابلے میں مکئی کو کم پسند کرتے ہیں، لیکن یہی زیادہ کھائی جاتی ہے کیونکہ یہ سستی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دریں اثنا دارالحکومت پیانگ یانگ میں ایک کلو چاول کی قیمت دسمبر 2020 کے بعد اب سب سے زیادہ ہے لیکن قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ہوتا رہتا ہے۔
شمالی کوریا کے ماہر بینجمن سلبرسٹین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کی قیمتوں پر نظر رکھنا معاشی سرگرمیوں کے بارے میں کچھ بہتر اعداد و شمار فراہم کرتا ہے کیونکہ بیشتر شمالی کوریائی باشندے اپنا کھانا اور دیگر ضروری سامان مارکیٹ سے خریدتے ہیں۔
’ریاست صرف بیوروکریسی کے ملازمین کو خوراک کا نسبتاً تھوڑا سا حصہ فراہم کرتی ہے۔‘
بیشتر گھرانوں کے لیے ریاست کی جانب سے مہیا کردہ راشن میں گزراہ ممکن نہیں ہوتا اور بڑے شہروں سے دور رہنے والوں کو مزید مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے لوگ زیادہ خوراک حاصل کرنے کے لیے گلی محلوں میں قائم غیر رسمی مارکیٹوں پر انحصار کرتے ہیں۔
’شدید موسم سے فصلوں کو نقصان پہنچا ہے‘
غذائی قلت سے متعلق انتباہ کرتے ہوئے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے پچھلے سال کی فصل پر طوفان اور سیلاب کے اثرات کا حوالہ دیا۔
پیرس میں قائم زرعی نگرانی کرنے والی تنظیم جی ای جی او ایل کے مطابق، 1981 کے بعد اپریل سے ستمبر 2020 تک شدید بارشیں ریکارڈ کی گئیں۔
جزیرہ نما کوریا طوفانوں کی زد میں آ گیا تھا، جن میں تین ایسے شدید طوفان شامل تھے جو اگست اور ستمبر میں دو ہفتوں کے اندر اندر زمین سرکنے کا باعث بنے، ان دنوں میں چاول اور مکئی کی کٹائی شروع ہوتی ہے۔
جون کے آخر تک خوراک کی کمی ہوسکتی ہے، کیونکہ حکومت کے پاس موجود میں موسمِ خزاں کی پچھلی فصلوں کا ذخیرہ کم ہونے لگتا ہے، خاص طور پر اگر فصل کی کٹائی متاثر ہوئی ہو۔
اگست کے شروع میں آنے والا ٹائفون ہاگوپیٹ ان چند طوفانوں میں سے ایک تھا جس سے ہونے والے نقصانات کے متعلق سرکاری میڈیا نے تفصیلی رپورٹ پیش کی تھی۔
اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ سیلاب سے 40000 ہیکٹر (100000 ایکڑ) فصلیں اگانے والی زمین اور 16680 مکانات تباہ ہو گئے ہیں۔
بعد میں آنے والے طوفانوں کے متعلق سرکاری میڈیا زیادہ معلومات دینے سے گریز کرتا آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
جنگوں کی کٹائی کے کئی دہائیوں بعد ان کے بدتر اثرات سامنے آئے ہیں۔
1990 کی دہائی کے معاشی بحران میں ایندھن کے لیے درختوں کی بڑے پیمانے پر کٹائی دیکھنے میں آئی اور درخت لگانے کی باقاعدگی سے مہمات کے باوجود، جنگلات کی کٹائی جاری ہے جس سے سیلابوں کی صورتحال بدتر ہو گئی ہے۔
گلوبل فاریسٹ واچ کی طرف سے مارچ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق سنہ 2019 میں 27500 ہیکٹر (68،000 ایکڑ) درختوں کا احاطہ ضائع ہوا جبکہ 2001 کے بعد سے مجموعی طور پر تقریباً 233000 ہیکٹر علاقہ ضائع ہوا۔
شمالی کوریا پر مبنی بلاگ 38 نارتھ کے مطابق اگرچہ ملک نے اپنی تباہی سے نمٹنے کے انتظامات میں بہتری لائی ہے، لیکن یہ اب بھی شدید حد تک ناکافی ہے۔
کھاد کی سنگین کمی
شمالی کوریا میں فصلوں کی پیداوار میں بہتری لانے کے لیے ضرورت کے حساب سے کافی کھاد کا حصول بھی آسان نہیں۔
سنہ 2014 میں کم جونگ ان کے ایک خط میں زرعی شعبے کے رہنماؤں کو یاد دلایا گیا تھا کہ انھیں کھاد کے متبادل آسانی سے دستیاب ذرائع تلاش کرنے چاہیں۔
انھوں نے سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے کے ذریعہ شائع کردہ خط میں لکھا کہ ’کھاد کے تمام ذرائع جیسے گھر میں رکھے جانے والے جانوروں کا فضلہ، انسانی فضلے والی مٹی اور زمین کھود کر نکالی گئی مٹی استعمال کریں۔‘
کھاد کی تیاری میں یہ ملک خود کفیل نہیں ہے اور نکی ایشیا کے مطابق فروری میں کھاد پیدا کرنے والی ایک بڑی فیکٹری سپیئر پارٹس کی کمی کی وجہ سے بند ہو گئی تھی۔
اس کا الزام جنوری 2020 میں شمالی کوریا کے سب سے بڑے تجارتی پارٹنر، چین کے ساتھ کورونا وائرس کے باعث سرحدی بندش کو قرار دیا گیا۔
پابندیوں کے باعث تجارت سنگین حد تک محدود
شمالی کوریا پر بین الاقوامی معاشی پابندیوں کا مطلب ہے کہ دوسرے ممالک کے ساتھ تجارت پہلے ہی انتہائی محدود پیمانے پر ہو رہی ہے۔
شمالی کوریا کو چینی کی کل برآمدات حالیہ برسوں میں تقریباً 2.5 بلین ڈالر سے 3.5 بلین ڈالر تک ہیں لیکن چینی سرکاری کسٹم کے اعداد و شمار کے مطابق پچھلے سال یہ تعداد 500 ملین ڈالر سے بھی کم تھی۔
سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر میں 2019 کے مقابلے میں سرحد کے دونوں اطراف (سینوجو اور ڈنڈونگ میں) گاڑیوں کی ٹریفک میں نمایاں کمی دیکھی جا سکتی ہے۔
سینٹر برائے سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CSIS) کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شاید سرحد کو تجارت کے لیے بند کردیا گیا ہے۔
محققین نے ستمبر 2019 میں کسٹم علاقوں میں 100 سے زیادہ گاڑیاں گنی تھیں لیکن مارچ 2021 میں ان کی تعداد صرف 15 گاڑیاں ہے۔
تاہم پچھلے دو سالوں میں اسی مقام کی تصاویر کے مقابلے مارچ میں زیادہ سے زیادہ ریل گاڑیاں دیکھنے میں آئیں۔ جس کی وجہ سے مبصرین کو یقین ہے کہ مزید تجارت دوبارہ شروع ہوسکتی ہے۔
شمالی کوریا پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق اس کے بعد سے جلدی سرحد کھلنے کا ابھی تک کوئی اشارہ نہیں ملا۔
امدادی خوراک کے مسائل
بند سرحدوں کے باعث شمالی کوریا کے لیے پابندیوں سے مستثنیٰ امدادی خوراک کا حصول بھی مشکل ہوگیا ہے۔
ملک کا سب سے بڑا ڈونر چین ہے اور کورونا وائرس کے آغاز کے بعد سے چین کی جانب سے شمالی کوریا کو بھیجی جانے والی اشیا کی برآمدات میں 80 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ عشرے کے دوران امدادی ممالک کے ذریعے شمالی کوریا میں آنے والی امداد ناکافی ہے۔
اور بیشتر بین الاقوامی امدادی تنظیمیں شمالی کوریا میں کام کرنے سے قاصر ہیں، کووڈ پابندیوں کی وجہ سے یہ سب کام معمول سے زیادہ مشکل ہیں۔
ورلڈ فوڈ پروگرام کے کن لی نے بی بی سی کو بتایا کہ جب سے کورونا وائرس شروع ہوا ہے ڈبلیو ایف پی خوراک کے سروے نہیں کروا سکی ہے۔
انھوں نے کہا ’چیلنجوں کے باوجود 2020 میں، ڈبلیو ایف پی نے 730000 افراد کو خوراک فراہم کی۔‘
اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق، شمالی کوریا میں کھانے کی قلت تقریباً دو یا تین ماہ کی فراہمی کے برابر ہے۔
’اگر خوراک کی اس کمی کو تجارتی درآمدات یا امدادی خوراک کے ذریعے مناسب طریقے سے پورا نہیں کیا گیا تو اگست اور اکتوبر 2021 کے درمیان شمالی کوریا کے بیشتر شہریوں کو سخت لاغر صورتحال کا سامنا ہو سکتا ہے۔‘