دنیا کے خفیہ ترین ملک کے اندر زندگی

اگرچہ بین الاقوامی سطح پر خبروں کی شہ سرخیوں میں ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جانگ ان ایک دوسرے کو تباہ و برباد کرنے کے دھمکیاں دیتے نظر آتے ہیں تاہم شمالی کوریا میں زندگی پہلے کی طرح ہی رواں دواں ہے۔

یہ تصاویر جنہیں ستمبر میں نارتھ کوریا نیوز کی ٹیم نے ملک کے مختلف مقامات کے دورے پر کھینچا تھا اور ان میں وہاں کی عوام کے روز مرہ معمولات کو دکھایا گیا ہے کہ کیا پابندیوں اور امریکہ مخالف پروپیگنڈا ان پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

شمالی کوریا کے یہ مکین ساحلی شہر ونسان میں پکنک منا رہے ہیں۔ ان کے موڈ پر تناؤ کا کوئی اثر دکھائی نہیں دے رہا۔

شوخ رنگوں کے ٹریک سوٹ میں ملبوس یہ طلبہ و طالبات ’چلڈرن کیمپ‘ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر آپ قریب سے دیکھیں تو ان سب نے مغربی برینڈز کے کپڑے پہن رکھے ہیں۔ مثلاً ادیداس یا نائیکی۔ غالباً ان برینڈز کو نقل کیا گیا ہے اور بہت سے بچے ان مغربی برینڈز سے انجان ہوں گے۔

اس کشتی کی مدد سے جاپان کی بندرگاہ نیگاتا میں مسافروں کو پہنچایا جاتا تھا تاہم سنہ 2006 میں پابندیوں کی وجہ سے اسے بند کر دیا گیا تھا۔ اب یہ سروس تو بند ہو چکی ہے مگر عملہ پھر بھی کام پر موجود ہے۔

ملک کے ساحلی علاقوں میں کلیمز بہت مشہور سوغات ہیں۔ ان میں سے بہت بڑی تعداد برآمد کی جاتی تھی لیکن اگست میں اچوام متحدہ کی پابندیوں کی وجہ سے تمام سی فوڈ کی برآمدگی پر بھی پابندی لگ گئی تھی اور اب شاید یہ مقامی مارکیٹ میں ایک بار بھی مل سکے گی۔

طویل عرصے تک جاپان یا چین سے بجلی کے موٹر سائیکلوں کو درآمد کیا گیا تھا جو فقط دارالحکومت میں ہی نظر

آتے تھے۔ لیکن یہ بہت حد تک چھوٹے شہروں میں بھی دکھائی دیتے ہیں اور اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ممکنہ طور پر پیانگ یانگ کے باہر بھی معاشی ترقی ہورہی ہے۔

ٹرانسپورٹ آمدورفت کے لیے سب سے بنیادی ضرورت ہے۔ بہت سے شہروں میں لاتعداد سائیکلیں استعمال ہوتی ہیں۔ اس تصویر میں ایل بیل گاڑی کو استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ پرانی ردی اور ہیم ہنگ شہر پہنچایا جائے اور اسے دوبارہ قابل استعمال بنایا جائے۔

اس اگلی تصویر میں موجود لوگوں کے درمیان میں بیٹھی خاتون کے پاس ایک پلاسٹک کا بیگ ہے۔ یہ چینی اور جاپانی بجٹ برینڈ مینیسو کا ہے۔ شمالی کوریا نیوز جس نے یہ تصاویر فراہم کی ہیں کا کہنا ہے کہ مینیسو نے یہاں اپنا پہلا برینڈ سٹور موسم بہار میں کھولا تھا تاہم سخت پابندیوں کی وجہ سے اس نے اس کا نام تبدیل کر دیا تھا۔

وہاں زندگی بظاہر نارمل نظر آتی ہے۔ وہاں کچھ ایسے آثار بھی دکھائی دیتے ہیں کہ طویل پابندیوں کی وجہ سے ٹیکس بھی لیا جاتا ہے۔ کچھ پیٹرول سٹیشن بند ہو چکے ہیں اور بجلی کی کمی کی وجہ سے اب لوگ اپنے گھروں کے باہر شمسی توانائی کے پینل لگا رہے ہیں۔ اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کائینسگ شہر میں واقع ان اپارٹمینٹس کی کھڑکیوں کے باہر سولر پینل موجود ہیں۔

معاشی مصائب کے باوجود وہاں پروپیگنڈا بھی جاری رہتا ہے۔ ہر سال فاؤنڈیشن ڈے منایا جاتا ہے جب دارالحکومت میں بڑھے پیمانے پر رقص ہوتا ہے یہ نوجوان خاتون اسی تقریب میں پرفارمنس کے لیے تیار ہیں۔

بیرونی خطرہ ہمیشہ سے موجود رہتا ہے۔ وہاں آپ کو وطن سے محبت کے نعروں کے بینرز کے علاوہ امریکہ مخالف نعروں کے بینرز بھی ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ سیاحوں کو حکومتی گائیڈ جنگ سے متعلق میوزیم میں لے کر جاتے ہیں۔ کشیدگی کے باوجود وہاں اردگرد آپ کو ہنستے چہرے دکھائی دیتے ہیں۔

شمالی کوریا کہتا ہے کہ وہ ہردم جنگ کے لیے تیار ہے۔ یہ ہائی وے کا نظارہ ہے جہاں آپ کو ٹین

ک ٹریپ نظر آئیں گے۔ کنکریٹ سے بنے یہ اس ڈھانچے کی تہہ میں آتشیں مواد ہوتا ہے اور کسی بھی حملے کی صورت میں اس کے پھٹنے پر دشمن کے ٹینکوں کو شاہراؤں سے گذرنے کا راستہ نہیں مل سکتا۔

بین البراعظمی میزائل اور نیوکلئیر ٹیسٹ کے اس دور میں یہ ٹینک ٹریپس بظاہر قدیم نظر آتے ہیں تاہم یہ یاددہانی کرواتے ہیں کہ جنگ ہو سکتی ہے۔

یہ تمام تصاویر نارتھ کوریا نیوز سے لی گئی ہے۔ جو نارتھ کوریا کے حوالے سے اس کی خصوصی اشاعت کا حصہ ہیں۔ دنیا سے الگ اس ملک میں جائیں تو کوئی بھی تصویر حکومتی گارڈ کی اجازات سے ہی لی جا سکتی ہے جو کہ وہاں ہمیشہ موجود ہوتے ہیں۔

۔