غزہ: چھ سالہ فلسطینی بچی سوزی اشکنتانہ، جو ’گھر اور خاندان اجاڑ دینے والے‘ اسرائیلی حملے میں زندہ بچ گئی

اس فلسطینی خاندان کا گھر اتوار کی صبح اسرائیلی حملے میں تباہ ہو گیا۔ غزہ کے حکام کے کہنا ہے کہ تازہ اسرائیلی حملوں میں 10 بچوں سمیت کم از کم 42 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جس کے بعد غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 200 تک پہنچ چکی ہے

غزہ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنچھ سالہ سوزی اشکنتانہ کی آنکھ غزہ کے ہسپتال میں کھلی جہاں انھیں ان کے گھر کے ملبے سے نکال کر لایا گیا تھا۔ اسرائیلی حملے میں سوزی کی والدہ اور چاروں بہن بھائی ہلاک ہو گئے
غزہ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناس فلسطینی خاندان کا گھر اتوار کی صبح اسرائیلی حملے میں تباہ ہو گیا۔ غزہ کے حکام کے کہنا ہے کہ تازہ اسرائیلی حملوں میں 10 بچوں سمیت کم از کم 42 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جس کے بعد غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 200 تک پہنچ چکی ہے
غزہ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ عسکریت پسند تنظیم حماس کو نشانہ بنا رہا ہے جو غزہ کی پٹی کو کنٹرول کرتی ہے۔ اسرائیل کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس تنظیم نے اسلامی جہاد اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کے ساتھ اسرائیلی شہروں کی طرف 2800 راکٹ فائر کیے ہیں
غزہ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناشکنتانہ کے گھر پر ہونے والا حملہ اسی علاقے میں ہوا جہاں اسرائیلی دعوے کے مطابق انھوں نے عسکریت پسند تنظیم کی جانب سے کھودی گئی سرنگ کو نشانہ بنایا تھا۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ حماس کے یونٹ ایک نے غزہ کے جنوبی حصہ سے ایک سرنگ کے ذریعے اسرائیل میں داخل ہونے کی کوشش کی مگر اسرائیل کے پاس اس کی پیشگی اطلاع تھی اور انھوں نے اس سرنگ کو تباہ کر دیا۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ سرنگ کے تباہ ہونے کے نتیجے میں اس کے اوپر بنے مکانات گر گئے جس سے شہریوں کا جانی نقصان ہوا
غزہ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشندرجنوں امدادی کارکنان، پولیس افسران، رشتہ دار اور پڑوسی اس خاندان کی تلاش کے لیے تباہ حال عمارت کے ملبے پر جمع ہوئے اور کئی گھنٹوں کے بعد منہدم دیواروں کے نیچے سے کارکنان ’اللہ اکبر‘ کے نعرہ لگانے لگے جو اس بات کا اشارہ تھا کہ وہ کسی کو زندہ باہر لا رہے ہیں
غزہ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشندھول اور سیمنٹ میں اٹی ہوئی سوزی کمزوری سے اپنا سر بھی نہیں اٹھا پا رہی تھی، جب اسے ایمبولینس میں لے جایا گیا تو وہ زاروقطار رونے لگی۔۔۔ انھیں دیکھتے ہیں ہسپتال کے استقبالیے پر موجود رشتہ دار خواتین اور مرد روتے ہوئے پوچھنے لگے ’کیا یہ یحیحیٰ ہے؟ کیا یہ یحیحیٰ ہے؟‘ لیکن امدادی اور طبی کارکنان نے انھیں بتایا کہ سوزی کا چار سالہ بھائی یحیحیٰ ہلاک ہو چکا ہے۔ چند منٹ بعد سوزی کی دو اور بہنیں اور بھائی کی میتیں لائی گئیں
غزہ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسوزی کی کھلی آنکھیں دیکھ کر سب نےخوشی کا اظہار کیا اور انھیں جلدی سے ایکسرے کے لیے لیجایا گیا۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ انھیں چوٹیں لگی ہیں لیکن کوئی گہرا زخم نہیں آیا
غزہ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنریاض اشکنتانہ کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتے تھے کہ ان کا خاندان محفوظ ہے کیونکہ اسی عمارت میں ڈاکٹر رہتے تھے اور انھوں نے بچوں کو اس کمرے میں رکھا ہوا تھا جس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ ایک محفوظ کمرہ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ میں نے اپنے بیٹے زین کو پکارتے ہوئے سنا: ’ڈیڈی ، ڈیڈی‘ لیکن میں ایسا پھنسا ہوا تھا اور مڑ کر اس کی طرف دیکھ بھی نہیں سکتا تھا
غزہ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسات گھنٹے تک ملبے تلے دبی رہنے والی یہ بچی غزہ کے شفا ہسپتال میں اپنے والد سے ملی جہاں ان کے زخموں کا علاج کیا جا رہا تھا
غزہ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناپنی بیٹی کے پاس ہسپتال کے بستر پر پڑے، ریاض کہتے ہیں کہ میرے اندر شدید غصہ اور مایوسی بھری تھی اور میں مرنا چاہتا تھا لیکن جب میں نے سنا کہ میری ایک بیٹی زندہ ہے تو میں نے خدا کا شکر ادا کیا کیونکہ اس بیٹی کی مسکراہٹ میں میری ہلاک ہو جانے والی بیٹیوں کی مسکراہٹیں بھی زندہ ہیں‘