آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایمازون کی قابلِ نوش ‘آنکھیں‘!
برازیل کا سنہری اور شفاف ریت والا پونتا دا ماریسیا ساحل قریبی قصبے مائیز کے لوگوں کے لیے ایک تقریحی مقام ہے۔ صبح جلدی اٹھنے والے یہاں کے صاف پانی میں تیراکی کے لیے جاتے ہیں۔ مائیز کے دریا کے کونے پر ایمازون جنگل کے اندر اور ساحلِ سمندر سے 1000 کلومیٹر دور ہونے کی وجہ سے اس پانی میں نہ تیز لہریں ہیں اور نہ ہی نمکینیت۔
مگر ساحل کی یہ شکل ہر سال صرف چند ہی ماہ کے لیے ہوتی ہے۔
اگست میں جب خشک ماحول ہوتا ہے اور دریا کی سطح کم ہوتی ہے تبھی ایسا منظر سامنے آتا ہے۔ یہی وہ موسم ہے جب یہاں کا مقامی پھل گوارانا پکنا شروع ہوتا ہے اور اس کا لال چھلکا پھٹتا ہے اور اندر سے سفید گودا نظر آنے لگتا ہے۔ مگر اس سفید گودے میں اس کا کالا بیج اسے عجیب سی آنکھوں کی شکل دے دیتا ہے۔
موئیز خطہ برازیل میں گوارانا کی پیداوار کے لیے جانا جاتا ہے۔
اس خطے کی معیشت اور ثقافت دونوں کا دار و مدار اس پھل سے وابستہ ہے۔ اس پھل کے بیج دنیا بھر میں اپنے طبی فوائد کے لیے مشہور ہیں اور یہ صنعت برازیلی معیشت میں لاکھوں ڈالر کی حصہ دار ہے۔
گوارانا پھل میں کیفین کی بہت زیادہ مقدار پائی جاتی ہے۔ اس میں کافی بینز کے مقابلے میں تقریباً چار گنا کیفین ہوتی ہے اور اس کا استعمال انسان کو صحیح طرح چوکنا کر دیتا ہے۔
اسی لیے اسے انرجی ڈرنکس میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ متعدد تحقیقی اشاعتوں میں اس کی ممکنہ دل کے امراض سے بچاؤ کی صلاحیتوں پر بھی بات کی گئی ہے، اور اس پر اینٹی انفلیمیٹری، اینٹی اوکسیڈینٹ، اینٹی ڈپریسنٹ، آنت کے محافظ اور یہاں تک کہ جنسی رغبت کو ابھارنے والے مواد کے طور پر بھی تحقیق ہو رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
موئیز کو ‘لینڈ آف گوارانا‘ کہا جاتا ہے مگر اس پھل کی کہانی تو اس قصبے سے کہیں پرانی ہے۔
یہاں کے مقامی لوگ اس قریبی جنگل میں یہ پھل کئی صدیوں سے کاشت کر رہے ہیں۔ ان کے آبا و اجداد نے اس پھل کی خصوصیات پڑھ کر اس کی کاشتکاری کے بہترین طریقے بنائے ہیں۔
مگر گوارانا کی باضابطہ تاریخ یا یوں کہیں کہ پہلی مرتبہ کسی لکھی ہوئی اشاعت میں اس کا ذکر صرف 352 سال پرانا ہے جب یورپی آباد کار 1669 میں یہاں پہنچے۔
پرتگالی سلطنت نے ایمازون کے خزانوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے جو مشنز بھیجے تھے ان میں سے ایک میں پرتگالی پادری یوآؤ پلیپ بنتڈورف موجود تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہاں ایک چھوٹا سا پھل ہے جسے مقامی لوگ خشک کر کے پیستے ہیں اور وہ اس کی اس طرح قدر کرتے ہیں جیسے سفید فام لوگ سونے کی قدر کرتے ہیں۔
18 ویں صدی کے پرتگالی آباد کاروں کے مطابق یہ پھل مقامی آبادی کے لیے قیمتی ترین اثاثہ تھا اور اسے ادائیگی کے لیے بطور کرنسی بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ 19 ویں صدی کے ریکارڈ کا جائزہ لیں تو اس پھل کی بولیویا، ارجنٹینا یہاں تک کہ یورپ تک خرید و فروخت جاری تھی۔ لندن میں سنہ 1982 میں بین الاقوامی نمائش میں بھی اس کو بہت پذیرائی ملی۔
یہاں کے مقامی لوگوں کی اس پھل کی پیداوار پر اجاراداری تھی مگر اس کو اگر صرف معاشی تناظر میں دیکھا جائے تو اس پھل کی مقامی طور پر سیاسی، ثقافتی، دینی، اور روحانی اہمیت کو بالکل نظر انداز کیا سکتا۔
یہاں کے مقامی قبیلے ساتیرے ماوے کی جنرل کونسل کے صدر اوبادیاس بتیستا گارسیا کہتے ہیں کہ ‘ہمارے لیے یہ ایک روحانی پھل ہے۔ یہ ہمارے لوگوں کی بنیاد ہے۔‘
ان کی زبانی کہانیوں کے مطابق یہ لوگ ایک مقتول بچے کی اولاد ہیں جس کی آنکھ کو زمین میں دبا دیا گیا تھا، جہاں سے گوارانا کا پہلا پودا نکلا تھا جس سے پہلا ساتیرے ماوے شخص پیدا ہوا تھا۔ گارسیا مجھے یہ کہانی جس قدر تفصیلی انداز میں بتا سکتے تھے انھوں نے بتائی مگر وہ ایسے ہی تھا جیسے آپ بائیبل یا قرآن کو دس منٹ میں بیان کرنے کی کوشش کریں۔
بعد میں ان کہنا تھا کہ ‘یہ ایک لمبی کہانی ہے جو ماں باپ اپنے بچوں کو ہر رات سناتے ہیں تاکہ وہ لیڈر بننا سیکھیں، اچھے والدین بنیں، اور اچھے بچے بنیں۔‘
مائیز سے 75 کلومیٹر دور، ساتیرے ماوے آج بھی اپنے روایتی انذاز سے گوارانا کاشت کرتے ہیں۔
اس کے لیے 8000 مربع کلومیٹر کا علاقہ مختص ہے۔ وہ جنگلی گوارانا پودوں کے نیچے گرے بیج جمع کرتے ہیں اور انھیں ایک مخصوص علاقے میں لے جاتے ہیں۔
نومبر سے مارچ کے دوران ان بیجوں کو دھویا جاتا ہے، پکایا جاتا ہے، چھیلا جاتا ہے، اور پھر پیس کر پانی میں ملایا جاتا ہے۔ اس محلول کو ایک چھوٹے سے ڈنڈے کی شکل دے کر ایک سموک ہاؤس میں خشک ہونے کے لیے رکھ دیا جاتا ہے جہاں اسے کئی سالوں تک رکھا جا سکتا ہے۔
ان ڈنڈوں کو پھر پتھر پر رگڑ کر پانی میں ڈالا جاتا ہے، جس سے ایک کاپو نامی مشروب تیار ہوتا ہے۔
یہ مشروب روز مرہ زندگی میں تو استعمال ہوتا ہے مگر ساتھ ساتھ متعدد اہم مواقع پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ نوجوان لڑکیوں کی عمر پکی ہونے کے موقعے پر فیستا دا توکاندیئیرا پر یہی مشروب بنایا جاتا ہے اور اس کو تیار کرنے اور پینے کے حوالے سے مخصوص قوانین ہیں، جیسا کہ مہمانوں کو کون یہ مشروب پلائے گا اور کس ترتیب سے یہ دیا جائے گا یا اس کا پیلا کبھی بھی خالی نہیں لوٹانا ہوتا وغیرہ وغیرہ۔
یہ بھی پڑھیے
صدیوں بھر سے یہاں کے دیگر مقامی قبیلوں نے ساتیرے ماوے سے اس کی کاشتکاری سیکھ لی ہے۔ اس وقت تقریباً 2400 خاندان ہر سال تقریباً 500 ٹن گوارانا کے بیج پیدا کرتے ہیں۔
راموم موراتو گوارانا الائنس آف موئیز (اے جی ایم) کے کورڈینیٹر ہیں۔
یہ تنظیم سنہ 2017 میں مقامی لوگوں کے حالات کو بہتر کرنے کے مقصد سے بنائی گئی تھی۔ وہ کہتے ہیں ‘رابئرینہوس (مقامی طور پر دریا کے کنارے رہنے والی برادریاں) نے یہ کام ساتیرے ماوے سے سیکھ لیا ہے۔ ‘وہ خاندانی کاشتکار ہیں۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ یہاں پر یہ کام ہاتھ سے کیا جاتا ہے، ہر بیج کو چنا جاتا ہے، اور کئی گھنٹوں تک اسے درست نمی کے ساتھ مٹی کے برتنوں میں رکھا جاتا ہے۔ دیگر جگہوں پر یہ عمل صنعتی نوعیت کا بن گیا ہے۔
اے جی ایم کا ایک اہم کام یہ تھا کہ انھوں نے سنہ 2018 میں موئیز کے گوارانا کے لیے جغرافیائی شناخت کا نظام بنا لیا تھا، جس سے خریدنے والوں کو یہ یقین ہوتا ہے کہ یہاں کی بنی چیز کا معیار بہترین ہے۔
اس تنظیم کا ایک اور کارنامہ یہ ہے کہ وہ مقامی ٹور گائڈ اٹلو مشلز جیسے لوگوں کی مدد سے یہاں پر سیاحتی صنعت کو فروغ دیں۔ اٹلو نے ایکسپیرنسیا ماوے سنہ 2019 میں بنایا تھا۔ ان کے ساتھ کوئی بھی دورہ ایک چھوٹی سی موٹر بوٹ پر شروع اور ختم ہوتا ہے، جس پر جنگل میں پھیلی دریائی نہروں میں وہ لوگوں کو سیر کرواتے ہیں۔
وہ لوگوں کو مقامی دیہی فارمز اور برادری سے ملواتے ہیں اور سیاحوں کو مقامی مچھلی کا لنچ کرواتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ لوگوں کو گوارانا کی کاشت کا طریقہ بھی سکھاتے ہیں۔
ساتیرے ماوے کی طرح یہاں لوگوں کی روز مرہ زندگی میں گوارانا سے بنا مشروب پینا عام ہے اور سیاحوں کو بھی یہ پلایا جاتا ہے۔ یہاں گوارانا کے بنے چھوٹے چھوٹے ڈنڈوں کو دنیا میں تازہ پانی کی سب سے بڑی مچھلی پیراروچی کی خشک کردہ زبان پر رگڑ کی مشروب میں ڈالا جاتا ہے۔
یہاں آنے والے سیاح گوارانا کی پیداوار کے جدید طریقوں کو بھی دیکھ سکتے ہیں۔
یہاں حکومتی زرعی تحقیقاتی ایجنسی ایمبراپا نے ایک فارم لگایا ہے جہاں مختلف اقسام کا گوارانا تیار کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ایک نجی کمپنی سینٹا ہیلنا فارم جو کہ مشروبات بنانے والی عالمی کمپنی ایمبیو کی ملکیت ہے، اس نے بھی 1000 ہیکٹر کا باغ لگایا ہے جو کہ زیادہ تر تو جنگل ہے اور سرکاری تحفظ میں ہے مگر ایمبیو یہاں تھوڑا یہاں گوارانا اگاتی ہے۔
یہاں کے اگائے گئے بیج مانائوس بھیجے جاتے ہیں جہاں یہ گوارانا انٹارٹیکا نامی مشروب میں ڈلتے ہیں جو کہ برازیل کی جانب سے کوکا کولا کا جواب ہے۔ بہت سے برازیلی لوگ ساتیرے ماوے کو نہیں جانتے ہوں گے مگر گوارانا انٹارٹیکا یہاں ایک عام نام ہے اور ہر سال اس کے 400 ملین لیٹر استعمال کیے جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ فیئسٹا دے گوارانا بھی ہے جو کہ سنہ 1979 سے منایا جاتا ہے۔ یہ فیسٹیول نومبر میں منعقد کیا جاتا ہے اور مائیز کے سماجی اور معاشی سال کا اہم ترین دن ہوتا ہے اور اس میں ہزاروں سیاح شرکت کرتے ہیں۔
اس میں شامل سرگرمیوں کی ایک مکمل فہرست ہے، جس میں عام طور پر تجارتی میلہ، کھیلوں کے مقابلے، محافل موسیقی اور یہاں تک کہ گوارانا خوبصورتی کا مقابلہ شامل ہوتا ہے۔ سیتیرے ماوے ورانا کی اساطیری داستانوں کو سٹیج پر شوخ موسیقی کے طور پر ادا کیا جاتا ہے، لیکن مقامی لوگ اس فیسٹیول سے واضح طور پر خارج نظر آتے ہیں۔
مشیلز بتاتی ہیں کہ موسیقی شام سات بجے شروع ہوتی ہے۔
ساحل پر لگے سٹالز میں کھانے اور مشروبات کے ساتھ گوارانا بھی ضرور ملتا ہے۔ لوگ ایک غیر الکوحل والے مشروب ٹربیناڈو ['ٹربو چارجڈ'] گوارانا، ایوکاڈو، مونگ پھلی کے ساتھ پیتے ہیں اور صبح تین، چار یا پانچ بجے تک رقص کرتے ہیں۔
گوارانا آپ کو بہت توانائی دیتا ہے۔'
یہاں اس بات کے امکانات بھی ہیں کہ میلے میں صبح تک رقص کرنے والے ہجوم میں کافی کم پنشنرز شامل ہوتے ہیں۔ مائیز میں بزرگ افراد کا تناسب برازیل کی قومی اوسط سے دگنا ہے۔ جب دس سال قبل یہ بات منظر عام پر آئی تو اس عجیب و غریب رحجان نے برازیل کے میڈیا میں ایک دلچسپی پیدا کر دی، جس میں ٹی وی کے عملے نے 90 سال کی عمر کے ایسے افراد کے انٹرویوز کیے جو اب بھی باہر سخت محنت کرتے ہیں۔ یہ فعال طرز زندگی یا دبلے پتلے رہنے کی وجہ غذا ہو سکتی ہے، لیکن ان کی باقاعدہ گوارانا عادت ایک ممکنہ عنصر معلوم ہوتی ہے۔
برازیل کی تین سرکاری یونیورسٹیوں (ایستادو، ایمازوناس اور سانتا ماریا فیڈرل یونویرسٹی) نے سنہ 2009 میں مائیز میں معمر افراد پر گوارانا کے اثرات کا مطالعہ کرنے کے لیے ایک تحقیقی منصوبہ شروع کیا۔
ان کے نتائج سائنسی مقالوں پر مبنی مٹھی بھر بین الاقوامی جرائد میں شائع ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک ماہانہ جریدہ پائیٹوتھراپی ہے۔ سنہ 2011 میں شائع ان کے مطالعے میں کہا گیا کہ جو بوڑھے گوارانا کھاتے ہیں ان کو ان کے مقابلے میں میٹابولک عوارض سے زیادہ تحفظ حاصل ہے جو اس کا استعمال نہیں کرتے۔
بلاشبہ ساتیرے ماوے کو اپنی صحت اور توانائی بڑھانے والی خصوصیات کے بارے میں بہت پہلے معلوم تھا۔ وارانا دنیا کے لیے ان کا تحفہ ہے اور آخر کار انھیں اس کی پہچان مل رہی ہے۔
سنہ 2020 کے اواخر میں ساتیرے ماوے کے وارانا کو برازیلین اپیلیشن آف اوریجن کا درجہ دیا گیا جو کہ پروڈکٹ اور اس کی اصل جگہ کے درمیان خصوصی تعلق کی باضابطہ پہچان ہے۔
یہ پہلی بار ہے کہ برازیل میں کسی مقامی لوگوں کو یہ سند دی گئی ہے اور یورپی یونین کی طرف سے دی گئی یہ حیثیت ان کے لیے دوسری جگہ اس قسم کی حیثیت کے لیے دروازے کھولے گی۔
اطالوی ترقیاتی ماہر معاشیات موریزیو فرابونی جو ساتیرے ماوے کے ساتھ ان کی ثقافت کے تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں کا کہنا ہے کہ 'اس کی ابتدا کی سند کئی دہائیوں سے جاری لڑائی کا نتیجہ اور پہچان ہے جسے محض ایک مصنوع نہیں رہنے دے گی۔'
ان کے یہاں وارانا کی سالانہ پیداوار وسیع خطے کے مقابلے میں بہت کم ہے، لیکن ان کی پیداوار کی دنیا کے 22 ممالک میں سند یافتہ شراکت داروں کے ذریعے فروخت ہوتی ہے جو اس کے معیار اور اس کی اصلیت کی قدر کرتے ہیں۔
گارشیا نے کہا: 'اسے تجارتی بنانے سے ہمیں مالی اور سیاسی خود مختاری ملی ہے تاکہ ہم اپنی زمین کو سنبھالنے کے لیے اپنی پالیسیاں خود بنا سکیں۔' بہر حال انھوں نے اسے اس طرح بیان کیا کہ 'وارانا کے بغیر کوئی ساتیرے ماوے نہیں ہوگا اور ساتیرے ماوے کے بغیر کوئی وارانا نہیں ہوگا۔