میگھن اور ہیری کا اوپرا ونفری کے ساتھ انٹرویو: لیڈی ڈیانا کو بھی کیا میڈیا سے ایسی ہی شکایات تھیں؟

    • مصنف, میگن لاٹن
    • عہدہ, نیوز بیٹ

ڈیوک اینڈ ڈچز آف سسیکس کا اوپرا ونفری کے ساتھ ’دھماکہ خیز‘ انٹرویو کئی وجوہات کی بناہ پر اہم رہا ہے، جن میں سے ایک شہزادہ ہیری کی والدہ لیڈی ڈیانا کا بارہا ذکر ہے۔

میگھن مارکل نے کہا کہ انھوں نے شاہی خاندان میں شامل ہونے کے دباؤ کے بارے میں ڈیانا کے ایک دوست سے بات کی 'کیونکہ۔۔۔ اور کون ہے جو یہ سمجھ سکے کہ اصل میں اندر کیا ہے؟'

شاہی خاندان میں شامل ہونے والی ان دو خواتین کے تجربات کے درمیان مماثلت تلاش کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

شہزادہ ہیری نے کہا کہ اس سے پہلے کہ وہ اور میگھن سینیئر شاہی افراد کے طور پر اپنے کردار سے پیچھے ہٹیں، انھیں تاریخ کے 'خود کو دہرانے' کا خدشہ تھا۔ اور یہ پہلا موقع نہیں ہے جب شاہی خاندان میں سلوک کے معاملے پر ان کی اہلیہ کا برطانیہ کے کچھ ٹیبلائڈز میں لیڈی ڈیانا کے ساتھ موازنہ کیا گیا۔

پریس کوریج کے دو رُخ

شہزادی ڈیانا کو دنیا کی مشہور ترین خواتین میں سے ایک سمجھا جاتا تھا اور اخبارات میں اکثر ان کے بارے میں لکھا جاتا تھا۔ ان کے فلاحی کام اور ان کی نجی زندگی دونوں ہی سرخیاں بنتی تھیں۔

شاہی امور کی مصنفہ کیٹی نکول نے بی بی سی کے ریڈیو ون نیوز بیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'ڈیانا کسی دوسرے سے کہیں زیادہ شاہی علامت بن گئی تھیں۔ ان کی عالمی سطح پر شناخت تھی اور وہ بین الاقوامی سطح پر مشہور تھیں۔'

لیکن کیٹی نکول کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'انھیں توجہ ہمیشہ مثبت معنوں میں نہیں ملی۔

'پریس میں ڈیانا کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ وہ دنیا کی سب سے مشہور شخصیت تھیں اور پاپارازی (یعنی ان کے پیچھے بھاگنے والے صحافی/فوٹوگرافر) شہزادہ ولیم اور ہیری کی زندگیوں کا مستقل حصہ بن گئے تھے۔‘

صحافی جیمز بروکس اس سے اتفاق کرتے ہیں۔

'بعض اوقات پریس کے ساتھ ان کا بہت اچھا رشتہ رہتا تھا اور پریس ان کا ساتھ دیتا تھا۔ جبکہ بعض اوقات انھیں میڈیا کی جانب سے ذاتی زندگی میں دخل اندازی کرنے کی شکایت رہتی تھی۔ یہ ایک ملا جلا رشتہ تھا۔‘

بعد کے برسوں میں ڈیانا نے پریس کو ذاتی انٹرویوز دیے جس کی وجہ سے کچھ لوگوں نے یہ کہا کہ وہ تشہیر اور توجہ کے حصول کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں۔

جبکہ میگھن جب شاہی خاندان میں شامل ہوئیں تو انھوں نے اپنا ذاتی بلاگ بند کردیا اور اس سے قبل ان کے زیادہ تر انٹرویوز ان کے فلاحی کاموں کے بارے میں تھے۔

بہر حال کیٹی نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ میگھن اور ہیری کی اپنی باتوں میں تضاد ہے۔

'پُرسکون زندگی کے بارے میں سوال'

جنوری سنہ 2020 میں اس جوڑے نے کہا کہ وہ میڈیا کی توجہ سے دور رہنے کی جدوجہد کے بعد شاہی فرائض سے دستبردار ہو رہے ہیں۔

اس کے بعد وہ کینیڈا اور پھر کیلیفورنیا منتقل ہوگئے اور حال ہی میں یہ اعلان کیا گیا کہ وہ شاہی خاندان کے فعال ارکان کی حیثیت سے برطانیہ واپس نہیں آئیں گے۔

لیکن کیٹی کا کہنا ہے کہ انھوں نے 'برطانیہ میں اپنی زندگی کے بارے میں اتنا انکشاف کبھی نہیں کیا تھا جتنا انھوں نے[امریکہ منتقل ہونے کے بعد] اپنی زندگی کے بارے کیا ہے۔'

شاہی فرائض سے دستبردار ہونے کے بعد اس جوڑے نے سپوٹیفائی پوڈ کاسٹ لانچ کیا، نیٹ فلکس کے ساتھ معاہدے کیے اور جیمز کورڈن اور اوپرا ونفری کو انٹرویوز دیے۔

کیٹی نے مزید کہا کہ 'لوگ ایک اس جوڑے سے سوال کر رہے ہیں جو کہ پرسکون زندگی چاہتے تھے اور اسی لیے (امریکہ) منتقل ہوئے تو اب 'وہ جیمز کورڈن اور اوپرا ونفری سے ملاقاتیں کیوں کررہے ہیں اور اپنے بیٹے کے بارے میں تفصیلات کیوں ظاہر کررہے ہیں؟'

'بہت سے لوگ ان کی جانب سے برطانیہ سے نکلنے اور میڈیا کی روشنی سے بچنے کی توجیہ سے متفق نہیں ہیں۔

’کیونکہ اب وہ میگھن اور ہیری کو ان کے برطانیہ میں ہونے کے مقابلے زیادہ دیکھ پا رہے ہیں۔‘

ہیری نے اوپرا کو بتایا کہ نیٹ فلکس اور سپوٹیفائی کے معاہدے کبھی بھی ان کے منصوبے کا حصہ نہیں تھے لیکن شاہی خاندان نے سنہ 2020 کے اوائل میں انھیں ’حقیقی معنوں میں مالی طور پر علیحدہ کر دیا تھا۔'

لیڈی ڈیانا کی موت اور پاپارازی

جیمز بروکس کا کہنا ہے کہ 'جہاں جہاں بھی وہ گئیں وہاں صحافیوں اور فوٹوگرافرز کی بڑی تعداد ان کے ہر قدم کو کیمرے میں محفوظ کر رہی تھی۔'

جیمز کا خیال ہے کہ میڈیا کے بارے میں شہزادہ ہیری کی رائے اس وقت سے متاثر ہے جب لیڈی ڈیانا کی موت ہوئی تھی۔

انھوں نے کہا کہ 'میڈیا کے بارے میں ہیری اور ولیم کی رائے [ان کی والدہ کی موت] کی وجہ سے متاثر ہے کیونکہ ان کی نظروں میں ان کی والدہ کی موت کا سبب ایک پاپارازی بنا تھا۔‘

شہزادی ڈیانا 31 اگست سنہ 1997 کو پیرس کی ایک سڑک پر موجود سرنگ میں کار حادثے میں انتقال کر گئی تھیں۔ اس وقت شہزادہ ہیری 12 سال کے تھے۔

ڈرائیور ہنری پال شراب پی رہے تھے اور کار کے پیچھے موٹر سائیکلوں پر پاپارازی ان کا پیچھا کر رہے تھے۔

بعد میں ایک تفتیش میں پتا چلا کہ ڈیانا، ڈرائیور اور پاپارازی کی 'سراسر غفلت' کے نتیجے میں ہلاک ہو گئيں تھیں۔

سنہ 2017 کی بی بی سی کی ایک دستاویزی فلم میں شہزادہ ہیری نے اپنی والدہ کی موت اور پاپارازی کے کردار کے بارے میں بات کی ہے۔

'میرے خیال میں سب سے مشکل بات یہ چیز برداشت کرنا ہے کہ جن لوگوں نے سرنگ میں ان کا پیچھا کیا تھا وہی لوگ کار کی پچھلی سیٹ پر ان کی موت کی تصاویر لے رہے تھے۔'

منفی کوریج

اکتوبر سنہ 2019 میں شہزادہ ہیری کے بیان کے باوجود کیٹی کا خیال ہے کہ 'پاپارازی کے ذریعے میگھن کا پیچھا اس طرح نہیں کیا گیا جیسا کہ ڈیانا کا کیا جاتا تھا۔'

تاہم ان کے خیال میں ہیری ان کہانیوں سے صاف طور پر تنگ نظر آتے ہیں جو میگھن کو تنقید کا نشانہ بناتی ہیں۔

'وہ ان صحافیوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جو ان کے خیال میں ان اپنی اہلیہ کے بارے میں منفی بیانیے کو مستقل طور پر ہوا دے رہے ہیں۔‘

'اخراجات کے بارے میں متعدد منفی کہانیاں پیش کی گئی ہیں۔ جس میں ان کے مکان کی تزئین و آرائش پر آنے والی لاگت بھی شامل ہے جو ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے پوری ہوئی ہے۔'

یاد رہے کہ بعد میں اس جوڑے نے 24 لاکھ پاؤنڈ یا 33 لاکھ امریکی ڈالر کی ادائیگی کی تھی۔

'اس کے علاوہ ڈچز آف سسیکس کے ڈیزائنر ملبوسات کی قیمت بھی ہے جو کہ سیکڑوں ہزار پاؤنڈز میں جاتی ہے۔

'شادی کے متعلق الگ الگ کہانیاں تھیں۔ یہ افواہیں بھی گردش میں تھیں کہ سینٹ جارج چیپل میں ہوا کی تازگی کے لیے میگھن نے ایئرفریشنر کی خواہش ظاہر کی تھی۔ شہزادی شارلٹ کے عروسی جوڑے کی بابت میگھن اور کیٹ کے درمیان تلخیوں کی بات بھی گردش کر رہی تھی۔'

میگھن نے اوپرا ونفری کو بتایا شادی سے پہلے عروسی جوڑے کے متعلق اس کے برعکس بات سچ ہے۔

میگھن نے کہا: 'شادی سے کچھ دن قبل [کیٹ] فلاور گرل کے لباس پر ناخوش تھیں جس پر مجھے رونا آ گیا۔' انھوں نے کہا کہ کیٹ نے بعد میں معافی مانگ لی اور پھول اور ایک تحریری کاغذ لائیں جس سے تعلقات بحال ہوگئے۔

انھوں نے کہا کہ کیٹ 'اچھی شخص' ہیں اور انھوں نے امید ظاہر کی کہ وہ جھوٹی کہانیوں کو درست کرسکتی تھیں۔

'انھیں عوامی توجہ میں رہنے کی عادت ہے'

کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ میگھن کو توجہ کی توقع ہونی چاہیے کیونکہ شہزادی ڈیانا کے برعکس وہ ہیری سے شادی سے پہلے ہی ایک مشہور شخصیت تھیں۔ بہرحال کیٹی ایسی باتوں سے متفق نہیں ہیں۔

'مجھے لگتا ہے کہ اگرچہ اس سے پہلے ان کی مشہور شخصیت والی طرز زندگی تھی، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اس کا موازنہ شاہی خاندان میں ہونے سے کیا جاسکتا ہے۔

'ہاں، انھیں مشہور شخصیت کا درجہ حاصل تھا لیکن وہ اینجلینا جولی یا نیکول کڈمین جیسی اے لسٹ اداکارہ نہیں رہی ہیں۔ انھوں نے خود یہ کہا ہے عوامی سطح پر کبھی انھیں اس قدر عوام کی توجہ کا تجربہ نہیں رہا ہے۔'

وہ مزید کہتی ہیں: 'میرا خیال ہے کہ میگھن پر لوگوں کی اتنی ہی کڑی نظر رہی جتنی کہ شاہی خاندان کے کسی دوسرے فرد پر ہوتی۔ لوگوں کی یادداشت مختصر ہوتی ہیں، دیکھا جائے تو ڈچس آف کیمبرج کو بھی ٹیبلائڈز میں ایک مشکل وقت کا سامنا رہا ہے۔'

کیٹی کا کہنا ہے کہ مشکل یہ ہے کہ جوڑے میں عوام کی واضح دلچسپی ہے لیکن قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس کی ایک حد ہوتی ہے۔

'شاہی خاندان کے بارے میں خبر دینا پریس کا کام ہے لیکن اسے منصفانہ اور غیرجانبدارانہ ہونا چاہیے۔'