آسٹریلیا کے دور دراز علاقے میں پھنسے باپ بیٹے کو دوستوں نے 12 گھنٹے چلنے کے بعد بچا لیا

ایک آسٹریلوی شخص کے تین دوستوں نے 12 گھنٹے تک پیدل چلنے کے بعد آسٹریلیا کے ایک دور دراز علاقے میں پھنسے دونوں باپ بیٹے کو زندہ بچا لیا ہے۔

اس شخص کے بیٹے کی عمر صرف 10 سال ہے۔

یہ تمام افراد اتوار کے روز شمال مغربی ریاست کوئینز لینڈ سے گزر رہے تھے جب ان کی گاڑی سیلاب زدہ علاقے میں پھنس گئی۔

سیلاب میں پھنسے اس گروپ نے رات کار میں بسر کی اور اگلی صبح ان میں سے تین افراد نے سب سے قریبی قصبے ماؤنٹ عیسیٰ کا رخ کیا۔ یہ قصبہ اس مقام سے تقریباً 50 کلومیٹر (31 میل) دوری پر واقع ہے۔

اس گروپ کے پولیس سٹیشن میں اطلاع دینے کے بعد ایک ریسکیو مشن شروع کیا گیا اور یہ تینوں افراد حکام کے ساتھ مل کر ایک نقشے پر اپنے دوست اور ان کے بیٹے کے درست مقام کی نشاندہی کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

شام کا اندھیرا ہونے سے پہلے، ہیلی کاپٹر پر موجود ریسکیو عملے کو پھنسے ہوئے یہ دونوں باپ بیٹا، ایک میدانی علاقے میں گاڑی کی چھت پر بیٹھے نظر آگئے۔

یہ بھی پڑھیے

حکام نے بتایا کہ باپ بیٹے کی صحت ٹھیک ہے اور انھیں کسی طبی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔

ریسکیو سروس آر اے سی کیو لائف فلائٹ ریسکیو کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جب انھیں ماؤنٹ عیسی ایئر پورٹ پر پہنچایا گیا، اس وقت وہ اچھی حالت میں تھے۔‘

ریسکیو پائلٹ رسل پراکٹر نے دونوں باپ بیٹے کی تعریف کی کہ انھوں نے سب کچھ ٹھیک کیا، جس میں اپنے ساتھ پینے والے پانی کا بندوبست اور ایک ہی جگہ رکے رہنا شامل ہے۔

انھوں نے کہا ’اتنا طویل انتظار کرنے کے باوجود، وہ مدد پہنچنے تک اپنی گاڑی کے ساتھ موجود رہے۔‘

کوئینز لینڈ ایمبولینس نے بتایا کہ ان کے تینوں ساتھی جنھوں نے مدد کے لیے 12 گھنٹے پیدل سفر کیا، انھیں بھی کسی قسم کی طبی مدد کی ضرورت نہیں پیش آئی۔

آسٹریلیا، اس وقت موسم گرما میں پیچیدہ موسمی پیٹرن ’لانینا‘ کے زیرِ اثر ہے جس کی وجہ سے خاص طور پر اس کی شمال مشرقی ریاست کوئینز لینڈ میں بارشوں اور سیلاب میں اضافہ ہوا ہے۔

یاد رہے ’ال نینو‘ اور ’لانینا‘ پیچیدہ موسمی پیٹرن ہیں جو استوائی بحرالکاہل میں درجۂ حرارت کے فرق کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، اور ان کے اثرات دنیا بھر پر مرتب ہوتے ہیں۔

ال نینو کو بعض اوقات قدرتی مظہر کا گرم مرحلہ جبکہ 'لا نینا' کو سرد مرحلہ کہا جاتا ہے۔