امریکی صدارتی انتخاب کے نتائج کے خلاف احتجاج: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں اور مخالفین میں تصادم

امریکہ کے کئی شہروں میں صدر ٹرمپ کے حامی انتخابات میں وسیع پیمانے پر انتخابی دھاندلیوں کے الزامات لگاتے ہوئے سنیچر کو سڑکوں پر جلوس کی صورت میں نکلے جہاں کچھ مقامات پر ان کے مخالفین سے جھگڑے بھی ہوئے ہیں۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں بیس کے قریب مظاہرین کو گرفتار کیا گیا، جبکہ چار افراد چاقو سے کیے گئے حملوں میں زخمی ہوئے۔

امریکی دارالحکومت میں پولیس کو صدر ٹرمپ کے حامیوں اور مخالفین کے مظاہروں کو ایک دوسرے سے علحیدہ رکھنے کے لیے مداخلت کرنا پڑی تھی، یہ وہ حکمتِ عملی ہے جو 'بلیک لائیو میٹرز پلازا' کے ارد گرد استعمال کرنا پڑی جہاں مخالفین کو محدود کیا گیا تھا۔

ٹرمپ کے حامی مظاہرین ایک بینر کے گرد جمع ہوئے تھے جس پر 'ووٹ پر ڈاکہ نامنظور' درج تھا۔ ان مظاہرین میں انتہائی دائیں بازو کی تنظیم 'پراؤڈ بوائز' کے ارکان بھی شامل ہو گئے تھے جنہوں نے زرد اور سیاہ رنگ کے لباس پہنے ہوئے تھے، اور ان میں کئی بلٹ ہروف جیکٹیں بھی پہنے ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے:

صدر ٹرمپ دوسری میعاد کے لیے 3 نومبر کو ہونے والے انتخابات میں کامیابی حاصل نہیں کر سکے ہیں اور وہ اپنے مدمقابل مسٹر جو بائیڈن سے شکست کھا چکے ہیں لیکن انہوں نے اپنی شکست تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ امریکی نظامِ انتخابات میں عام ووٹنگ کے بعد منتخب ہونے والے الیکٹورل کالجز امریکی صدر کا انتخاب کرتے ہیں، توقع ہے کہ پیر کو یہ الیکٹورل کالجز مسٹر بائیڈن کی کامیابی کی توثیق کردیں گے۔

اب تک کے نتائج کے مطابق، 3 نومبر کے انتخابات کے نتیجے میں مسٹر بائیڈن 306 الیکٹورل کالجز جیت چکے ہیں جبکہ صدر ٹرمپ کے پاس 232 کی تعداد ہے۔ اس کے علاوہ مسٹر بائیڈن نے اپنے مد مقابل سے ستر لاکھ ووٹ زیادہ حاصل کیے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ستمبر میں اپنی انتخابی مہم کے دوران ایک صدارتی مباحثے کے دوران یہ کہہ کر تنازعہ پیدا کردیا تھا کہ ان کے حامی 'پیچھے رہیں اور شانہ بشانہ کھڑے رہیں' البتہ انہوں نے بعد میں 'تمام سفید فام نسل پسندوں' کی مُذمت کی تھی۔

مظاہروں کے دوران جب رات ہوگئی تو پولیس نے مداخلت کرکے پراؤڈ بوائز اور ٹرمپ مخالف مظاہرین کو علحیدہ کیا۔ اُس وقت فریقین ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے، لیکن اچانک جھگڑے شروع ہوگئے۔

شہر کے وسط میں ہیریز بار کے قریب چاقو گھونپنے کے واقعات بھی پیش آئے، لیکن تاحال یہ واضح نہیں کہ کس گروہ نے چھرے مارے اور زخمی ہونے والوں کا کس گروہ سے تعلق تھا۔

اسی طرح کے جلوس ریاست واشنگٹن کے دارالحکومت اولمپیا، ریاست جارجیا کے مرکزی شہر اٹلانٹا، سینٹ پال میں بھی منعقد کیے گِ تھے۔ اولمپیا کی پولیس نے بتایا کہ فریقین کے درمیان تصادم کی وجہ سے ایک شخص کو گولی ماری دی گئی اور تین افراد کو گرفتار کیا گیا۔

واشنگٹن ڈی سی میں ٹرمپ کی حمایت میں ہونے والی ریلی میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی، لیکن یہ 14 نومبر کے جلوس سے چھوٹی تھی۔ کووڈ-19 کی وبا کے باوجود کم افراد نے ماسک پہنے تھے۔

اس ریلی سے صدر ٹرمپ کے سابق قومی سلامتی کے مشیر مائیکل فلِن نے بھی تقریر کی جنہیں اب ایک صدارتی حکمنامے کے ذریعے معاف کر دیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ وائٹ ہاؤس کے ایک اور ملازم، سیبیٹین گورکا نے بھی تقریر کی۔

مسٹر گورکا نے کہا کہ انتخابی نتائج کو تبدیل کرانے کے لیے صدر ٹرمپ کو اپنی قانونی جنگ ختم کردینی چاہئے -- جو کہ انتخابی فراڈ کے مسترد شدہ الزمات پر مشتمل ہے۔

صدر ٹرمپ کی تازہ ترین قانونی شکست اس جمعے کو ہوئی جب سپریم کورٹ نے چار متنازع ریاستوں کے نتائج کو کالعدم قرار دیے جانے کی درخواستوں کو مسترد کردیا، مسٹر بائیڈن کو ان چار ریاستوں میں کامیابی ہوئی تھی۔ اب تک صدر ٹرمپ انتخابی معاملات سے متعلقہ پچاس مقدمے ہار چکے ہیں۔

مسٹر گورکا نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کو مشورہ دیا کہ وہ انتخابی نتائج کو بدلوانے کے لیے اب قانونی جنگ لڑنا بند کردیں کیونکہ انتخابی فراڈ کے الزامات ناکام شواہد پر مشتمل ہیں۔

جب صدر ٹرمپ فوجی ہیلی کاپٹر میں سوار واشدنگٹن ڈی سی میں ہونے والے جلوس کے اوپر سے پرواز کر رہے تھے تو اس وقت مظاہرین نے ان کی حمایت میں نعرے لائے تھے۔ صدر ٹرمپ اُس وقت نیو یارک میں ایک فوجی اڈے ویسٹ پوائنٹ میں آرمی-نیوی کے درمیان فٹ بال دیکھنے جا رہے تھے۔

صدر ٹرمپ نے اس ریلی کی حمایت میں ٹویٹ بھی پوسٹ کیا تھا۔