آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مراکش کا اسرائیل کو تسلیم کرنا خطے پر کیسے اثر انداز ہو گا؟
’مراکش نے اسرائیل کو کیوں تسلیم کیا؟‘ گذشتہ شب سے یہی وہ سوال ہے جو مسلم دنیا کے کئی باشندوں کے لبوں پر ہے۔
اس کا سادہ جواب ہے مفادات: ٹرمپ انتظامیہ کا مغربی صحارا پر مراکش کی خود مختاری کو تسلیم کرنے کا حالیہ اقدام ایک بڑی پیشرفت تھی کیونکہ اس سے ان تمام لوگوں کی امیدیں ختم ہوتی ہے جو کئی دہائیوں سے اس علاقے کی آزادی کے خواہشمند ہیں۔
دراصل ٹرمپ انتظامیہ نے مراکش سے یہ معائدہ اس کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بدلے کیا ہے۔
واضح رہے کہ رواں برس میں مراکش چوتھا عرب ملک کے ہے جس نے اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات قائم کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔ اس سے قبل متحدہ عرب امارات، بحرین اور سوڈان بھی اسرائیل سے تعلقات کے معاہدے طے کر چکے ہیں۔
شمالی افریقہ میں بی بی سی کے نامہ نگار رانا جواد کے مطابق اقوام متحدہ ابھی بھی مغربی صحارا کی آزادی کے لیے ریفرنڈم کی نگرانی کرنے کا پابند ہے، اگرچہ سنہ 1991 سے یہ ریفرنڈم عمل میں نہیں لایا گیا، جب اقوام متحدہ نے مغربی صحارا میں مینورو کے نام سے اپنا مشن قائم کیا تھا۔
ریفرنڈم نہ ہونے کی وجہ سے مراکش اور پولیساریو فرنٹ کے مابین مذاکرات طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہیں اور اس کے بغیر ایک نئی آزاد ریاست کا قیام ممکن نہیں۔
مراکش کے اسرائیل کو تسلیم کرنے اور امریکہ کے مغربی صحارا پر مراکش کی خودمختاری تسلیم کرنے کے اقدام سے آج ایک آزاد مغربی صحارا کے خیال میں واضح طور پر کمی آئی ہے جس سے حالیہ مہینوں میں پیدا ہونے والے تناؤ میں مزید خرابی آ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مغربی صحارا کا تنازع کیا ہے؟
مغربی صحارا کا متنازع علاقہ ماضی میں ہسپانوی نو آبادیات کا حصہ رہا ہے۔ مراکش اور الجزائر کے حمایت یافتہ پولیساریو فرنٹ کے مابین اس علاقے میں کئی دہائیوں سے جھڑپیں جاری ہیں اور سنہ 1991 میں یہاں اقوام متحدہ کی ثالثی میں اس شرط پر جنگ بندی ہوئی تھی کہ سنہ 1992 میں یہاں ریفرینڈم کرایا جائے گا، جو آج تک نہیں ہو سکا۔
پولیساریو اس خطے کو ایک آزاد ریاست بنانا چاہتے ہیں لیکن اب امریکہ نے اس علاقے پر مراکش کا اختیار تسلیم کرلیا ہے۔
اسرائیل، مراکش معاہدے میں کیا ہے؟
امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں اعلان کرتے ہوئے لکھا: ’آج ایک اور تاریخی پیشرفت۔۔۔ ہمارے دو عظیم دوست اسرائیل اور مراکش مکمل سفارتی تعلقات قائم کرنے پر رضا مند ہو گئے ہیں۔ یہ مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک بڑی پیشرفت ہے۔‘
وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ اور مراکش کے بادشاہ نے مراکش اور اسرائیل کے مابین سفارتی تعلقات کو دوبارہ شروع کرنے اور علاقائی استحکام کو آگے بڑھانے کے لیے معاشی اور ثقافتی تعاون کو بڑھانے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔
معائدے کے مطابق رباط اور تل ابیب میں فوری طور پر رابطہ دفاتر کھولے جائیں گے جبکہ مراکش اسرائیل کے لیے براہ راست پروازوں کا آغاز بھی کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا: ’مراکش نے امریکا کو سنہ 1777 میں تسلیم کیا تھا اور یہ بات مناسب ہے کہ ہم مغربی صحارا میں اس کی خودمختاری کو تسلیم کر رہے ہیں۔‘
وائٹ ہاوس کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’صدر نے مغربی صحارا میں مراکش کی خود مختاری کو بھی تسلیم کرلیا ہے۔ صدر نے مراکش کو اپنے تعاون اور مغربی صحارا میں حقیقت پر مبنی خود مختاری کی تجاویز کی حمایت کا یقین دلایا جو پائیدار ہو گی۔‘
اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو نے اس ’تاریخی‘ معائدے کو سراہا ہے۔ انھوں نے ٹی وی خطاب میں مراکش کے بادشاہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور مراکش کے عوام کے مابین ’جدید دور میں اہم رشتہ‘ رہا ہے۔
مراکش میں شاہی محل سے جاری بیان میں اس معائدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا کہ بادشاہ محمد ششم نے امریکی صدر ٹرمپ سے ٹیلیفون پر بات میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
شاہی بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراکش کے بادشاہ نے کہا ہے کہ ’ان اقدامات سے کسی بھی طرح سے فلسطین کے منصفانہ مقاصد کے لیے مراکش کے عزم پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بادشاہ نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے بات کی ہے اور انھیں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ’فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے دفاع میں اپنے کردار سے ہرگز دستبردار نہیں ہوں گے۔‘
اقوام متحدہ میں پولیساریو فرنٹ کے نمائندے سیدی عمر نے اس تازہ ترین اعلان پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی صحارا کی ’قانونی حیثیت کا تعین بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں سے ہوتا ہے۔‘
انھوں نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں لکھا: ’اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ مراکش کی حکومت مغربی صحارا کے کچھ حصوں پر اپنے غیر قانونی قبضے کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی روح فروخت کرنے پر تیار ہے۔‘
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پولیساریو فرنٹ کے یورپ کے نمائندے اوبی بچرایا نے کہا ہے کہ امریکی پالیسی میں تبدیلی ’اس تنازعے کی حقیقت اور مغربی صحارا کے عوام کے حق خودارادیت کو ایک انچ بھی نہیں بدلے گی۔‘
دوسری جانب فلسطین نے مراکش اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی مذمت کی ہے جبکہ مصر، متحدہ عراب امارت اور بحرین نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے بیانات جاری کیے۔