آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بحرین اور متحدہ عرب امارات کے بعد سوڈان اور اسرائیل میں بھی تعلقات معمول پر لانے پر اتفاق ہو گیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ سوڈان اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے سوڈان کو ’دہشتگردوں کی سرکاری طور پر سرپرستی کرنے والے ممالک‘ کی فہرست سے نکال کر ملک میں معاشی امداد اور سرمایہ کاری کو بھی بحال کر دیا ہے۔
یہ اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ’کم از کم پانچ مزید‘ عرب ممالک بھی اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ چند ہفتے قبل ہی متحدہ عرب امارات اور بحرین نے بھی اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کیے ہیں۔ جس کے بعد یہ دونوں ملک 26 برس میں اسرائیل کو تسلیم کرنے والی پہلی خلیجی ریاستیں بن گئیں ہیں۔
سوڈان اور اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ ایک سہ فریقی اعلامیے میں کہا کہ 'اگلے چند ہفتوں میں' وفود ملاقاتیں کریں گے۔
بیان کے مطابق: 'رہنماؤں نے سوڈان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے اور دونوں اقوام کے درمیان حالتِ جنگ کو ختم کرنے پر اتفاق کیا۔'
سنہ 1979 میں مصر جبکہ سنہ 1994 میں اردن نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کیے تھے۔ افریقی عرب لیگ کے رکن موریطانیہ نے سنہ 2009 میں اسرائیل کو تسلیم کر لیا تھا لیکن 10 سال بعد اس نے تعلقات منقطع کر دیے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسرائیل کے ساتھ باضابطہ تعلقات بنانے والے عرب ممالک کی بڑھتی ہوئی تعداد کی فلسطینیوں نے مذمت کی ہے۔
تاریخی طور پر عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ امن مذاکارت کو 1967 کی جنگ میں مقبوضہ علاقوں سے انخلا اور مشرقی یروشلم کو فلسطینی ریاست کے دارالحکومت کے قیام سے مشروط کر رکھا تھا۔
یہ اعلان کیسے کیا گیا؟
صدر ٹرمپ کے سوڈان کو دہشتگردوں کی سرکاری طور پر سرپرستی کرنے والے ممالک کی امریکی فہرست سے نکالنے کے فوراً بعد واشنگٹن میں نامہ نگاروں کو اوول آفس لے جایا گیا جہاں صدر ٹرمپ سوڈان اور اسرائیل کے رہنماؤں کے ساتھ فون پر بات کر رہے تھے۔
اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ یہ معاہدہ ’امن کے لیے ڈرامائی پیشرفت‘ اور ایک ’نئے دور‘ کا آغاز ہے۔
انھوں نے کہا کہ اسرائیل اور سوڈان کے وفود تجارتی اور زرعی تعاون پر تبادلہ خیال کے لیے ملاقات کریں گے۔
سوڈان کے وزیراعظم عبداللہ ہمدوک نے اپنے ملک کو دہشت گردی کی فہرست سے ہٹانے پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ سوڈان کی حکومت ’بین الاقوامی تعلقات کے لیے کام کر رہی ہے جو ہمارے عوام کی بہترین خدمت کے لیے ہے۔‘
سوڈان کے سرکاری ٹی وی نے کہا کہ ’جارحیت کی حالت‘ ختم ہو جائے گی۔
اس موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں سعودیہ عرب بھی اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لے آئے گا۔
امریکی صدر کے معاون جوڈ ڈیری نے کہا کہ سوڈان کا معاہدہ ’مشرق وسطی میں امن کی راہ میں ایک اور اہم قدم ہے جس کے مطابق ایک اور ریاست نے ابراھیم معاہدوں میں شمولیت اختیار کی ہے، یہ اصطلاح اسرائیل کے متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ معاہدوں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
تاہم فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے معاہدے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو بھی فلسطینیوں کی جانب سے بولنے کا حق نہیں۔ حماس، جو غزہ کو کنٹرول کرتا ہے، نے کہا کہ یہ ایک ’سیاسی گناہ‘ ہے۔
اسرائیل نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات کو اعلی درجے کے فوجی ہارڈویئر کی امریکی فروخت کی مخالفت نہیں کرے گا۔ امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے بعد متحدہ عرب امارات کو ایف 35 لڑاکا طیارے خریدنے کی اجازت دینے پر غور کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
تاہم اسرائیل نے کہا تھا کہ مشرق وسطی کی دیگر ریاستوں کے مقابلے میں فوجی فائدہ برقرار رکھنے کی ضرورت ہے لیکن اس ہفتے کے شروع میں کہا گیا تھا کہ امریکہ اسرائیلی فوجی صلاحیتوں کو اپ گریڈ کرنے پر راضی ہو گیا ہے۔
ہم یہاں کیسے پہنچے؟
سنہ 1948 میں اسرائیل کے وجود میں آنے کے بعد سے سوڈان اسرائیل کا دشمن رہا ہے۔
سوڈان ہی وہ مقام ہے جہاں سنہ 1967 میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے خلاف اعلامیہ پیش کیا گیا تھا۔ دارالحکومت خرطوم میں عرب لیگ نے ’اسرائیل کے ساتھ امن نہیں، اسرائیل کو تسلیم نہیں کرنا اور اس کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں‘ کا حلف لیا تھا۔
سوڈان نے سنہ 1948 اور 1967 میں اسرائیل کے خلاف جنگیں بھی لڑی اور فلسطینی گوریلا گروہوں کو پناہ گاہ فراہم کی۔ سوڈان پر شبہ کیا جاتا ہے کہ اس نے کئی سال قبل غزہ میں فلسطینی عسکریت پسندوں کو ایرانی اسلحہ بھیجا تھا۔
طویل عرصے تک سوڈان کے حکمران رہنے والے عمر البشیر کے اقتدار کے خاتمے اور اس کی جگہ عبوری سویلین ملٹری کونسل کے باعث ملک کے سیاسی محرکات میں تبدیلی آئی ہے۔
سوڈان میں حقیقی طاقت کے مالک جرنیلوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی حمایت کی ہے تاکہ سوڈان پر امریکی پابندیاں ختم ہو جائیں اور بری طرح سے معاشی بدحالی کے شکار ملک میں امداد کی راہیں کھل سکیں۔
اس ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ افریقہ میں امریکی سفارتخانوں پر حملوں کا 33 کروڑ 50 لاکھ ڈالر زرِ تلافی ملنے کے بعد سوڈان کو دہشتگردوں کی سرکاری طور پر سرپرستی کرنے والے ممالک کی فہرست سے نکال دیا جائے گا۔
سنہ 1998 میں کینیا اور تنزانیہ میں یہ حملے القاعدہ نے کیے تھے جب اس تنظیم کے رہنما اسامہ بن لادن سوڈان میں مقیم تھے۔
سوڈان نے ان حملوں کے متاثرین کے لیے یہ رقم ایک خصوصی ہولڈنگ اکاؤنٹ میں جمع کروا رکھی ہے۔