امریکی صدارتی انتخاب: چین نے بالآخر جو بائیڈن کو صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دے دی

چین نے بالآخر اپنی خاموشی توڑتے ہوئے جو بائیڈن کو امریکی صدارتی انتخاب میں متوقع کامیابی پر مبارکباد دے دی ہے۔

جمعہ کے روز چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ 'ہم امریکی عوام کی خواہشات کا احترام کرتے ہیں اور بائیڈن اور کملا ہیرس کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔'

چین اور امریکہ کے درمیان تعلقات دونوں ممالک کے ساتھ ساتھ دیگر دنیا کے لیے بھی بہت اہم ہیں۔ حالیہ عرصے میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت، جاسوسی اور عالمی وبا جیسے معاملات پر تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

روس نے تاحال بائیڈن کو مبارکباد پیش نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیے

چار برس قبل روسی صدر ولادیمر پوتن ڈونلڈ ٹرمپ کو الیکشن میں فتح کی مبارکباد دینے والے رہنماؤں میں سب سے آگے تھے۔ تاہم ان کی جانب سے اس بار بائیڈن کوئی ٹویٹ، ٹیلی گرام یا فون کال نہیں کی گئی۔

روسی حکومت کے ترجمان دمتری پیسکوو نے رپورٹرز کو بتایا کہ 'ہمارا ماننا ہے کہ اس موقع پر صحیح فیصلہ یہی ہے کہ ہم الیکشن کے سرکاری نتائج کا انتظار کریں۔'

اگر سادہ الفاظ میں بتایا جائے تو چینی رہنماؤں خاص طور پر ملک کے طاقتور صدر شی جن پنگ نے تسلیم کر لیا ہے اور وہ یہ امید رکھتے ہیں کہ جو بائیڈن ہی جنوری میں امریکی کے نئے صدر منتخب ہوں گے۔

اب تک چینی حکومت اتنظار کر رہی تھی اور ان کی جانب سے اب تک صرف یہی کہا گیا تھا کہ 'یہ ہمارے علم میں آیا ہے کہ بائیڈن کو فاتح قرار دیا جا چکا ہے۔‘

روس کے صدر ولادیمیر پوتن

چار سال قبل پوتن ان اولین رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو الیکشن میں جیت کی مبارکباد دی۔

اس بار جو بائیڈن کے لیے کوئی ٹویٹ، ٹیلی گرام یا فون کال نہیں تھی۔ کریملن کے ترجمان دمیتری پیسکوف کا کہنا ہے اس تاخیر کی وجہ کی وجہ ٹرمپ کی جانب سے کچھ ریاستوں میں نتائج کو قانونی طور پر چیلنج کیا جانا ہے۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمارا خیال ہے کہ صحیح چیز یہ ہوگی کہ ہم سرکاری نتائج کا اعلان کریں۔

تاہم ماسکو میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق مبارکباد نہ دیے جانے کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ماسکو ان نتائج پر زیادہ پرجوش نہیں ہے۔

دراصل جو بائیڈن ماسکو کے کھلے ناقد ہیں اور حال ہی میں انھوں نے روس کو امریکہ کے خلاف سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔

اس کی نسبت ٹرمپ نے روس پر بہت کم تنقید کی اور روس پر یہ الزام بھی تھا کہ اس نے سن دو ہزار سولہ کے الیکشن میں مداخلت کی تاکہ ٹرمپ انتخاب جیت جائیں۔

برازیل کے صدر جائر بولسنارو

بولسنارو کو صدر ٹرمپ کا اتحادی سمجھا جاتا ہے بلکہ انہیں ٹراپکس کا ٹرمپ بھی کہا جاتا ہے۔

ان کا جو بائیڈن کو مبارکباد نہ دینا کوئی حیران کن نہیں ہے کیونکہ ماضی میں بھی وہ سابق امریکی نائب صدر جوبائیڈن پر تنقید کر چکے ہیں۔

انھوں نے صدارتی بحث کے دوران جو بائیڈن کے اس بیان کو تباہ کن اور غیر ضروری قرار دیا تھا جس میں انھوں نے کہا کہ امریکہ ایمیزون کے جنگلات کے تحفظ کے لیے برازیل پر دباؤ ڈالے۔

برازیل کے میڈیا نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ مسٹر بولسنارو کا ارادہ ہے کہ وہ ٹرمپ کی جانب سے قانونی چارہ جوئی مکمل ہونے تک انتظار کریں گے۔

میکسیکو کے صدر آندریس مینوئل لوپار ابرایڈر

صدر ٹرمپ کے پناہ گزینوں کے حوالے سے سخت موقف کے باوجود لاطینی امریکہ کے رہنما نے ان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کی، خاص طور پر صدر ٹرمپ کی جانب سے دونوں ممالک کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کے باوجود بھی۔

تاہم میکسیکو کے رہنما امریکی انتخابات کے بارے میں کافی محتاط رہے اتوار کو ان کا کہنا تھا کہ وہ وہ اس حوالے سے قانونی مسائل کے حل تک انتظار کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم کوئی بے وقوفی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہتے ہیں، اور نہ ہی ہم کوئی سطحی اقدام کرنا چاہتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے دونوں ہی صدارتی امیدواروں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔

ان کے اس مبہم موقف پر پر کئی سینیئر امریکی ڈیموکریٹ نے تنقید کی اور اسے ایک سفارتی ناکامی قرار دیا۔

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان

کوریا کے رہنما کی جانب سے بھی امریکی انتخاب پر کوئی ردعمل نہیں دیا گیا۔ ہم سن دو ہزار سولہ میں بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے دو دن بعد تک کوئی ذکر نہیں ہوا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ کی تین تاریخی ملاقاتیں ہوئیں۔ تاہم جو بائیڈن نے مسٹر کم کو ایک ٹھگ قرار دیا اور کہا کہ وہ ان کے ساتھ ذاتی سفارتی تعلقات میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ جواباً شمالی کوریا کے رہنما نے مسٹر بائیڈن کو ’ایک بیوقوف اور کم عقل انسان‘ قرار دیا۔