آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن: ’ایک ایسا صدر بنوں گا جو لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کرے‘

ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن نے متوقع نتائج کے مطابق امریکہ کا 59واں صدارتی انتخاب جیت لیا ہے۔ انھیں ریاست پینسلوینیا میں کامیابی کے بعد 20 الیکٹورل کالج ووٹ حاصل ہوئے ہیں جس کے بعد ان کے کل الیکٹورل ووٹ 273 ہو گئے ہیں جبکہ امریکی صدر منتخب ہونے کے لیے 270 الیکٹورل ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

لائیو کوریج

  1. بی بی سی اردو کی امریکی صدارتی انتخاب کی کوریج کا اختتام، یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں ہوگا

    امریکی صدارتی انتخاب میں متوقع نتائج کے مطابق جو بائیڈن کو امریکہ کا 46واں صدر منتخب کر لیا گیا ہے اور وہ اگلے سال 20 جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

    موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اب تک شکست تسلیم کرنے کا اعلان نہیں کیا ہے اور جو بائیڈن کی جیت کے اعلان کے بعد سے کوئی عوامی پیغام بھی نہیں دیا ہے۔

    بی بی سی اردو کی جانب سے اب امریکی صدارتی انتخاب کی لائیو کوریج کا اختتام ہوا چاہتا ہے اور یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں ہوگا۔

    صدارتی انتخاب اور اس کے حوالے سے ہمارے مختلف مضامین ہماری ویب سائٹ پر موجود ہیں۔

    • امریکی صدارتی انتخاب: کب کیا ہوا؟
    • امریکی صدارتی انتخاب: 'ایسا صدر بنوں گا جو لوگوںکو تقسیم کرنے کے بجائے انھیں متحد کرے: جو بائیڈن
    • امریکی صدارتی انتخاب 2020 کے نتائج: جو بائیڈن امریکہکے 46ویں صدر منتخب، اب آگے کیا ہو گا؟
    • امریکی صدارتی انتخاب 2020: امریکہ کے نو منتخب صدرجو بائیڈن کون ہیں؟
    • کملا ہیرس: امریکہ میں نئی تاریخ رقم کرنے والی پہلی خاتون اور غیرسفید فام نائب صدر کون ہیں؟
    • امریکی صدارتی انتخاب 2020: اہم معاملات پر نو منتخبامریکی صدر جو بائیڈن کا کیا مؤقف ہے؟
  2. بریکنگ, ’ایک ایسا صدر بنوں گا جو لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے انھیں ملائے‘

    امریکہ کے نو منتخب صدر جو بائیڈن نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ وہ وعدہ کرتے ہیں کہ وہ ایک ایسے صدر ہوں گے جو تفرقہ پھیلانے کے بجائے لوگوں کو آپس میں ملائے، جو نیلی ریاست (ڈیموکریٹس) یا لال ریاست (رپبلکن) نہیں دیکھے گا بلکہ پورا امریکہ دیکھے گا اور اپنا پورا دل و جان لگا کر اپنی قوم کے اعتماد جیتنے کی کوشش کرے گا۔

    ریاست ڈیلاوئیر کے شہر ولمنگٹن کے چیز سینٹر سے خطاب کرتے ہوئے نو منتخب صدر جو بائیڈن نے مزید کہا کہ وہ بہت شکر گزار ہیں کہ ان پر بھروسہ اور اعتماد کیا گیا جس کی مدد سے وہ امریکی صدارتی انتخابات کی تاریخ میں سات کروڑ چالیس لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے سب سے زیادہ ووٹ لینے والے صدر بن گئے۔

  3. بریکنگ, امریکہ کے نو منتخب صدر جو بائیڈن کا قوم سے بحیثیت صدر پہلا خطاب

    امریکی صدارتی انتخاب کے فاتح جو بائیڈن نے منتخب ہونے کے بعد اپنا پہلا خطاب دے رہے ہیں۔

    اس سے قبل نو منتخب نائب صدر کملا ہیرس نے بھی اپنا خطاب دیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ وہ وہ اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون ضرور ہیں لیکن آخری نہیں۔

    انھوں نے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ امریکہ کے لیے ایک نئے دن کا آغاز ہے۔

  4. آج ٹرمپ کا خطاب متوقع نہیں

    ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کے مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے گیارہ بجے فلاڈیلفیا میں پریس کانفرنس کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم بائیڈن کی کامیابی کے کچھ ہی گھنٹوں میں شاید انھوں نے اپنا یہ ارداہ بدل لیا اور توقع نہیں کی جا رہی کہ وہ اب تقریر کریں گے۔

    تاہم ٹوئٹر پر اب سے تھوڑی دیر قبل انھوں نے اپنی ٹویٹس میں ایک بار پھر بغیر کسی ثبوت کے صدارتی انتخاب میں دھاندلی کا الزام عائد کیا ہے۔

  5. ٹرمپ نے ایک اور مقدمہ دائر کر دیا

    گذشتہ کچھ دنوں میں ٹرمپ بغیر کوئی ثبوت پیش کیے بغیر کئی بار صدارتی انتخاب میں بے ضابطگیوں کے الزام عائد کر چکے ہیں۔

    اب ان کی انتخابی دفتر نے ایریزونا میں ایک اور مقدمہ دائر کر دیا ہے جس میں الیکشن کے روز ڈالے گئے ووٹوں کو غلط طریقے سے مسترد کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

  6. ایران اور روس کا میڈیا خاموش

    ایران کے ٹی وی چینلز نے جو بائیڈن کی فتح پر کوئی اہم تبصرہ نہیں کیا، جو ایران کے اس دعوے کا عکاس ہے کہ ایران کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ امریکہ کی قیادت کون کرتا ہے۔

    ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایک ٹویٹ دوبارہ پوسٹ کی ہے، جو انھوں نے انتخابی دن پر شیئر کی تھی، جس میں انھوں نے اس دوڑ کو ’لبرل جمہوریت کا بدصورت چہرہ‘ قرار دیا تھا۔

    ایک ٹی وی چینل نے کچھ ایرانی لوگوں کی رائے لی جس میں یہی کہا گیا ہے کہ بائیڈن اور ٹرمپ کے مابین کوئی فرق نہیں اور ایرانیوں کو امریکی سیاستدانوں پر کوئی اعتماد نہیں رکھنا چاہیے بلکہ صرف اپنے آپ پر انحصار کرنا چاہیے۔‘

    دوسری جانب روسی میڈیا بھی اس حوالے سے خاموش نظر آ رہا ہے۔ مشہور چینل ون کے شام کے سب سے اہم بلیٹن میں یہ خبر چوتھے نمبر پر چلائی گئی ہے۔

  7. بائیڈن اور کملا کے لیے مبارکباد کے پیغام

    جو بائیڈن کو دنیا بھر سے مبارکباد کے پیغام وصول ہو رہے ہیں لیکن ان کے سب سے بڑے حمایتی ان کے گھروں میں ہیں۔

    بائیڈن کی فتح کے اعلان کے فوری بعد ان کی اہلیہ اور بیٹی نے ٹوئٹر پر مستقبل کے صدر کے ساتھ اپنی تصاویر شیئر کیں۔

    نو منتخب نائب صدر کملا ہیرس کے شوہر اور ان کی بہن نے بھی ٹوئٹر پر کملا کو مبارکباد دیتے ہوئے فیملی کی تصاویر شیئر کی ہیں۔

  8. بریکنگ, جو بائیڈن مقامی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے خطاب کریں گے

    امریکہ کے نو منتخب صدر جو بائیڈن مقامی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے (پاکستانی وقت کے مطابق صبح چھ بجے) خطاب کریں گے۔ ان کے ساتھ نو منتخب نائب صدر کملا ہیرس بھی ہوں گی۔

    یہ تقریب امریکی ریاست ڈیلاویئر کے شہر ولمنگٹن میں ہو گی۔ اس موقع پر بائیڈن کی اہلیہ جبکہ کملا ہیرس کے شوہر بھی ان کے ساتھ موجود ہوں گے۔

  9. ٹرمپ: ’یہ الیکشن میں جیتا اور مجھے 71،000،000 ووٹ ملے‘

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تازہ ٹویٹ محیں ایک بار پھر دھاندلی کے الزامات کو دہرایا ہے۔

    انھوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا: ’مبصرین کو گنتی کے کمروں میں اجازت نہیں دی گئی تھی۔ یہ الیکشن میں جیتا اور مجھے 71،000،000 قانونی ووٹ ملے۔ بری چیزیں ہوئیں ہیں جنھیں ہمارے مبصرین کو دیکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ ڈاک کے ذریعے وصول ہونے والے لاکھوں ووٹ ان لوگوں کو بھیجے گئے، جنھوں نے وہ مانگے ہی نہیں تھے۔‘

    اس سے اگلی ایک ٹویٹ میں انھوں نے دوبارہ دہرایا: ’71،000،000 قانونی ووٹ۔ صدارتی دفتر میں موجود کسی صدر کے لیے اب تک کے سب سے زیادہ ووٹ۔‘

  10. پروکلین سے نو منتحْب صدر کے لیے پیغام ’ شکریہ جو‘

    جہاں جو بائیڈن کی فتح کا جشن مناتے ہوئے ان کے کئی حمایتی سڑکوں پر نکل آئے تو وہیں ڈیموکریٹ سینٹر چک شمر بھی بروکلین کی سڑکوں پر نظر آئے۔

    سینٹر چک شمر نے اپنے ہاتھ میں فون اٹھا رکھا تھا اور ان کے ساتھ کال پر جو بائیڈن تھے اور اس دوران نو منتخب صدر کے حمایتیوں نے چیختے ہوئے انھیں شکریہ کہا۔

  11. اوباما: بائیڈن تمام ’غیر معمولی چیلنجز‘ کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں

    امریکہ کے سابق صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ان کے سابق نائب صدر تمام ’غیر معمولی چیلنجز‘ کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں جن میں ایک وبائی مرض، غیر مساوی معیشت اور انصاف کا نظام، خطرے سے دوچار جمہوریت اور ماحول کو درپیش چیلنجز شامل ہیں۔

    براک اوباما نے جو بائیڈن کی فتح پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بائیڈن ان امریکیوں کے لیے بھی کام کریں گے جنھوں نے ان کی حمایت نہیں کی۔

    براک اوباما نے جو بائیڈن اور کملا ہیرس کو مبارکباد دینے کے لیے فون بھی کیا ہے۔

  12. بائیڈن کی فتح کے اعلان کے وقت ٹرمپ گالف کھیل رہے تھے

    اطلاعات کے مطابق صدارتی دوڑ میں بائیڈن کی فتح کے اعلان کے وقت ڈونلڈ ٹرمپ ورجینا کلب میں گالف کھیل رہے تھے۔

    ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اعلان کے بعد بائیڈن کے حمایتی خوشی جبکہ ٹرمپ کے حمایتی غم کا اظہار کرنے کلب پہنچ گئے۔

  13. بائیڈن امریکہ کے 46ویں نومنتخب صدر: بی بی سی اردو کا واشنگٹن سے خصوصی فیس بک لائیو

  14. برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کی جو بائیڈن کو مبارکباد

    برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے بھی امریکہ کے منتحب ہونے والے نئے صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کمالا ہیرس کو کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔

    ٹویٹ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کملا امریکہ کی پہلی خاتون نائب صدر بنی ہیں جو کہ ایک ’یادگار لمحہ‘ ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ وہ بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ قریبی تعلقات اور ایک ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرامید ہیں۔

  15. جو بائیڈن کی فتح پر حامی ووٹرز کا ردعمل تصاویر میں

  16. دنیا کے سیاسی رہنماؤں کا جو بائیڈن کی فتح پر ردعمل

    جو بائیڈن کی امریکی صدارتی انتخاب میں کامیابی کی خبر آتے ہی دنیا کے مخلتف سیاسی رہنماؤں نے فوراً ٹوئٹر پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے انھیں کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔

    کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے انھیں اور نائب صدر کمالا ہیرس کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ہم دونوں ممالک قریبی دوست، اتحادی اور ساتھی ہیں، ہم عالمی سطح پر ایک خاص تعلق میں ہیں، میں آپ دونوں کے ساتھ اس تعلق میں مزید بڑھاوا دینے کے لیے پر امید ہوں۔‘

    جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ائرلینڈ کے رہنما، سکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹرنکولا سٹرجن نے بھی ٹوئٹ کرتے ہوئے انھیں مبارکباد دی۔ جبکہ برطانیہ کی لیبر پارٹی اور اپوزیشن کے رہنما کیئر سٹارمر سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی جو بائیڈن کو کامیابی پر مبارکباد دی۔

  17. بریکنگ, 77 سالہ بائیڈن امریکہ کے معمر ترین نومنتخب صدر ہیں

  18. کملا ہیرس: امریکہ کی پہلی خاتون اور غیر سفیدفام نائب صدر

  19. ’الیکشن ابھی ختم نہیں ہوا‘: ڈونلڈ ٹرمپ

    صدر ٹرمپ جو بظاہر اس وقت اپنے ورجینیا کے ریزورٹ میں گالف کھیل رہے تھے جب جو بائیڈن کی کامیابی کی پیش گوئی کی گئی نے اس خبر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم سب جانتے ہیں کہ کیسے جو بائیڈن غلط طریقے سے فاتح قرار دیے جانے میں عجلت کر رہے ہیں اور کیوں ان کے میڈیا کے ساتھ اس میں ان کی بھرپور مدد کر رہے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ سچائی سب سے سامنے آئے۔‘

    ان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سادہ سی حقیقت یہ ہے کہ الیکشن ابھی ختم نہیں ہوا۔‘ انھوں نے واضح طور پر اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک الیکشن حکام نے ووٹوں کی گنتی کی تصدیق نہیں کی ہے اور یہ تمام اعلانات نیوز میڈیا کی جانب سے ہیش گوئیوں کے ہیں۔

    تاہم ہم یہ واضح کر دیں کہ کسی انتخاب کے بعد یہ معمول کی بات ہے کہ میڈیا جیتنے والے امیدوار کے فتح کی پیش گوئی اس ووٹوں کے تجزیہ کی بنیاد پر کرتا ہے جن کی گنتی کا عمل مکمل ہو چکا ہوں۔

  20. بائیڈن کی ٹیم کا بیان: ’امریکہ کے متحد ہونے کا وقت ہے‘

    امریکہ کے نے منتخب ہونے والے صدر جو بائیڈن کی سیاسی ٹیم نے ان کی فتح کی پیش گوئی کے فوراً بعد بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 25 برسوں میں پہلے امید وار ہیں جنھوں نے صدارتی عہدے سبکدوش ہونے والے صدر کو شکست دی ہو۔

    اس بیان میں جو بائیڈن کا امریکی عوام کے نام پیغام جاری کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’امریکی عوام کی جانب سے مجھ پر اور نائب صدر کمالا ہیرس پر اعتماد کرنے پر مشکور ہوں‘

    بیان میں کہا گیا کہ ’امریکی عوام نے بہت سی رکاوٹوں کے باوجود ریکارڈ تعداد میں ووٹ ڈالے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی ہے۔‘

    اب جبکہ انتحابی مہم ختم ہو گئی ہے لہذا اپنے سیاست اختلاف بھلا کر اور ایک ساتھ ایک قوم کی طرح قریب آنے کا وقت آ گیا ہے۔ یہ امریکہ کے لیے متحد ہونے کا وقت ہے۔ ہم متحدہ ریاست ہائے امریکہ ہیں اور ایسا کچھ نہیں ہے جو ہم متحد ہو کر نہ کر سکیں۔