آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ناگورنو قرہباخ تنازع: آرمینیا نے روس سے مدد مانگی تو ترکی کے وزیر خارجہ آذربائیجان پہنچ گئے
ترکی نے ناگورنو قرہباخ کے متنازع علاقے میں آرمینیا کے ساتھ لڑ رہے آذربائیجان کے لیے ایک بار پھر اپنی بھرپور حمایت کا اظہار کیا ہے۔
اتوار کو ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اوغلو آذربائیجان کے دارالحکومت باکو پہنچے اور انھوں نے آذربائیجان کے صدر الہام علییف سے ملاقات کی۔
انھوں نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین جاری محاذ آرائی میں ترکی اپنے اتحادی آذربائیجان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔ انھوں نے واضح طور پر کہا کہ 'ترکی باکو میں اپنے آذری بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔'
روس کی آرمینیا کے لیے ممکنہ دفاعی امداد پر بات چیت کے ایک دن بعد ترک وزیر خارجہ آذربائیجان پہنچے تھے۔
اس سے قبل آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پاشنیان نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کو خط لکھا تھا اور ناگورنو قرہباخ کی محاذ آرائی میں مدد طلب کی تھی۔
اس کے جواب میں سنیچر کو روس نے کہا تھا کہ اگر یہ لڑائی آرمینیا تک پہنچ جاتی ہے تو روس دفاعی معاہدے کے تحت آرمینیا کو ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
آذربائیجان کے صدر الہام علییف نے آرمینیا کے وزیر اعظم کے خط کو 'شکست قبول کرنا' قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
'آرمینیا ہتھیار نہیں ڈالنا چاہتا ہے'
الہام علییف نے کہا کہ 'اگر دیکھا جائے تو آرمینیا نے شکست قبول کرلی ہے لیکن وہ ہتھیار ڈالنا نہیں چاہتا ہے۔'
انھوں نے کہا کہ آذربائیجان اس معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے لیکن 'آرمینیا کو امن سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ وہ ہمیشہ قرہباخ کے علاقے پر قبضہ چاہتے ہیں۔'
انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے جن علاقوں پر آذربائیجان نے دوبارہ اپنا قبضہ کرلیا تھا، ’ان علاقوں پر آرمینیا اپنا قبضہ چاہتا ہے اور یہی اس لڑائی کی اصل وجہ ہے‘۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ 27 ستمبر کو لڑائی شروع ہونے کے بعد سے آذربائیجان نے قرہباخ کے علاقے میں 200 بستیوں پر قبضہ کر لیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ جب تک آرمینیا پیچھے ہٹ نہیں جاتا ہے اس وقت تک یہ لڑائی جاری رہے گی۔
آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر بین الاقوامی تجزیہ کاروں نے پہلے ہی متنبہ کیا تھا کہ 'اس تنازعے میں ترکی اور روس بھی شامل ہو سکتے ہیں۔'
آذربائیجان اور آرمینیا کے مابین جنگ بندی کی بھی کوششیں کی گئی ہیں لیکن وہ کامیاب نہیں ہوسکیں۔
جنگ بندی کے چند گھنٹوں بعد ہی دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر اس کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرنا شروع کر دیا تھا۔
دونوں ممالک ایک دوسرے پر فائرنگ اور بمباری کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ کئی بار گولہ باری کی خبریں متنازع ناگورنو قرہباخ کے علاقے سے باہر یہاں تک کہ سرحد سے بہت دور کے علاقوں سے بھی موصول ہوئی ہیں۔
آذربائیجان نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ آرمینیا نے نخجوان پر حملہ کیا ہے۔ نخجوان ایک خودمختار جمہوریہ ہے جو آذربائیجان کا ہی حصہ ہے۔ آرمینیا کی ایک پتلی پٹی کی وجہ سے نخجوان جغرافیائی طور پر آذربائیجان کی سرزمین سے کٹا ہوا علاقہ ہے۔
آرمینیا نے نخجوان پر کسی بھی حملے کی تردید کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ آذربائیجان اس پر جھوٹے الزامات لگا کر اسے مشتعل کر رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین جاری جنگ میں ڈرونز کا بڑی تعداد میں استعمال ہو رہا ہے۔
اسی وجہ سے موجودہ جنگ میں ترکی کا ذکر ہوتا رہا ہے۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ ترکی سے خریدے گئے ڈرون ہتھیاروں کی وجہ سے ہی آذربائیجان نے اس جنگ میں برتری حاصل کرلی ہے۔ ترکی کو ملک کے اندر ڈرون حملوں اور ان میں عام شہریوں کی ہلاکتوں پر بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اسی وجہ سے آرمینیا کو مدد کے لیے روس کی طرف دیکھنا پڑا۔
ناگورنو قرہباخ کے حوالے سے اہم حقائق
- یہ تقریباً 4400 مربع کلومیٹر پر محیط پہاڑی علاقہ ہے
- روایتی طور پر یہاں آرمینیائی مسیحی اور ترک مسلمان آباد رہے ہیں
- سوویت دور میں یہ جمہوریہ آذربائیجان کے اندر ایک خودمختار خطہ بنا
- بین الاقوامی طور پر اسے آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے تاہم اس کی اکثریتی آبادی آرمینیائی نسل سے تعلق رکھتی ہے
- خود ساختہ حکام کو آرمینیا سمیت اقوامِ متحدہ کا کوئی بھی رکن تسلیم نہیں کرتا
- یہاں 1988 سے 1994 کے دوران ہونے والی جنگ میں تقریباً 10 لاکھ لوگ دربدر ہوئے جبکہ 30 ہزار لوگ ہلاک ہوئے
- علیحدگی پسند قوتوں نے آذربائیجان کے اس خطے کے گرد اضافی علاقوں پر قبضہ کیا
- سنہ 1994 میں جنگ بندی کے بعد سے اس تنازعے کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے
- ترکی آذربائیجان کی واضح حمایت کرتا ہے
- آرمینیا میں روس کا فوجی اڈہ موجود ہے
- اس علاقے پر قبضے کے لیے 27 ستمبر سنہ 2020 کو آذربائیجان اور آرمینیا کے مابین لڑائی ایک بار پھر شروع ہوئی۔
- خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جنگ میں اب تک ایک ہزار دو سو افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ تاہم یہ کہا جاتا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد اس سے زیادہ ہوسکتی ہے۔