دوسری عالمی جنگ: بلیچلی پارک کے برطانوی کوڈ بریکرز کے کردار کو ’بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا‘

    • مصنف, گورڈن کوریرا
    • عہدہ, نامہ نگار برائے سکیورٹی امور

برطانوی خفیہ ایجنسی جی سی ایچ کیو کی سرکاری تاریخ کے مطابق عوام اکثر کوڈ بریکنگ ہب بلیچلی پارک کی دوسری عالمی جنگ کے لیے خدمات کو ضرورت سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔

منگل کو ایک نئی کتاب ’بیہائنڈ دی اینیگما‘ شائع ہو رہی ہے اور اس میں مواد کو جی سی ایچ کیو کی فائلز سے لے کر چھاپا گیا ہے۔

اس کے مصنف یونیورسٹی آف کیلگری کے پروفیسر جان فیررس نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کے برعکس جیسا کہ بہت سے برطانوی شہری سمجھتے ہیں، بلیچلی کا جنگ جتوانے میں بہت زیادہ کردار بھی نہیں تھا۔

لیکن انھوں نے کہا کہ بلیچلی کا پھر بھی ایک اہم کردار ضرور تھا۔

سگنلز کی انٹیلیجنس کے تاریخ داں کے مطابق دوسری جنگوں میں بھی جی سی ایچ کیو کا اچھا خاصہ اثر تھا۔

یہ بھی پڑھیے

جی سی ایچ کیو، جسے برطانیہ کی دشمن کی سن گن لینے والی چوکی سمجھا جاتا ہے، کا قیام یکم نومبر 1919 کو امن کے دور کے ’کرپٹواینایٹک یونٹ‘ یا رمزی یونٹ، کے طور پر عمل میں آیا تھا۔

دوسری عالمی جنگ کے دوران عملے کو بکنگھم شائر کے بلیچلی پارک میں منتقل کر دیا گیا تھا تاکہ وہ وہاں نازیوں کے پیغامات کو ڈکرپٹ کریں یا سمجھنے کی کوشش کریں۔ ان میں مشہورِ زمانہ اینیگما کمیونیکیشنز بھی تھیں۔

اس میں نازیوں کے احکامات اور حرکات کی اندرونی شکل سامنے آئی تھی۔

اس کام کو کئی دہائیوں خفیہ رکھا گیا ہے لیکن جنگ کے دوران برطانیہ کی خفیہ ایجنسی کی سرکاری تاریخ میں بعد میں کہا گیا کہ اس نے جنگ کو دو سے چار سال کم کر دیا تھا اور اس کے بغیر جنگ کا نتیجہ شاید مختلف نکلتا۔

بلیچلی پارک برطانوی کوڈ بریکنگ اور انٹیلیجنس حاصل کرنے میں اب تک ایک مشہور کامیابی تصور کی جاتی ہے۔ لیکن نئی کتاب میں کہا گیا ہے کہ اس کے گرد بنی گئی کچھ افسانوی کہانیوں نے حقیقت پر پردہ ڈالے رکھا ہے۔

درحقیقت جنگ کے اوائل میں نازیوں کو انٹیلیجنس اور کوڈ بریکنگ میں برطانیہ پر سبقت حاصل تھی، اور اس کی اہم وجہ برطانیہ کی خراب کمیونیکیشن سکیورٹی تھی۔

آخر کار برطانیہ کی انٹیلیجنس اور کوڈ بریکنگ بہتر ہوئی اور اس نے جرمنی کو پیچھے چھوڑ دیا۔ بلیچلی پارک نے زبردست کام کیا اور جلد فتح دلانے میں کردار ادا کیا، لیکن یہ کردار اتنا زیادہ نہیں تھا جتنا پہلے اندازوں میں دعویٰ کیا گیا ہے۔

پروفیسر فیرس کا کہنا ہے کہ ’انٹیلیجنس نے کبھی اپنے بھروسے پر اکیلے جنگ نہیں جتواتی۔‘

انھیں انٹیلیجنس ایجنسی کی فائلز تک بڑے پیمانے پر رسائی دی گئی، اگرچہ کچھ حدود پھر بھی مقرر کی گئیں کہ وہ کیا دیکھ اور لکھ سکتے ہیں، ان دوسرے ممالک کے سفارتی پیغامات میں حالیہ ’انٹرسیپشنز‘ یا مداخلت اور کوڈ بریکنگ کے چند تکنیکی راز بھی شامل تھے۔

’بلیچلی کا تصور

کتاب میں پہلی عالمی جنگ کے بعد سے لے کر آج تک کے سائبر دور تک ایجنسی کی شراکت کا ایک تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے، جس میں امریکی وسل بلوؤر (غیر قانونی کام کی مجاز حکام کو خبر دینے والا) ایڈورڈ سنوڈن کے انکشافات کے اثرات بھی شامل ہیں۔

پروفیسر فیرس لکھتے ہیں کہ ’بلیچلی کے کلٹ‘ نے جی سی ایچ کیو کی حفاظت کی ہے اور اس کی ساکھ کو بڑھاوا دیا ہے، اور یہ حقیقت کہ وہ اس بارے میں سوال اٹھانے کے قابل ہیں اس بات کا ثبوت ہے کہ جی سی ایچ کیو نے انھیں اپنے نتائج اخذ کرنے کی مکمل آزادی دی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’جی سی ایچ کیو شاید اس وقت برطانیہ کا سب سے اہم سٹریٹجک اثاثہ ہے اور نسلوں تک شاید اسی طرح رہے گا۔‘

’مجھے لگتا ہے کہ اسے مضبوط اور عالمی درجہ پر رکھنے سے برطانیہ کا فائدہ ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ آپ کو اسے تناسب میں رکھنے کی بھی ضرورت ہے کہ آپ انٹیلیجنس سے کیا حاصل کر سکتے ہیں اور کیا نہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ بلیچلی کو دشمن کی سٹریٹجک کمیونیکیشن میں داخل ہونے کی صلاحیت کی وجہ سے ابھی بھی ایک اونچا مقام حاصل ہے۔

سرد جنگ میں سوویت یونین کے خلاف یہ ممکن نہیں تھا، حالانکہ جی سی ایچ کیو اس وقت بھی اپنی مخالف فوج کے بارے میں زیادہ تر انٹیلیجنس فراہم کر رہا تھا، جس کی اہم وجہ مواصلات کے نمونوں کا مطالعہ کرنے میں جدید تکنیک تھی۔

پروفیسر فیرس کہتے ہیں کہ 1982 کے فالک لینڈز تنازعے میں بھی ایجنسی کی شراکت بہت اہم تھی۔

پروفیسر فیرس نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ برطانیہ جی سی ایچ کیو کے بغیر فالک لینڈ تنازعہ جیت سکتا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ جی سی ایچ کیو ارجنٹائن کے پیغامات کو روکنے اور اسے توڑنے میں کامیاب رہا تھا، اس لیے برطانوی کمانڈروں کو گھنٹوں میں ہی یہ پتہ چل جاتا کہ ان کے مخالفین کو کیا احکامات جاری کیے جا رہے ہیں، جس نے سمندر میں جنگ اور جزیروں کو واپس لینے میں اہم کردار ادا کیا۔

’انھیں علم تھا کہ ارجنٹائن نے کیا منصوبہ بنایا ہے۔ انھیں علم تھا کہ ارجنٹائن کس طرح اپنی افواج تعینات کر رہا ہے۔‘

اس کتاب میں نئی تفصیلات پیش کی گئی ہیں کہ ارجنٹائن کا جنگی جہاز بیلگرانو متنازع طور پر کیسے ڈوبا اور کیا اس حملے سے متعلق انتباہ کرنے کے لیے مناسب وارننگ دی گئی تھی۔

پروفیسر فیرس نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جہاں تک میرا تعلق ہے یہ انٹیلیجنس کی ناکامی کی بجائے پالیسی کی ناکامی تھی۔‘

کتاب میں امریکہ کے ساتھ قریبی اتحاد کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے جو آج تک برقرار ہے اور یہ بھی کہ کس طرح چیلتینہیم میں مقیم ایجنسی میں کام کرنے والے عملے میں رد و بدل کیا جاتا رہا ہے۔

اپنے پیش لفظ میں انٹیلیجنس ایجنسی کے موجودہ ڈائریکٹر جیریمی فلیمنگ لکھتے ہیں: ’جی سی ایچ کیو ایک سٹیزن فیسنگ اینڈ سکیورٹی انٹرپرائز ہے جس کے برانڈ اور ساکھ کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کا سارا سہرا ہمارے پیش روؤں کے سر ہے۔‘