آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’ارتھ کوئیک‘: پولینڈ میں دوسری عالمی جنگ کے دوران گرایا گیا بم ناکارہ بنانے کی کوشش کے دوران پھٹ گیا
پولینڈ کی بحریہ کے ترجمان کے مطابق ملک میں دوسری جنگ عظیم کے دوران گرایا گیا بم ناکارہ بنانے کی کوشش کے دوران پھٹ گیا ہے۔
حکام کے مطابق بم پھٹنے کی آواز اور دھمک شہر کے چند حصوں میں محسوس کی گئی تاہم زیر آب ہونے کے باعث اس دھماکے سے کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا ہے۔
وارسا سے بی بی سی کے ایڈم ایسٹن کے مطابق پولینڈ کی بحری فوج نے اس بم کو ناکارہ بنانے کے لیے ایک ریموٹ کنٹرول ڈیوائس کا استعمال کیا اور اگر یہ کامیاب ہو جاتی تو اس بم کو بنا دھماکے کے ہی ناکارہ بنایا جا سکتا تھا۔
پولینڈ بحریہ کے اعلیٰ عہدیدار کے مطابق ’اس ڈیوائس کے استعمال کے دوران ہی بم دھماکے سے پھٹ گیا، تاہم اب ہم اس بم کو ناکارہ قرار دے سکتے ہیں اور اس سے بحیرہ بالٹک میں جہاز رانی کے لیے استعمال ہونے والی سوینجوسی کنال کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل پولینڈ کے فوجی غوطہ خوروں نے بحیرہ بالٹک کی جہاز رانی کے لیے استعمال ہونے والی نہر کے نچلے حصے میں برطانوی عالمی جنگ کے دوران گرائے گئے بم کو ناکارہ بنانے کے لیے ایک انتہائی نازک آپریشن کا آغاز کیا تھا۔
آس پاس کی آبادیوں میں سے تقریباً 750 رہائشیوں کو بندرگاہی شہر سوینجوسی کے قریبی علاقے سے نکالا گیا تھا جبکہ بم کو ناکارہ بنانے کی کارروائی میں پانچ دن لگنے کی توقع تھی۔
ٹیل بائے، یا ’زلزلہ‘ نامی اس بم کی لمبائی 6 میٹر (19 فٹ) ہے اور اس کا وزن 5.4 ٹن ہے اور اس کے نصف حصے میں دھماکہ خیز مواد تھا۔
سنہ 1945 میں آر اے ایف نے ایک حملے کے دوران اسے گرایا تھا جس کے باعث جرمنی کا ایک ایک بحری جہاز لاٹزو بھی ڈوبا تھا۔ یہ بم بارہ میٹر کی گہرائی میں تھا اور صرف اس کا سامنے کا حصہ نظر آر رہا تھا۔
اس بم کو ناکارہ بنانے کے لیے ریموٹ کنٹرول ڈیوائس کی مدد لی گئی اور اس کے لیے غوطہ خوروں نے کئی دن لگا کر سائٹ تیار کر رکھی تھی۔ یہ بم پچھلے سال سمندر میں کھودائی کے دوران دریافت ہوا تھا۔
پولینڈ نے اس سے پہلے کبھی بھی پانی کے اندر اتنے بڑے بم کو ناکارہ نہیں بنایا۔ ٹیل بوائے ایک زلزلہ لانے والا، بہت طاقتور بم تھا، جو ایک ہدف کے قریب گر کر شاک ویو سے اسے تباہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔
رائل ایئر فورس نے 1944-45 میں لنکاسٹر بمباروں کا استعمال کرتے ہوئے اس طرح کے بم گرائے تھے۔ نازی وی راکٹ لانچ کرنے والے مقامات بھی ان بموں کے اہداف میں شامل تھے۔
پولینڈ ان ممالک میں شامل ہے جو دورانِ جنگ شدید بمباری کی زد میں آئے تھے اور اس وقت نازیوں نے دارالحکومت وارسا کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا تھا۔
کورونا وائرس کے خوف سے کچھ مقامی رہائشیوں نے کھیلوں کے ہال میں بنائی گئی ایک عارضی پناہ گاہ میں جانے سے انکار کر دیا تھا۔