آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
وائٹ ہاؤس کے باہر فائرنگ کے واقعے کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پریس بریفنگ روکنی پڑی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے قریب کسی ’مشتبہ مسلح‘ شخص کو گولی ماری گئی جس کے بعد انھیں خفیہ ادارے کے ایک اہلکار کے ساتھ پریس کانفرنس چھوڑ کر اچانک بریفنگ روم سے باہر جانا پڑا۔
تاہم ٹرمپ کچھ ہی دیر بعد واپس آئے اور صحافیوں کے بقیہ سوالوں کے جواب دیے اور بتایا کہ اس حادثے پر ’بہت احسن انداز میں قابو پایا جا چکا ہے۔‘
امریکی سیکرٹ سروس کی جانب سے کی گئی ٹویٹس کے مطابق 'امریکی سیکرٹ سروس کے ایک اہلکار کی موجودگی میں ہونے والی فائرنگ 17ویں سٹریٹ اور پینسلوینیا ایوینیو پر کی گئی۔ ابھی اس واقعے کے حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
’ایک شخص اور خفیہ ادارے کے اہلکار کو مقامی ہسپتال منتقل کیا جا چکا ہے۔ اس واقعے کے دوران کسی بھی موقع پر وائٹ ہاؤس کی حدود کو پامال نہیں کیا گیا اور نہ ہی حفاظت پر معمور اہلکاروں کو اس دوران کبھی کوئی خطرہ تھا۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پیر کے روز وائٹ ہاؤس کے بریفنگ روم میں منعقدہ پریس بریفنگ کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ بات کر رہے تھے کہ اچانک خفیہ ادارے کے ایک اہلکار نے کہا کہ ’سر، ہمیں باہر جانا ہو گا‘ اور پھر ایک اہکار نے سٹیج پر چڑھ کر ان کے کان میں سرگوشی کی۔
بریفنگ روم چھوڑتے وقت ٹرمپ کی آواز آئی ’اوہ‘ اور ’یہ کیا ہو رہا ہے‘۔ اس حادثے کے دوران وائٹ ہاؤس کو لاک ڈاؤن میں رکھ دیا گیا تھا۔
جب صدر ٹرمپ تقریباً نو منٹ بعد واپس آئے تو انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’مجھے جہاں تک سمجھ آئی‘ خفیہ ادارے کے اہلکار نے ایک مشتبہ مسلح شخص کو گولی ماری ہے۔
انھوں نے کہا کہ کسی کو ہسپتال بھی لے جایا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ یہ ایک غیر معمولی صورتحال تھی لیکن انھوں نے خفیہ ادارے کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بھی سراہا۔
صدر کا کہنا تھا کہ ’یہ واقعہ وائٹ ہاؤس کے باہر ہوا اور اس پر احسن انداز میں قابو پایا جا چکا ہے۔
'یہاں اصل میں فائرنگ ہوئی اور کسی کو ہسپتال بھی لے جایا گیا ہے لیکن مجھے ان کی صورتحال کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔'
ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ انھیں معلوم نہیں ہے کہ مشتبہ شخص نے ان کے ساتھ ایسا کسی ذاتی عناد کے باعث کیا۔
صدر نے کہا کہ 'ہو سکتا ہے کہ اس سے میرا کوئی تعلق نہ ہو۔'
ایک صحافی نے صدر ٹرمپ سے پوچھا کہ کیا اس واقعے سے آپ کو شدید جھٹکا لگا ہے؟
انھوں نے کہا کہ: کیا مجھے دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ مجھے جھٹکا لگا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'یہ افسوسناک ہے کہ دنیا ایسی ہے لیکن یہ دنیا ہمیشہ سے ہی خطرناک تھی۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جو منفرد ہو۔
'اگر آپ گذشتہ صدیوں پر بھی نظر دوڑائیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ یہ دنیا ایک خطرناک جگہ رہی ہے، ایک انتہائی خطرناک جگہ اور یہ کچھ عرصے تک ایک خطرناک جگہ رہے گی۔'
انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ انھیں بریفنگ روم سے اوول آفس میں لے جایا گیا تھا۔ اس دوران بریفنگ روم کو بھی مقفل کر دیا گیا تھا