مشتعل عوام کے طیش میں اضافے کے بعد لبنان کی حکومت مستعفی

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں چار اگست کو ہونے والے دھماکے کے بعد سے حکومت کی نا اہلی پر عوام کے غیض و غضب میں مسلسل اضافے کے بعد حکومت نے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کے استعفی کا اعلان وزیر اعظم حسن دیاب نے قومی ٹی وی پر کیا۔

گذشتہ منگل کو ہونے والے دھماکے میں چار ہزار سے زیادہ افراد زخمی اور دو سو سے زیادہ ہلاک ہوئے تھے۔

لبنان کے عوام نے حکومت کو اس واقعے کا مورد الزام ٹھہرایا ہے اور کہا ہے کہ ان کی نااہلیت اور خراب ترین کارکردگی اور کرپشن اس حادثے کا موجب بنی۔

گذشتہ تین دن سے عوام مسلسل مظاہرے کر رہی ہے اور اس دوران ان کی پولیس سے بھی جھڑپیں ہو رہی ہیں۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

بیروت کی بندرگاہ پر ہونے والا یہ واقعہ امونیم نائٹریٹ کے 2750 ٹن کے مواد کے پھٹ جانے سے ہوا جو کہ بندرگاہ پر ایک گودام میں گذشتہ کئی برسوں سے پڑا ہوا تھا۔

بی بی سی کے مشرق وسطیٰ کے نامہ نگار ٹام بیٹمین نے بتایا کہ وزیر اعظم حسن دیاب نے اپنے خطاب میں خود کو ایک تبدیلی لانے والے رہنما کی ہی حیثیت میں پیش کیا جسے ملک میں بدعنوانی کی وجہ سے اچھی کارکردگی دکھانے کا موقع نہیں مل رہا تھا۔

اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا: 'ہم اپنے ملک کے شہریوں کے مطالبے پر عمل کریں گے اور ان لوگوں کو کٹہرے میں لائیں گے جو اس واقعے کے ذمے دار ہیں اور سات سال سے چھپے ہوئے ہیں۔'

نامہ نگار ٹام بیٹمین کے مطابق حکومت کے مستعفی ہونے کے بعد اب لبنان کی پارلیمان کو نیا وزیر اعظم چننا ہوگا اور اس کے لیے وہی فرقہ وارایت پر مبنی سیاست کا عمل دخل شروع ہو جائے گا جو لبنان کے مسائل کی جڑ ہے۔

یہ دھماکہ بیروت کی بندرگاہ کے علاقے میں ایک گودام میں چار اگست کو مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے کے بعد ہوا اور یہ اتنا شدید تھا کہ پورا شہر ہل کر رہ گیا۔

اس کی شدت اتنی تھی کہ اس کے اثرات 240 کلومیٹر دور مشرقی بحیرۂ روم کے ملک قبرص میں بھی محسوس کیے گئے جہاں لوگوں نے اسے زلزلہ سمجھا۔

دھماکے سے قبل بندرگاہ میں متاثرہ مقام پر آگ لگی دیکھی گئی جس کے بعد ایک بڑا دھماکہ ہوا اور جائے حادثہ پر نارنجی رنگ کے بادل چھا گئے۔

اس دھماکے سے بندرگاہ اور اس کے نواح میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور کاروباری اور رہائشی عمارتیں اور گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔

برطانوی یونیورسٹی شیفیلڈ سے منسلک ماہرین کا اندازہ ہے کہ بیروت دھماکے کی شدت اس جوہری بم کی شدت کا دسواں حصہ تھی جو دوسری جنگِ عظیم کے دوران جاپان کے شہر ہیروشیما میں گرایا گیا تھا۔ اور بلاشبہ یہ تاریخ کا سب سے شدید غیر جوہری دھماکہ تھا۔

معاشی بحران اور سیاسی کشیدگی میں گھرا لبنان

لبنان میں اس وقت سیاسی کشیدگی جاری ہے۔ حکومت کے خلاف زبردست عوامی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ عوام موجودہ معاشی بحران سے نمٹنے کے حکومتی فیصلوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

1975 سے 1990 تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کے بعد لبنان میں آنے والا یہ بدترین معاشی بحران ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ حکومت سرحد پر اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی سے بھی نمٹ رہی ہے۔

اسرائیل نے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے حزب اللہ کی طرف سے لبنان کی جانب سے اسرائیلی سرحدوں میں گھسنے کی کوشش ناکام بنا دی۔