آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بیروت دھماکہ: ’آپ ایک ہی شہر کی تباہی کتنی بار دیکھ سکتے ہیں؟‘
لبنان کا نام لیں تو شاید ذہن اُس کے قدرتی حسن کی طرف جائے یا وہاں کے پکوان خیال آئے۔ اُس کے ساحل سمندر اور بیروت شہر کی زندگی سے بھرپور حسین شاموں کا ذکر سننے میں آئے۔ مگر ملک میں ایک عرصے سے جاری سیاسی کشمکش اور معاشی صورتحال اور اوپر سے کورونا وائرس کی وباء کی وجہ سے لبنان اور اُس کا دارالحکومت بیروت مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔
اس سب کے باوجود لوگ کہتے ہیں کہ بیروت ایک زندہ دل شہر ہے۔ شہر میں ہونے والے دھماکے نے نہ صرف لبنان بلکہ دنیا بھر میں لوگوں کو غمگین کردیا ہے۔ تباہی اس قدر شدید ہے کہ دل رو پڑتا ہے۔ جہاں سوشل میڈیا نے اس تکلیف دہ سانحے کی وڈیوز اور تصاویر کے ذریعے اس بارے میں لوگوں کو آگاہ کیا وہیں اس زندہ شہر کی تباہی نے لوگوں کے دل توڑ دیے۔ اس بات کا اظہار بہت سے ٹوئٹر صارفین نے کیا۔
متحرک ٹوئٹر ہینڈل کارل ری مارکس نے ٹویٹ کی کہ ’آپ اپنی زندگی میں ایک ہی شہر کی تباہی کتنی بار دیکھ سکتے ہیں؟ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔’
اعمال اسد نے لکھا کہ ’میرے پاس وہ الفاظ نہیں کہ بتا سکوں جو میں نے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں دیکھا۔ میں وہاں بائیں بازو میں درد اور سوجن کی وجہ سے گئی مگر ہم دروازے تک نہیں پہنچ سکے کیونکہ لاشوں کا انبار تھا جو ہٹایا نہیں گیا۔ درجنوں زخمی جن میں غیرملکی مزدور بھی شامل تھے۔ کوئی الفاظ نہیں ہیں۔’
کیری ڈگلس نے شہر کی ماضی میں متعدد بار تباہی کے بارے میں لکھا کہ ’مگر بیروت کو کتنی بار دوبارہ بنتا دیکھیں گے اور پہلے سے بہتر۔ امید رکھیں میں بھی رکھ رہی ہوں۔ میں نے بیروت کو خانہ جنگی سے پہلے دیکھا تھا اور پھر اُس موقع پر وہاں سے چلی گئی تھی جب سب امید ختم ہوگئی تھی۔’
ہارورڈ ڈیوس لکھتے ہیں کہ ’لگتا ہے بیروت کو بار بار تباہی برداشت کرنی پڑتی ہے مگر ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے صرف لبنان کا نہیں۔’
سنہ 1975 سے لے کر سنہ 1990 تک جاری جنگ کی وجہ سے بیروت میں وارلاڈز اور ملیشیاز کا راج رہا اور لاقانونیت نے شہر کو تباہ کردیا۔ جنگ سے نکلنے کے بعد اس کی از سرِنو تعمیر نے اسے ایک بار پھر مشرق وسطی کا ایک ترقی یافتہ شہر بنادیا اور یہاں سرمایہ کاری ہوئی۔
اب جب ایک بار پھر لبنان نازک سیاسی دور سے گزر رہا تھا اور کورونا وائرس کی عالمی وباء نے صورتحال کو مزید مشکل بنادیا تھا کہ یہ حادثہ پیش آیا۔ اس موقع پر ہمسایہ ممالک اور باقی دنیا سے فوری امداد بھجوائی جا رہی ہے تاکہ اس شہر اور ملک کی مدد کی جاسکے۔۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دبئی کے ایک سرکاری ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ٹویٹ کی گئی کہ ’شیخ محمد کے احکامات پر ایمرجنسی طبی امداد لبنان کے نظام صحت کے مراکز کی مدد کے لیے بھجوا رہے ہیں تاکہ بیروت میں دھماکے کے متاثرین کا علاج ہوسکے۔
مشرق وسطیٰ کے ایک صحافی کے مطابق بہت سارے ممالک نے لبنان کو فوری امداد روانہ کی ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ نے بھی لبنان کے لیے امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ایمرجنسی طبی مدد اور 5 ملین پاؤنڈ تک کی امداد فراہم کریں گے۔’
مگر طبی امداد ایک طرف بیروت میں بسنے والے جہاں سخت تکلیف سے گزر رہے ہیں وہیں بہت سوں نے بہت ہمت کا مظاہرہ بھی کیا ہے۔
شہر میں بسنے والے اپنی مدد آپ کے تحت گلی محلوں میں صفائی کر رہے ہیں اور زندگی کو معمول پر لانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ بیروت میں بسنے والے ایک رضاکار نے اس بارے میں کہا کہ ’ہر شخص کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہو رہا ہے یہ ہمارا دارالحکومت ہے اس کے لیے ہمارے دل میں اس کے لیے خاص جگہ ہے۔ کیونکہ حکومت اس بارے میں کچھ نہیں کر پا رہی اس لیے ہم یہاں مدد کے لیے جمع ہیں۔
بیروت میں بسنے والی ایک خاتون ہدٰی ملکی نے اپنی والدہ کی اپنے تباہ حال گھر میں بالکل پرسکون انداز میں بیٹھے پیانوں بجاتے ہوئے وڈیو بنائی جو وائرل ہوگئی۔ یہ وڈیو شہریوں کی ہمت اور ثابت قدمی کی عکاسی کرتی ہے اور اس دیکھنے والے بہت سے افراد نے اس بات کا اظہار کیا۔
اس وڈیو پر رئیفہ مکی نے ٹویٹ کی اور کہا کہ ’ایک بڑی عمر کی عورت اپنے گھر کے ملبے میں پیانو بجاتے ہوئے۔ ہم کبھی امید کا دامن نہیں چھوڑیں گے!’