میانمار کی کانوں میں سبز رنگ کے قیمتی پتھر جیڈ کی جان لیوا تلاش

    • مصنف, ربیکا ہینسکے اور سو سو ہلوون
    • عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس

سی تھو پھائیو پیچھے رہ جانے والے قیمتی پتھروں کی تلاش میں تھے کہ انھیں اپنے پیروں تلے زمین کھسکتی ہوئی محسوس ہوئی۔

21 برس کے کان کُن میانمار کی شمالی ریاست کاچین میں واقع دنیا میں جیڈ نامی قیمتی پتھر کی سب سے بڑی کان میں کام کر رہے تھے۔ وہ کئی سو کارکنوں میں سے ایک تھے جو اُس دن کان میں اپنے اپنے کام میں مصروف تھے۔ انھوں نے بھاگنے کی کوشش کی مگر مٹی کے تودے ان پر آن گرے۔ وہ پانی، مٹی اور پتھروں کی لہر میں پھنس کر رہ گئے۔

سی تھو نے پانی میں چند قلابازیاں کھائیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’میرا منھ مٹی سے بھرا ہوا تھا، پتھر مجھ پر مسلسل برس رہے تھے اور لہریں مجھے بار بار ڈبو رہی تھیں۔ مجھے لگا کہ میں مر جاؤں گا۔’

مگر سی تھو تیر کر باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ بعد میں انھیں ہسپتال میں معلوم ہوا کہ اُن کے سات قریبی دوست اس حادثے میں بچ نہیں پائے۔ وہ تقریباً اُن دو سو افراد میں شامل تھے جو ملک میں کان کنی کے بدترین حادثے میں ہلاک ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے

سی تھو اپنے دوستوں کو یاد کرتے ہوئے دھیمی آواز میں کہتے ہیں کہ ’ہم بھائیوں کی طرح رہتے تھے۔ اکثر ایک ہی بستر پر سوتے تھے۔’

اپنے چھوٹے سے گھر سے، جس میں وہ اپنے خاندان کے نو افراد کے ساتھ رہتے ہیں، وہ اس پہاڑ دیکھ سکتے ہیں جہاں وہ اُس دن قیمتی پتھر کی تلاش کر رہے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے پشیمانی ہے کہ صرف میں ہی کیوں بچا۔’

اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میرا دل چاہتا ہے کہ یہ حادثہ ایک بُرا خواب ہو اور جب میں بیدار ہوں تو میرے دوست واپس آ جائیں۔’

کاچین ریاست کی وسیع کانوں میں تقریباً ہر سال برسات کے موسم میں مٹی کے تودے گرتے ہیں۔ دنیا میں دستیاب 70 فیصد جیڈ نامی قیمتی پتھر ان کانوں سے نکالا جاتا ہے۔ اس قیمتی پتھر کی چین میں بہت مانگ ہے اور اس کی صنعت سالانہ اربوں ڈالر کی ہے۔

ریکارڈ کے مطابق گذشتہ مہینے گرنے والا تودہ سب سے زیادہ مہلک تھا۔ اس سے پہلے ہونے والے واقعات کے برخلاف اس کی ویڈیو موبائل فونز پر ریکارڈ کی گئی۔

سی تھو کا کہنا ہے کہ ’سوشل میڈیا نے لوگوں کو اس بارے میں آگاہ کیا۔‘ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’جب یہاں انٹرنیٹ اور فون کی سہولت نہیں تھی تو حکام اور کمپنیاں اسے معاملات اور حادثات کو نظر انداز کر دیتی تھیں۔‘

دباؤ کی وجہ سے میانمار کی حکومت نے قدرتی وسائل اور ماحول کے تحفط کے وزیر اُہن وِن کی زیر نگرانی تحقیقاتی ٹیم قائم کی تاکہ اس کے ذمہ داروں کی نشاندہی ہو اور متاثرین کو ہرجانہ دیا جائے۔

اس ٹیم کی رپورٹ ملک کے صدر کو پیش کی جا چکی ہے مگر اس کے نتائج منظر عام پر نہیں لائے گئے، مگر اُہن ون نے کان کنوں کو پہلے ہی یہ کہہ کر ناراض کر دیا ہے کہ ’جو لوگ ہلاک ہوئے وہ لالچی تھے۔‘

اُنھوں نے کہا کہ ’کانوں کو برساتی موسم میں بند کر دیا گیا تھا اور حکومت نے سخت بارشوں کے بارے میں متنبہ کیا تھا۔ یہ صرف لالچ تھی۔’

ملک کی رہنما آنگ سان سوچی نے بے روزگاری کی اونچی سطح کو اس حادثے کا مورد الزام ٹھہرایا۔

یان نینگ مائیو اُس دن کان میں کام کر رہے تھے۔ وہ تیل کے ایک خالی ڈرم کی مدد سے بچے۔

اُن کا کہنا ہے کہ دوسرے لوگ تیرتی لاشوں کو پکڑ کر بچے۔ وہ کہتے ہیں کہ اُنھیں ماحول کے تحفظ کے وزیر کی بات سُن کر سخت تکلیف ہوئی۔

یان نینگ کا کہنا ہے کہ’حکومت نے اُنھیں تحقیقات کرنے کے لیے بھیجا تھا اور وہ ہم پر الزام لگا رہے ہیں۔ ہم پہلے ہی اتنے غمگین ہیں یہ بات ہمیں اور بھی ناخوش کرتی ہے۔‘

یان نینگ 23 برس کے ہیں، اس حادثے میں انھیں سر پر 14 ٹانکے لگے اور جسم پر بہت سی چوٹیں آئی ہیں۔ انھوں نے برمیز زبان کے ادب میں بیچلر ڈگری حاصل کی ہے اور اُنھوں نے جیڈ کی تلاش کے لیے کان میں شروع میں تو جیب خرچ کے لیے اپنی چھٹیوں میں کام کرنا شروع کیا تھا۔

گریجوئیشن کے بعد وہ دلبرداشتہ ہو کر کانوں میں کام کرنے کے لیے واپس لوٹ آئے۔ اب اُن کے لیے یہی ایک ایسا کام ہے جو وہ کر سکتے ہیں۔

سی تھو تعلیم کے میدان میں اتنا آگے تک نہ جا سکے۔ جب وہ دس برس کے تھے تو اُنھیں سکول چھوڑنا پڑا کیونکہ طوفان نرگس نے اُن کے خاندان کی چاولوں کی فصل تباہ کر دی تھی اور یوں سنہ 2008 میں اُن کا ذریعہ معاش ختم ہو گیا۔ اب اُن کے خاندان کے دس افراد ایک ساتھ کان کے پاس رہتے ہیں۔

سی تھو صبح پانچ بجے اُٹھتے ہیں اور کبھی کبھار سارا سارد دن قیمتی پتھروں کی تلاش میں گزارتے ہیں۔

لاقانونیت

جیڈ کی تلاش کرنے والے بے روزگاری اور غربت کی وجہ سے اس کام کی طرف آتے ہیں۔ اس بارے میں آواز اُٹھانے والے کہتے ہیں کہ لوگ کان میں خطروں کے باوجود کام کرتے ہیں کیونکہ میانمار کی حکومت کا یہاں زیادہ کنٹرول نہیں۔

قدرتی وسائل کے استحصال پر نظر رکھنے والے ادارے ’گلوبل وٹنس‘ کے اہم کارکن پال ڈونوئٹز کہتے ہیں کہ ’متاثرین پر الزام لگانا صورتحال کو ٹھیک نہیں کرتا اور اُن کی وہاں موجودگی کو جو چیز ممکن بناتی ہے وہ شورش ہے کیونکہ وہاں قانون کی بالادستی نہیں اور مسلح گروہ ہیں۔’

اس بارے میں آواز اُٹھانے والے افراد کا کہنا ہے کہ میانمار کی فوج سے جڑی کمپنیاں یا ٹاٹماڈو اس صنعت کو کنٹرول کرتی ہیں اور خفیہ طریقے سے کام کرتی ہیں۔ مسلح گروہ جو خطے میں خودمختاری چاہتے ہیں وہ بھی اپنا حصہ نکلواتے ہیں اور منشیات سے منسلک گروہ بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔

پال ڈونوئٹز کا کہنا ہے کہ ہمیں ایسے شواہد ملے ہیں کہ مختلف نسلی مسلح گروہ اور فوج کانوں کے معاملے میں تعاون کر رہے ہیں حالانکہ وہ دوسرے محاذ پر ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار ہیں۔

ان کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ ’ملک بھر میں مرکزی حکومت ان کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کی جو کوشش کر رہی ہے اُس کے نتیجے میں کانوں سے جڑے اُن کے مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔’

نیچرل ریسورس گورننس انسٹیٹیوٹ کی جانب سے سنہ 2019 کو کیے گئے تجزیے میں پیش کیے گئے اندازوں کے مطابق میانمار میں جیڈ کی کان کنی کی صنعت کی کل لاگت سالانہ 15 ارب ڈالر ہے، مگر اس میں سے زیادہ تر غیرقانونی طور پر نکالی جاتی ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس کی لاگت فقط لاکھوں میں ہے۔

پال ڈونوئٹز کا کہنا ہے کہ ’ریاست کو 80 سے 90 فیصد آمدن کا نقصان ہو رہا ہے۔’

ریاست کا چین سے زیادہ تر نکالا گیا قیمتی پتھر جیڈ سرحد کی دوسری جانب چین جاتا ہے۔ جیسے جیسے چین امیر ہو رہا ہے ویسے ویسے اس روشن اور چمکیلے جوہر کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اچھی کوالٹی کے جیڈ کی قیمت سونے سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

جب سی تھو کو جیڈ کا بڑا پتھر ملتا ہے تو کان چلانے والی کمپنی اور مسلح گروہ دونوں اس میں سے اپنا حصہ لیتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ کچھ مواقعوں پر تو پتھر چھین لیا جاتا ہے۔ اُن کا جائے حادثہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’میرے ایک دوست کو اس کان سے بہت بڑا قیمتی پتھر ملا مگر اُس نے اسے پانی میں پھینک دیا کیونکہ کمپنیاں جس طرح کا رویہ ہمارے ساتھ برتتی ہیں وہ اُس سے تنگ آ چکا تھا۔ ہم تنگ دستی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں اور ہمیں کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔’

کان کنوں میں نشے کی لت وبا کی طرح پھیل گئی ہے۔

کان کنوں نے بی بی سی کو بتایا کہ افیون کی ایک خوراک صرف ایک ڈالر کی ملتی ہے۔

جس علاقے میں حادثہ پیش آیا وہاں کام کرنے والی چار میں سے ایک کمپنی کائیوک میات شوے پائی ہے جسے مقامی طور پر ٹرپل ون مائننگ کمپنی کے نام سے جانا جاتا ہے۔

او من تھو کان کنی کی وزارت کے ایک اعلیٰ اہلکار اور تحقیقاتی ٹیم کے سیکریٹری ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ کمپنی چین اور میانمار کے درمیان اشتراکی بنیاد پر چل رہی ہے اور اس کے نسلی مسلح گروہ کے ساتھ روابط ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ایسے مسلح گروہ جنھوں نے حکومت کے ساتھ امن معاہدہ کیے ہیں انھیں ملک میں سرمایہ کاری کرنے کی اجازت ہے۔’

یو من کا کہنا ہے کہ ’گو کہ سنہ 2019 کے ایک قانون کے مطابق غیرملکیوں کو جیڈ کی کان کنی میں سرمایہ کاری کرنے کی ممانعت ہے، چینی کمپنیوں نے مشترکہ منصوبے بنا لیے ہیں۔’

ان کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ شیئر بانٹ لیے جاتے ہیں اور حکومت 25 فیصد اور کمپنی 75 فیصد کی مالک ہوتی ہے۔’

شفافیت بڑھانے کے لیے حکومت نے گذشتہ سال کان کنی سے منسلک کمپنیوں کی ملکیت اور ممکنہ مفادات کے تصادم کے بارے میں معلومات شائع کیں۔

گلوبل وٹنس کی جانب سے جاری کردہ ایک تازہ رپورٹ، جس میں ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا ہے، کے مطابق 163 میں سے صرف آٹھ کمپنیاں ایسی تھیں جنھوں نے اس میں حصہ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اُن کے مالکان کے فوج کے سابق اور موجودہ اعلیٰ اہلکاورں اور نسلی مسلح گروہوں کے رہنماؤں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔

گلوبل وٹنس رپورٹ کے مطابق میانمار کی فوج کی ملکیت والی کمپنی ایم ای ایچ ایل کا اندراج ’نامکمل اور غلط’ ہے اور ٹرپل ون مائننگ کمپنی کا فہرست میں شمار ہی نہیں۔

’امید ختم ہو رہی ہے’

اُس مقام پر جہاں سی تھو کے دوست ہلاک ہوئے وہاں ہلاک شدگان کی یاد میں کالی اور سرمئی مٹی میں پچھلے مہینے پھول رکھے گئے اور اگربتیاں جلائی گئیں۔ اس رسمی یادگار کو منانے کے لیے ملک کے سب سے معروف بودھ بھکشو ستاگو سیڈو آئے۔

200 سے زیادہ بودھ بھکشوؤں نے اور دوسرے افراد نے بدھ مت کے دعائیہ راگ الاپے تاکہ ہلاک ہونے والے اپنی اگلی زندگی میں بہتر حالات پائیں۔

مجمعے میں ڈو مو مو بھی تھیں جو بیس گھنٹے کا سفر کر کے مانڈالے سے اپنے 37 برس کے گمشدہ بیٹے کو یارزر کی تلاش میں یہاں آئیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’جب بھی مجھے پتا چلتا ہے کہ کوئی لاش ملی ہے تو میں بھاگ کر پہنچتی ہوں۔’ اُن کے گھٹنے اوپر چڑھنے اُترنے کی وجہ سے سوج گئے ہیں۔

وہ اپنے بیٹے کی لاش ڈھونڈ رہی ہیں تاکہ ڈھائی ہزار ڈالر کے ہرجانے کے طور پر ملنے والی رقم وصول کر سکیں جو ہلاک شدگان کے لواحقین کو حکومت اور امدادی ادارے دے رہے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں جانتی ہوں کہ میں اُسے کھو چکی ہوں اور اب اُس کی لاش ملنے کی امید ختم ہو رہی ہے۔’

وہ مزید یہ بھی کہتی ہیں کہ ’میں بس اپنے بیٹے کے غم سے بھرے کمرے میں سوتی ہوں تاکہ اچھی یادیں تازہ کروں اور اپنے آپ کو تسلی دوں اُن کپڑوں سے جو وہ اُس وقت پہنتا تھا جب وہ زندہ تھا۔’

اس سانحے کے ایک ماہ بعد لوگ کانوں کا پھر سے رخ کر رہے ہیں۔ واپس کام پر آنے والوں میں وہ بچے بھی شامل ہیں جو اپنے والدین کے ساتھ خون پسینہ ایک کرتے ہیں تاکہ کسی کمزور پہاڑی سے شاید کوئی قیمتی پتھر مل جائے، یہ جانتے ہوئے کہ اُن کے ارد گرد پہاڑی منہدم ہو سکتی ہے۔

جولائی میں لینڈ سلائیڈنگ کے 10 روز بعد ایک ایسے دن جب بارش ہو رہی تھی سی تھو کان کی طرف واپس گئے۔ وہ زخموں کے ٹھیک ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ اُن کا کہنا ہے کہ وہ کام پر واپس جائیں گے۔ اُس مقام پر جہاں اُن کے دوست ہلاک ہوئے اُس کے کنارے پر کھڑے ہو کر انھوں نے دور فاصلے تک نظریں دوڑائیں اور کہا کہ ’اگلی بار میں کچھ بُرا ہونے سے پہلے بھاگ جاؤں گا۔’