ہارٹ آئی لینڈ: نیویارک کا عوامی قبرستان، لاوارثوں کی آخری آرامگاہ

امریکہ کے شہر نیویارک میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی غیر معمولی تعداد کے باعث مردہ خانے بھرے پڑے ہیں اور اب ہارٹ آئی لینڈ کے عوامی قبرستان میں روزانہ 24 سے زیادہ لاشوں کو دفنایا جا رہا ہے جہاں ایک ہفتے میں صرف 24 تدفین ہوا کرتی تھیں۔

13 اپریل تک نیویارک شہر میں 10 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے تھے اور پانچ روز سے روزانہ ہلاکتوں کی تعداد 700 سے تجاوز کر چکی تھی۔

نیویارک کا یہ جزیرہ ایسے مُردوں کا مسکن رہا ہے جو غریب تھے، نامعلوم تھے اور جنھیں دفنانے والا کوئی نہ تھا۔

یہ بھی پڑھیے

گذشتہ 150 سال سے زیادہ عرصے سے یہ جزیرہ ایسی لاشوں کی آرام گاہ بنا ہوا ہے جن کا کوئی وارث نہیں۔ اِن میں ایک تہائی سے زیادہ لاشیں نوزائیدہ بچوں کی ہیں۔ انھیں ایسی خندقوں میں دفنایا گیا ہے جن میں ہزار لاشیں سمائی ہوئی ہیں، جبکہ یہاں ایسی اجتعماعی قبریں بھی ہیں جن میں 150 سے زیادہ افراد ابدی نیند سو رہے ہیں۔

ہارٹ آئی لینڈ میں سنہ 1869 سے ایسے لوگوں کو دفنایا جا رہا ہے جن کے ورثا کے بارے میں معلوم نہ ہو۔ یہاں ایسے افراد کو بھی دفن کیا جاتا رہا ہے جو کسی وبا سے ہلاک ہوئے ہوں۔

حالیہ وبا کے دوران نیویارک کے میئر کے ترجمان کہہ چکے ہیں کہ ہارٹ آئی لینڈ میں صرف ان لوگوں کو دفنایا جا رہا ہے جن کا تعلق نیویارک شہر سے ہے اور جن کی میت لینے کے لیے کوئی رشتے دار سامنے نہیں آیا ہے۔

200 برس تک یہ جزیرہ مختلف لوگوں کی نجی ملکیت رہا لیکن سنہ 1868 میں اسے نیویارک شہر کو فروخت کر دیا گیا۔ ایک برس کے بعد اِس جزیرے میں 45 ایکڑ زمین قبرستان کے لیے وقف کر دی گئی جہاں ایسے افراد کی تدفین ہوتی تھی جن کے خاندان تدفین کے اخراجات کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔

اُس وقت سے اِس جزیرے میں لوگوں کی تدفین کے علاوہ کوئی خاص کام نہیں ہوتا۔ یہ جزیرہ نیویارک کے محکمہ اصلاحات کے زیرِانتظام ہے۔

اِس جزیرے میں ہر سال ایک ہزار سے زیادہ لوگوں کی تدفین ہوتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق یہاں 10 لاکھ کے لگ بھگ لوگ دفن ہیں لیکن صحیح تعداد معلوم کرنا مشکل ہے کیونکہ سنہ 1930 کی دہائی میں قبروں کو دوبارہ استعمال کیا گیا تھا۔

اِس کے علاوہ سنہ 1970 کی دہائی میں ہونے والی آتشزدگی میں اِس قبرستان کے کافی ریکارڈ جل گئے تھے۔

ہارٹ آئی لینڈ میں سب سے پہلی تدفین سنہ 1869 میں لوئیزہ وین سلائک نامی خاتون کی ہوئی تھی جن کی عمر 24 برس تھی۔ وہ تپ دق کی بیماری میں مبتلا تھیں اور ان کے ورثا کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں۔

اگلے برس جب زرد بخار کی وبا پھیلی تو اِسی جزیرے پر بیمار لوگوں کو قرنطینے میں رکھا گیا۔ اس کے بعد نیویارک شہر کی انتظامیہ نے یہاں قرنطینے میں رکھے جانے والے ٹی بی کے مریضوں کے علاج کے لیے ہسپتال بھی قائم کیا۔ اس زمانے میں ٹی بی کو سفید طاعون کہتے تھے۔ ہر سات میں سے ایک امریکی اِس مرض کا شکار ہوتا تھا۔

سنہ 1985 میں ایک دوسری مہلک بیماری کی وجہ سے یہ جزیرہ ایک مرتبہ پھر منظرِ عام پر آیا۔ یہ بیماری تھی ایڈز جس کے بارے میں مکمل معلومات نہ ہونے کی وجہ سے مردہ خانوں نے اس مرض سے ہلاک ہونے والوں کے لیے اپنے دروازے بند کر دیے تھے۔

ایڈز کے ابتدائی دنوں میں اِس بیماری سے ہلاک ہونے والے 17 لوگوں کو اِس جزیرے میں دفنایا گیا۔ اِن افراد کو غیر معمولی طور پر 14 فٹ گہری قبروں میں دفن کیا گیا۔

یہ کہا جاتا ہے کہ پورے امریکہ میں ایڈز سے ہلاک ہونے والے سب سے زیادہ لوگ یہیں دفن ہیں۔ سنہ 2008 میں انفلوئنزا کی وباء کے دوران ہارٹ آئی لینڈ کے قبرستان کو عارضی قبرستان قرار دیا گیا۔

نیویارک شہر میں کورونا وائرس کی وبا کی تباہ کاریاں جاری ہیں اور ہارٹ آئی لینڈ کے قبرستان کا دورہ کرنے کے خواہش مندوں کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے۔

ہارٹ آئی لینڈ کا قبرستان کیونکہ محکمۂ اصلاحات کے زیرِ انتظام ہے اس لیے لوگوں کو اپنے پیاروں کی قبروں پر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

حال ہی میں ’ہارٹ آئی لینڈ پروجیکٹ‘ اور ’پکچر دا ہوم لیس‘ جیسی تنظیموں کی کوششوں سے لواحقین کو مہینے میں دو مرتبہ جانے کی اجازت ملی تھی، لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے یہ سلسلہ بھی فی الحال روک دیا گیا ہے۔

گذشتہ دسمبر میں نیویارک کے میئر نے قانون سازی کے ذریعے جزیرے کی نگرانی کا کام شہر کے پارکس ڈیپارٹمنٹ کو منتقل کیا اور جزیرے پر جانے کے لیے مزید کشتیوں کا انتظام بھی کیا ہے۔ اسے ان لوگوں کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا گیا ہے جو اپنے رشتے داروں کی قبروں پر باقاعدگی سے جانا چاہتے ہیں۔