آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نوٹرا ڈام میں آتش زدگی کے بعد فرانس اپنے تاریخی ورثے کی بحالی کے لیے کیا کر رہا ہے؟
فرانس کے دارالحکومت پیرس میں 850 برس قدیم نوٹراڈام کیتھیڈرل کی ہولناک آتشزدگی میں تباہی کے 11 ماہ بعد مزدوں کو اس کلیسا کی دیواروں پر بحالی کا کام کرتے دیکھا گیا ہے۔
گذشتہ پیر کو بحالی کے کام میں مصروف مزدوروں کو کیتھیڈرل کی چھت سے منسلک سہاروں اور عمارت کے سامنے کے حصے پر رسیوں کی مدد سے نیچے آتے دیکھا گیا ہے۔
15 اپریل 2019 کو آگ نے عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ آتشزدگی کے باعث کیتھیڈرل کی چھت اور مخروطی برج منہدم ہو گئے تھے۔
آتشزدگی کے دوران ہزاروں افراد کیتھیڈرل کی ارد گرد گلیوں میں اکھٹے ہو گئے تھے اور خاموشی سے عمارت سے بلند ہوتے شعلوں کو بے بسی سے دیکھتے رہے۔
چند افراد ایسے بھی تھے جو اس واقعے پر اشک بار تھے جبکہ کچھ لوگ حمدیہ گیت پڑھتے اور دعائیں مانگتے نظر آئے۔
امدادی کارکنوں نے عمارت کے مرکزی ڈھانچے اور کلیسا کے دو ٹاورز، جہاں گھنٹیاں نصب تھیں، کو بچا لیا تھا۔
فرانس کے صدر ایمینوئل میکخواں نے اس واقعے کو ’خوفناک سانحہ‘ قرار دیا تھا۔
جائے حادثہ کا دورہ کرتے ہوئے صدر میکخواں کا کہنا تھا کہ کیتھڈرل کی یہ تاریخی عمارت ’تمام فرانسیسی باشندوں‘ کی مشترکہ میراث ہے بشمول ان افراد کے جو کبھی یہاں نہیں آئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے آگ بجھانے والے عملے کی ’انتہائی ہمت اور پیشہ وارانہ مہارت‘ کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم نوٹراڈام کی مکمل بحالی کریں گے۔‘
صدر نے تعمیر نو پانچ سال میں مکمل کرنے کا ہدف رکھا ہے۔
اکتوبر 2019 میں فرانس کی وزارت ثقافت نے کہا تھا کہ بحالی اور تعمیر نو کو مکمل کرنے کے لیے اب تک ایک ارب یورو کی امداد اکھٹی کی جا چکی ہے یا اس کا وعدہ کیا جا چکا ہے۔
گذشتہ سال دسمبر میں مرمت کا کام جاری ہونے کے باعث گرجا گھر میں کرسمس کی تقریبات کا انعقاد نہیں کیا گیا، اور ایسا گذشتہ 200 برسوں میں پہلی مرتبہ ہوا تھا۔
نوٹراڈام کے بجائے ان تقریبات کا انعقاد نزدیک واقع سینٹ جرمین نامی چرچ میں ہوا تھا۔
یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی ویب سائٹ کے مطابق نوٹراڈام 12ویں صدی عیسوی سے پیرس میں موجود ہے۔
آتشزدگی سے پہلے یہاں پر سالانہ ایک کروڑ، تین لاکھ سیاح آتے تھے۔ یہ تعداد ایفل ٹاور کو دیکھنے کے لیے آنے والوں کی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔
پیرس میں نوٹراڈام کی تعمیر کا کام سنہ 1163 میں لوئس ہفتم کے دور میں شروع ہوا تھا۔
عمارت کی بنیاد پوپ الیگزینڈر سوئم کی موجودگی میں رکھی گئی، تاہم عمارت کی تعمیر سنہ 1345 میں مکمل ہوئی۔
اس تاریخی عمارت نے ملک کے ایک ادبی شاہکار کو اپنا نام بھی دیا ہے۔ وکٹر ہیوگو کی ’دی ہنچ بیک آف نوٹراڈام‘ کو فرانسیسی محض ’نوٹراڈام ڈی پیرس‘ کے نام سے جانتے ہیں۔
اس سے قبل اس گرجا گھر کی عمارت کو بڑا نقصان فرانس میں انقلاب کے دوران پہنچا تھا۔ دونوں عالمی جنگوں کے دوران یہ عمارت کسی بھی نقصان سے محفوظ رہی۔
۔