آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ہاروی وائن سٹائن: جنسی جرائم کے ارتکاب پر 23 برس قید کی سزا پانے والے ہالی وڈ فلموں کے پروڈیوسر #MeToo کی وجہ کیسے بنے
اسے می ٹو مہم میں ایک اہم اور فیصلہ کن کامیابی قرار دیا جا رہا ہے: ہاروی وائن سٹائن جن کا ہالی ووڈ کی طاقتور ترین شخصیات میں شمار ہوتا تھا انھیں ریپ اور جنسی تشدد کے الزامات میں 23 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔
مگر فلموں کی دنیا کے بے تاج بادشاہ کو قید کی سزا کیسے ہوئی؟
ہم سات ایسے بنیادی سوالات پر ایک نظر ڈالتے ہیں جن کی وجہ سے بات یہاں تک پہنچی اور یہ سکینڈل شروع ہوا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
1۔ ہاروی وائن سٹائن کون ہیں؟
67 برس کے فلم پرڈیوسر انٹرٹینمنٹ کمپنی میرامیکس کے شریک بانی ہیں جس نے ہالی ووڈ کے بڑے سٹوڈیوز کے غلبے کو چیلنج کیا اور طاقتور ادارہ بن کر سامنے آئے۔
نوے کی دہائی میں متعدد کامیاب فلموں کے پیچھے وائن سٹائن اور ان کے بھائی باب کا ہاتھ تھا جن میں سیکس لائیز اینڈ وڈیو ٹیپ، دی کرائینگ گیم، پلپ فکشن اور شیکسپیئر ان لو شامل ہیں۔
شیکسپیئر ان لوّ کو 1999 کے آسکرز میں بہترین فلم کا ایوارڈ بھی ملا۔
ان کا فلم انڈسٹری پر اثر و رسوخ کا اندازہ اکیڈمی ایوارڈ جیت جانے والوں کی تقاریر کا جائزہ لینے سے ہوتا ہے۔ 2015 میں وائن سٹائن کا شکریہ یا ان کی تعریف 25 تقاریر میں ہوئی جبکہ خدا کا نام بھی اتنی ہی بار لیا گیا۔ صرف معروف ڈائریکٹر اور پروڈیوسر سٹیون سپیل برگ کا نام زیادہ بار لیا گیا۔
2۔ ان پر کیا الزامات ہیں؟
وائن سٹائن کے خلاف جنسی بد اعمالی کے الزامات اکتوبر 2017 میں منظر عام پر آئے۔
اخبار نیویارک ٹائمز اور نیو یارکر میگزین نے خبریں لگائیں جن میں درجنوں خواتین نے وائینسٹین پر جنسی بد اعمالی، تشدد اور ریپ کا الزام لگایا۔
اداکارہ روز مک گاؤن اور ایشلی جڈ ان اولین خواتین میں شامل تھیں جو الزامات کے ساتھ منظر عام پر آئیں۔
وائن سٹائن پر الزام تھا کہ انھوں نے خواتین سے کہا کہ وہ انھیں مساج کریں اور انھیں بغیر کپڑوں کے دیکھنے پر مجبور کیا اور سیکس کے عوض کریئر میں ترقی دینے کے وعدے کیے۔
اس کے نتیجے میں مزید الزامات منظر عام پر آئے اور کم از کم 80 خواتین نے ان پر جنسی استحصال کے الزام لگائے جو کئی دہائیوں پر محیط تھے۔ ان میں ہالی ووڈ کی بڑی اداکارائیں اینجلینا جولی، گوئنتھ پالٹرو، اوما تھرمن اور سلمہ ہائیک شامل ہیں۔ مگر الزامات صرف اداکارؤں نے نہیں لگائے ان میں دفتر کا سٹاف بھی شامل تھا جس میں سابق اسسٹنٹ لیسا روز کا نام شامل ہے۔
3۔ ان پر کیا الزامات ثابت ہوئے
ہاروی وائن سٹائن کے خلاف الزامات منظر عام پر آنے کے بعد فروری 2020 میں نیو یارک کی ایک عدالت میں جنسی تشدد کے دو الزامات میں مجرم قرار پائے۔
پانچ دن کی سوچ بچار کے بعد جیوری نے انھیں (فرسٹ ڈگری) مجرمانہ جنسی عمل اور (تھرڈ ڈگری) ریپ کا مرتکب پایا۔ ان کو سابق پروڈکشن اسسٹنٹ میمی ہیلی پر 2006 میں جنسی تشدد اور اداکارہ جسیکا مین کو 2013 میں ریپ کرنے کے الزام میں سزا ہوئی۔ وہ فرسٹ ڈگری ریپ اور جنسی تشدد کے دو الزامات میں بری ہوئے۔
عدالتی کارروائی کے دوران وہ ضعیف نظر آئے اور کمر کے آپریشن کے بعد چلنے کے لیے ایک فریم کا استعمال کیا۔
عدالتی فیصلے کے بعد جج نے انھیں فوری جیل بھیجنے کا حکم دیا مگر ہاروی وائن سٹائن کی جانب سے سینے میں درد کی شکایت پر انھیں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں انھیں ایک سٹینٹ ڈالا گیا۔ ہاروی وائن سٹائن پر الزامات لگانے والی خواتین نے انھیں ہسپتال منتقل کرنے پر مایوسی کا اظہار کیا اور اصرار کیا کہ انھیں جیل میں ہونا چاہیے تھا۔
سرجری کے بعد وائن سٹائن کو نیو یارک کی بدنام زمانہ رائیکرز جیل بھیجا گیا جہاں وہ سزا کے منتظر تھے۔
4۔ وائن سٹائن کا موقف
وائن سٹائن نے جیسیکا مین کے ریپ اور میمی ہیلی پر جنسی تشدد سے انکار کیا۔ ان کے دفاع میں کہا گیا کہ یہ تعلقات باہمی رضا مندی پر قائم کیے گئے تھے۔ انھوں نے 5 اکتوبر 2017 کو اقرار کیا کہ انھوں نے ’بہت تکلیف دی ہے’ مگر الزامات کو رد کیا۔
5۔ وائن سٹائن کے ساتھ کیا ہوا؟
وائن سٹائن کی اہلیہ جورجینا چیپ مین نے اکتوبر 2017 میں اعلان کیا تھا کہ وہ انھیں چھوڑ رہی ہیں
اسی ماہ آسکر ایوارڈ کی انتظامیہ نے وائنسٹین کو آسکر سے نکالنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز نے اس وقت کہا تھا: ’یہاں جو مسئلہ جاری ہے وہ ایک پریشان کن معاملہ ہے جس کی ہمارے معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔‘
انھیں وائن سٹائن کمپنی سے بھی برطرف کر دیا گیا، یہ وہ ہی کمپنی تھی جس کی بنیاد انھوں نے اور ان کے بھائی نے میرامکس چھوڑنے کے بعد سنہ 2005 میں رکھی تھی۔
اس کمپنی نے مارچ 2018 میں دیوالیہ پن کی درخواست دی تھی۔
وائن سٹائن کے نیو یارک کے مقدمے کی سماعت کے دوران اداکارہ روزنا میک گوون، جن کا الزام ہے کہ فلم کے پروڈیوسر نے ان کے ساتھ زیادتی کی تھی نے کہا تھا کہ ’آپ نے بہت سے لوگوں کو تکلیف دے کر یہ خود اپنی یہ حالت کی ہے۔ آپ خود ہی اس کے ذمہ دار ہیں۔‘
6۔ کیا وائن سٹائن کے خلاف مقدمے کی سماعت پہلی مرتبہ ہو گی؟
اس کا امکان نہیں ہے۔
لاس اینجلس میں وائن سٹائن کو ابھی بھی دو خواتین پر حملہ کرنے کے الزامات کا سامنا ہے اور اس کے علاوہ بھی دیگر مقدمات زیر غور ہیں۔
ایل اے کاؤنٹی کے پراسیکیوٹرز نے وائنسٹین پر 6 جنوری 2020 کو الزام عائد کیا تھا کہ انھوں نے 2013 میں دو دن کے دوران علیحدہ واقعات میں ایک عورت کی عصمت دری کی اور دوسری خاتون پر جنسی حملہ کیا تھا
استغاثہ کا کہنا تھا کہ 18 فروری 2013 کو وائن سٹائن مبینہ طور پر ایک ہوٹل میں گئے اور ایک کمرے میں داخل ہونے کے بعد ایک خاتون کے ساتھ زیادتی کی۔ جبکہ ایک دن بعد انھوں نے کہا وائن سٹائن نے بیورلے ہلز کے ایک ہوٹل کے کمرے میں ایک عورت پر جنسی حملہ کیا تھا۔
وائن سٹائن کے خلاف جبری طور پر جنسی زیادتی، جنسی حملہ اور ریپ کرنے کے الزامات شامل ہیں۔
دسمبر 2019 میں وکلا کا کہنا تھا کہ چند الزام لگانے والوں کے ساتھ 25 ملین ڈالر کے ہرجانے کا ممکنہ معاہدے کر رہے ہیں۔
تاہم اس کے بعد سے کم از کم چار الزامات عائد کرنے والوں نے اس معاہدے سے دستبرداری اختیار کرلی تھی اور وہ معاہدہ اب شکوک و شبہات میں ہے۔
کم از کم 80 خواتین نے ان پر جنسی بد سلوکی کے الزامات عائد کیے ہیں جن کا عرصہ عشروں پر محیط ہے مگر ان میں سے زیادہ تر شکایات مجرمانہ الزامات کا باعث نہیں بنی کیونکہ وہ حدود کے ضابطے سے باہر ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ واقعات بہت عرصے پہلے ہوئے تھے۔
7. اس سکینڈل نے #MeToo تحریک کو کیسے بڑھاوا دیا؟
می ٹو مہم کو 2006 کے اوائل میں ہیانٹرنیٹ پر دیکھا گیا تھا جب اسے امریکی جنسی استحصال سے بچنے والی کارکن ترانا برک نے استعمال کیا تھا۔
لیکن یہ وائنسٹین سکینڈل کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔
#MeToo تحریک نے خواتین کو عوامی سطح پر طاقتور مردوں کے خلاف بدتمیزی کے الزامات اجاگر کرنے کی ترغیب دی۔
سماجی کارکن اور قانونی ماہرین ہالی ووڈ کے بادشاہ کی سزا کو اس تحریک کے ایک امتحان کے طور پر دیکھتے ہیں۔