آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نائن الیون کے حملوں کو سی آئی اے سے منسلک کرنے پر کتاب کے ناشر کی معافی
فرانس میں کالج کی اس کتاب کے ناشر نے معافی مانگی ہے جس میں یہ کہا گیا تھا کہ نائن الیون کے حملوں کی منصوبہ بندی ’امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے کی تھی‘۔
یہ کتاب حالیہ ہفتوں میں دکانوں پر بھی دستیاب تھی۔
اس سازشی خیال کی نشاندہی بظاہر سوشل میڈیا پر سب سے پہلے اساتذہ کے ایک گروپ نے کی۔
کتاب کے ناشر نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ یہ جملہ نہیں لکھا جانا چاہیے تھا۔
یہ بھی پڑھیے
فرانسیسی زبان میں شائع کیے گئے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ 'یہ جملہ جو ایک ایسے خیال کو ظاہر کرتا ہے جس کی حقیقت میں کوئی بنیاد نہیں ہے کتاب کا حصہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ یہ ناشر یعنی الپسز پبلیکیشن اور نہ ہی مصنف کی رائے کی عکاسی کرتا ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ ٹیکسٹ بک فرانس میں گزشتہ صدی، یورپی اور عالمی تاریخ پر ایک مکمل کورس کہی جاتی ہے۔ اِس کے مصنف ژاں پیئر روشے ہیں جو تاریخ اور جیوگرافی کے استاد ہیں۔
حالانکہ یہ کتاب گزشتہ برس نومبر میں منظرِ عام پر آئی تھی لیکن حال ہی میں ایک سکول ٹیچر کی بیٹی نے سی آئی اے کے بارے میں اِس جملے کی سب سے پہلے نشاندہی کی۔
کتاب کے صفحہ نمبر 204 پر مصنف جہادی گروپ القاعدہ کے قیام اور 11 ستمبر سنہ 2001 کو نیویارک اور واشنگٹن میں ہونے والے حملوں کا سیاق وسباق سمجھاتا ہے۔ اس کے بعد مصنف یہ جملہ لکھتا ہے: 'عالمی سطح کا یہ واقعہ جس میں امریکہ کی اپنی سرزمین میں امریکی طاقت کی علامتوں کو نشانہ بنایا گیا بغیر کسی گمان کے سی آئی اے نے کروایا تھا تاکہ مشرقِ وسطیٰ پر امریکی اثر قائم کیا جا سکے۔‘
یہ معاملہ سازشی خیالات کے بارے میں بات کرنے والی ویب سائٹ ’کونسپریسی واچ‘ نے بھی اٹھایا اور شکایت کی کہ کتاب میں چھپنے والے اِس جملے کے ذریعے غلط طور پر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی کہ نائن الیون کے حملوں کے پیچھے کوئی سازش ہے۔
ویب سائٹ نے نشاندہی کی کہ سنہ 2018 میں ہونے والے ایک سروے میں 35 برس کے 21 فیصد لوگوں نے اِس موقف کی حمایت کی تھی کہ امریکی حکومت کو ان حملوں سے جوڑا گیا ہے اور ٹیکسٹ بک کے ذریعے اِسی عمر کے لوگوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
فرانسیسی ناشر الیپسس نے کہا ہے کہ کتاب کے مصنف اِس جملے کو ہٹانا چاہتے ہیں اور وہ کاپیاں جو ابھی تک دکانوں کو نہیں بھیجی گئی ہیں ان میں تصحیح کر دی جائے گی۔