آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شام کا گاؤں کفرنبل جہاں اب انسانوں سے زیادہ بلیاں آباد ہیں
کئی ماہ سے جاری شامی اور روسی افواج کی شدید بمباری کے بعد شام میں کفرنبل نامی ایک گاؤں میں انسانوں سے زیادہ اب بلیاں آباد ہیں۔
کفرنبل اُس آخری صوبے کا حصہ ہے جو باغیوں کے قبضے میں ہے۔
بی بی سی کے مائیک تھامسن لکھتے ہیں کہ یہاں اب انسان اور بلیوں کی مختلف نسلیں اس مشکل وقت میں ایک دوسرے کو دلی سکون پہنچاتے ہیں۔
شدید بمباری سے بچنے کے لیے ایک آدمی میز کے نیچے چھپا ہوا ہے۔ یہ میز ایک ایسے تہہ خانے کے کونے میں پڑا ہے جہاں جگہ جگہ ملبہ پھیلا ہوا ہے۔ لیکن یہاں 32 سالہ صلاح جار تنہا نہیں ہے۔
اس کے بغل میں آدھ درجن بلیاں چھپی ہوئی ہیں جو اتنی ہی خوفزدہ ہیں۔
وہ بتاتے ہیں ’بلیوں کے قریب ہونے سے دلی سکون ملتا ہے۔‘
’اس سے بمباری، تباہی اور تکلیف کچھ حد تک کم خوفناک ہوجاتی ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صلاح کے آبائی گاؤں کفرنبل میں ایک وقت تھا جب 40 ہزار سے زیادہ لوگ آباد تھے۔ لیکن اب یہاں 100 سے کم لوگ باقی رہ گئے ہیں۔ یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ یہاں کتنی بلیاں ہیں۔ لیکن ان کی تعداد یقیناً سینکڑوں یا ممکنہ طور پر ہزاروں میں ہے۔
صلاح کہتے ہیں ’بلیوں کو اپنی دیکھ بھال کے لیے کسی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو انھیں خوراک اور پانی دے۔ اس لیے انھوں نے ایسے گھروں میں پناہ لے لی ہے جہاں ابھی لوگ موجود ہیں۔
’ہر گھر میں اب تقریباً 15 بلیاں ہیں۔ کبھی کبھار یہ اس سے زیادہ ہوتی ہیں۔‘
صلاح اب بھی ایک مقامی ریڈیو سٹیشن ’فریش ایف ایم‘ میں نیوز رپورٹر کے طور پر کام کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس کے اصل سٹوڈیو کو ایک حالیہ فضائی حملے میں تباہ کر دیا گیا تھا۔
تاہم یہ اچھا ہوا کہ اس ریڈیو سٹیشن کا کام قریب ہی ایک دوسرے گاؤں میں منتقل کر دیا گیا ہے جو قدرے محفوظ ہے۔
یہ ریڈیو سٹیشن بم حملوں کی تنبیہ کے علاوہ خبریں نشر کرتا ہے اور اس کے ساتھ ہی مزاحیہ اور کالرز کی رائے پر مشتمل پروگرامز بھی چلتے ہیں جو بلیوں کے ساتھ لوگوں میں بھی مقبول تھے۔
درجنوں بلیوں نے اسے اپنا گھر بنایا تھا۔ ریڈیو سٹیشن کے بانی اور معروف سماجی کارکن راید فارس کو نومبر 2018 میں عسکریت پسندوں نے ایک حملے میں ہلاک کر دیا تھا۔ راید فارس نے ان کے لیے دودھ اور چیز خریدنے کے لیے ایک خاص رقم بھی مختص کر رکھی تھی۔
صلاح بتاتے ہیں ’اس عمارت میں کئی بلیاں پیدا ہوئیں۔ ان میں سے ایک سفید رنگ کی بلی تھی جس پر بھورے دھبے تھے۔ یہ بلی راید فارس کے کافی قریب تھی۔ وہ ان کے ساتھ ہر جگہ جاتی تھی اور ان کے ساتھ ہی سوتی تھی۔‘
جب صلاح اپنے تباہ حال گھر سے نکلتے ہیں تو انھیں ہر طرف سے بلیوں کی ’میاؤں‘ کی گونج سنائی دیتی ہے۔ کچھ آوازیں نرم اور سریلی ہوتی ہیں تو بعض میں چیخ و پکار اور بیتابی جھلکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسا سب کے ساتھ ہوتا ہے۔
’کبھی کبھار جب ہم گلی میں پیدل چلتے ہیں تو ہمارے ساتھ پورے راستے 20 سے 30 بلیاں چل رہی ہوتی ہیں۔ ان میں سے کچھ تو گھر تک آجاتی ہیں۔‘
اندھیرا ہونے پر آوارہ کتوں کی بھوکنے اور بیچارگی کی آوازیں رات کے منظر کو مزید نمایاں کر دیتی ہیں۔ وہ بھی بھوک سے نڈھال اور بے گھر ہیں۔ رات کے اوقات میں کھانے کی تلاش انھیں کفر نبل کی بلیوں کے آمنے سامنے لے آتی ہے۔
یہ بلیاں طاقت کے اعتبار سے کتوں سے کمزور ہیں لیکن صلاح کے مطابق ان جھگڑوں میں ہمیشہ صرف ایک فاتح ہوتا ہے۔
’ہمیشہ بلیاں جیت جاتی ہیں کیونکہ یہ بہت ساری ہیں‘
ان میں سے اکثر بلیاں اپنے خاندانوں کے ساتھ محبت سے رہا کرتی تھیں لیکن پھر یہ خاندان اس وقت گاؤں چھوڑ کر چلے گئے جب شامی حکومت کی حمایت یافتہ افواج نے گذشتہ اپریل ادلب سے قبضہ چھڑانے کے آپریشن کا آغاز کیا تھا۔
اب پیار اور کھانے سے محروم انھیں ملبے میں نئے گھر تلاش کرنے ہیں۔
صلاح جیسے لوگ کبھی یقینی طور پر زندہ بچنے کے بارے میں نہیں سوچ سکتے۔ اور نہ ہی انھیں اس بات کی تسلی ہے کہ اگلا کھانا کدھر سے آئے گا۔ لیکن ایسا لگتا ہے جیسے اُن کی میز پر ان چار ٹانگوں والے دوستوں کے لیے ہمیشہ جگہ رہے گی۔
وہ کہتے ہیں ’میں جو بھی کھاتا ہوں، یہ بلیاں میرے ساتھ کھاتی ہیں۔ چاہے سبزیاں، نوڈلز یا خشک بریڈ ہو۔ اس صورتحال میں مجھے لگتا ہے کہ ہم کمزور مخلوق ہیں اور ایک دوسرے کی مدد چاہتے ہیں۔‘
یہ بات حیرت انگیز نہیں کہ لگاتار بمباری کی وجہ سے اکثر لوگوں کے ساتھ بلیاں بھی زخمی ہوتی ہیں۔ یہاں بھی ادویات اور دوسری چیزوں کی کمی کے باوجود صلاح کہتے ہیں کہ ان کی دیکھ بھال کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔
وہ کہتے ہیں ’میرا ایک دوست ہے جس کے گھر میں بلیاں ہیں۔ ان میں سے ایک بلی راکٹ حملے میں زخمی ہوئی اور اس کا ایک اگلا پنجہ تقریباً نکل ہی گیا تھا۔ لیکن ہم اسے طبی امداد کے لیے ادلب شہر لے گئے اور اب یہ پہلے کی طرح چلتی پھرتی ہے۔‘
شام کے صدر بشارالاسد کی افواج اب کفرنبل سے زیادہ دور نہیں۔ یہ ممکن ہے کہ جلد ہی اس گاؤں کو مزید تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ صلاح یہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ نہ صرف اپنے اور اپنے دوستوں کے لیے پریشان ہیں بلکہ ان بلیوں کے لیے بھی فکرمند رہتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں ’ہم نے اچھا برا وقت، درد اور خوف ایک ساتھ جھیلے ہیں۔ یہ اب زندگی میں ہمارے ساتھی بن چکے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ اگر انھیں کفرنبل سے زبردستی نکالا گیا تو پھر وہ اپنے ساتھ ان بلیوں کو بھی لے جائیں گے۔
جنگ کے خوف کے باوجود یہ لگتا ہے کہ انسانوں اور ان کے پالتو جانوروں کے درمیان ایک ایسا تعلق قائم ہو چکا ہے جسے آسانی سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔