ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی قرارداد امریکی ایوان نمائندگان میں منظور، اب سینیٹ میں مقدمہ چلے گا

امریکہ کے ایوانِ نمائندگان نے ملک کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی دو قراردادیں منظور کر لی ہیں جس کے بعد ٹرمپ اس عمل کا سامنا کرنے والے امریکہ کے تیسرے صدر بن گئے ہیں۔

ایوانِ نمائندگان میں مواخذے کی قراردادوں کی منظور کے بعد صدر ٹرمپ پر اب امریکی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں مقدمہ چلایا جائے گا جہاں اس بات کا فیصلہ ہو گا کہ وہ برسراقتدار رہیں گے یا نہیں۔

صدر ٹرمپ کے صدراتی عہدے کی معیاد اگلے برس نومبر میں ختم ہونی ہے۔

امریکی صدر پر الزامات ہیں کہ انھوں نے یوکرین پر ذاتی سیاسی مفادات حاصل کرنے کے لیے دباؤ ڈال کر اختیارات کا غلط استعمال کیا اور کانگریس کی تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔

ووٹنگ کے دوران ایوانِ نمائندگان کے تمام ڈیموکریٹ ارکان نے مواخذے کے حق میں جبکہ ریپبلکن ارکان نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔

جس وقت ایوانِ نمائندگان میں ووٹنگ ہو رہی تھی صدر ٹرمپ ریاست مشیگن میں ایک ریلی سے خطاب کر رہے تھے جہاں انھوں نے کہا کہ ’کانگریس میں سخت گیر بائیں بازو کے خیالات کے حامل نفرت اور غصے کا شکار ہو چکے ہیں۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔‘

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کیے گئِے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر کو ’یقین ہے کہ وہ سینیٹ میں کارروائی کے دوران بری الذمہ قرار دیے جائیں گے۔‘

یہ بھی پڑھیے

مواخذے کی کارروائی کیسے ہوئی؟

مواخذے کی کارروائی کے آغاز میں اس عمل کے ضوابط طے کرنے کے لیے ووٹنگ ہوئی جس کے بعد دس گھنٹے تک صدر ٹرمپ پر عائد دو الزامات پر بحث ہوتی رہی۔

بحث کے دوران صدر ٹرمپ نے اپنے خیالات کے اظہار کے لیے ٹوئٹر کا سہارا لیا اور اپنی ٹویٹس میں ڈیموکریٹ جماعت کے ارکان کے دلائل کو ’سخت گیر بائیں بازو کے جھوٹ‘ اور ’ریپبلکن پارٹی پر حملہ‘ قرار دیا۔

بحث کے بعد مقامی وقت کے مطابق بدھ کی رات ساڑھے آٹھ بجے (پاکستانی وقت کے مطابق جمعرات کی صبح ساڑھے چھ بجے) ایوانِ نمائندگان میں دو الزامات پر ووٹنگ شروع ہوئی۔

ان میں پہلا الزام اختیارات کے غلط استعمال کا تھا جس کے مطابق صدر ٹرمپ نے یوکرین پر دباؤ ڈالا کہ وہ ان کے سیاسی حریف جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات کا اعلان کرے جبکہ دوسرا الزام کانگریس کی تحقیقات کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا تھا کیونکہ صدر نے مبینہ طور پر مواخذے کی تحقیقات کے سلسلے میں تعاون سے انکار کیا، دستاویزی ثبوت روکے اور اپنے اہم ساتھیوں کو ثبوت دینے سے بھی منع کیا۔

اختیارات کے غلط استعمال کے الزام پر ووٹنگ کے دوران اس کے حق میں 230 جبکہ مخالفت میں 197 ووٹ ڈالے گئے جبکہ کانگریس کی راہ میں رکاوٹ کے الزام پر یہ تعداد 229 اور 198 رہی۔

ایوانِ نمائندگان سے مواخذے کی منظوری کے بعد صدر ٹرمپ اینڈریو جانسن اور بل کلنٹن کے بعد امریکی تاریخ میں تیسرے ایسے امریکی صدر بن گئے جس کا مواخذہ کیا گیا ہے۔

سنہ 1868 میں اینڈریو جانسن اور 1998 میں بل کلنٹن کے خلاف مواخذے کی کارروائی ہوئی تھی تاہم ان دونوں صدور کو سینیٹ میں ان پر عائد کیے گئے الزامات سے بری کر دیا گیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی برطرفی کیوں ممکن نہیں؟

ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹ پارٹی کو اکثریت حاصل ہے اور یہاں صدر کے خلاف لگائے جانے والے الزامات کی منظوری کے لیے دو تہائی کی شرط بھی نہیں تھی لیکن سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ سینیٹ میں صورتحال بالکل مختلف ہو گی۔

صدر کی عہدے سے برطرفی کے لیے سینیٹ کی دو تہائی اکثریت کو ان کے خلاف ووٹ دینا ہو گا اور ایوانِ نمائندگان کے برعکس امریکی ایوانِ بالا یعنی سینیٹ میں صدر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کی اکثریت ہے۔

اس وجہ سے اس بات کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے کہ صدر ٹرمپ کو مواخذے کی وجہ سے اپنا عہدہ چھوڑنا پڑے۔

رپبلکن پارٹی کو 100 ارکان پر مشتمل ایوان بالا یعنی سینیٹ میں 53 نشستیں حاصل ہیں اور حزب اختلاف کی جماعت ڈیموکریٹ پارٹی کو صدر کے خلاف مواخذے کی تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے 67 ووٹوں کی ضرورت ہو گی۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈیموکریٹ پارٹی کو کم از کم 20 رپبلکن ارکان کو اپنے ساتھ ملانا ہو گا اور اس کے علاوہ انھیں دو آزاد نمائندوں کے ووٹ بھی حاصل کرنا ہوں گے۔

سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کے سربراہ مچ میکونل نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ ریپبلکن سینیٹر مقدمے کے دوران صدر کی ٹیم سے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں گے۔ ان کے اس بیان پر ڈیموکریٹس نے شدید تنقید کی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ سینیٹرز پر لازم ہے کہ وہ غیرجانبدار رہیں۔

مچ میکونل نے مواخذے کو ایک جانبدانہ اقدام قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ وہ مواخذے کے حق میں دلائل سنتے ہوئے غیر جانبدار نہیں رہ سکیں گے۔

انھوں نے کہا ’وہ کوئی غیر جانبدار منصف نہیں ہوں گے۔ یہ ایک سیاسی عمل ہے یہ کسی طرح بھی انصاف کا یا عدالتی عمل نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ایوان نمائندگان کا صدر کے مواخذے کا ایک جانبدارنہ سیاسی فیصلہ ہے اور مجھے توقع ہے کہ سینیٹ میں اس کا ایک جانبدرانہ فیصلہ ہی ہو گا۔

مچ میکونل ہی وہ شخص ہیں جو اس مقدمے کے ضوابط اور یہ بات طے کریں گے کہ کون سے گواہان بیان دیں گے۔ وہ جمعرات کو ہی سینیٹ سے خطاب کرنے والے ہیں۔

امریکی ایوانِ نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی نے بھی تاحال ان افراد کے ناموں کا اعلان نہیں کیا جو اس مقدمے میں بطور استغاثہ پیش ہوں گے۔

خطرناک قدم

ڈیموکریٹ پارٹی کے لیے صدارتی انتخاب کے سال میں صدر ٹرمپ کو ان کے عہدے سے ہٹایا جانا سیاسی طور پر خاص خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

مواخذے کی کارروائی کے دوران صدر ٹرمپ کے لیے دوسری مدت کے لیے انتخابی مہم چلانا مشکل ہو سکتا ہے لیکن اس سے ان ڈیموکریٹ ارکان کے لیے اپنے حلقوں سے دوبارہ منتخب ہونا بھی مشکل ثابت ہو سکتا ہے جہاں صدر ٹرمپ کے حامیوں کی تعداد زیادہ ہے۔

لیکن ان کے مخالفین نے یہ حکمت عملی اختیار کر کے سیاسی خطرات مول کیوں لیے ہیں؟

آئین کی بالادستی

ڈیموکریٹ پارٹی کی عالمی امور سے متعلق شعبے کی سربراہ جولیا برائن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت واضح ہے کہ صدر کا مواخذاہ کرنے کے لیے الزامات کافی ہیں اور اگر وہ ان الزامات پر کارروائی نہیں کرتے تو وہ مستقبل کے لیے انتہائی غلط روایات قائم کریں گے۔

جولیا برائن جو ڈیموکریٹ پارٹی کی نیشنل کمیٹی کی رکن بھی ہیں، نے مزید کہا کہ یہ ان کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس ان ثبوتوں سے نظر نہیں چرا سکتی جو اتنے واضح ہیں اور غیر جانبدار لوگوں نے ان کے سامنے پیش کیے ہیں۔

صدر ٹرمپ اس الزام کی سختی سے تردید کرتے ہیں کہ انھوں نے یوکرین کے صدر سے چار سو ملین امریکی ڈالر کی فوجی امداد کے عوض سابق امریکی نائب صدر جو بائڈن کے بیٹے کی کمپنی کے خلاف تحقیقات شروع کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پولسی کو ایک غصے سے بھرے خط میں صدر ٹرمپ نے اپنے اختیار کے ناجائز استعمال کے الزام کو رد کرتے ہوئے نینسی پولسی پر الزام لگایا کہ انھوں نے جمہوریت کے خلاف کھلی جنگ شروع کر دی ہے۔

انھوں نے کہا ’آپ نے ایک بدصورت لفظ مواخذے کی اہمیت کو انتہائی کم کر دیا ہے۔‘

انتخابی تعلق

امریکہ کی جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے شعبۂ سیاسیات کے ڈائریکٹر پروفیسر ٹوڈ ایل بیلٹ نے کا کہنا ہے کہ اس سب کا تعلق لازمی طور پر انتخابات سے ہے۔

ان کے مطابق ڈیموکریٹ پارٹی کے ارکان یہ سوچ رہے ہیں کہ ان کے حامی مواخذے کے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں۔ اگر انھوں نے اس بارے میں کچھ نہیں کیا تو ہو سکتا ہے کہ ان کا انتخاب میں کامیابی حاصل کرنا ممکن نہ ہو۔

بالکل اسی طرح پروفیسر بیلٹ کے خیال میں ریپبلکن بھی یہی سوچ رکھتے ہیں کہ اگر انھوں نے صدر ٹرمپ کے خلاف ووٹ دیا تو ان کو ریپبلکن پارٹی کے حامیوں سے ووٹ نہیں ملے گا۔

پروفیسر بیلٹ نے کہا کہ اسی بنا پر اس معاملے پر سیاسی بنیادوں پر تقسیم بڑھ رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ قدامت پسند حلقوں سے منتخب ہو کر آنے والے قانون سازوں کے لیے اسی لیے مواخذے کے حق میں کھل کر بات کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

میچیگن ریاست سے منتخب رکن کانگرس الیسا سلوتکن کا کہنا ہے کہ وہ پارٹی کے فیصلے کے مطابق ووٹ ڈالیں گی اور یہ اعلان کرتے ہوئے انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ یہ کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا۔

انھوں نے کہا کہ وہ یقین سے کہہ رہی ہیں کہ جو وہ کر رہی ہیں درست کر رہی ہیں، ہو سکتا ہے کہ سنہ 2020 کے انتخابات میں ووٹر انھیں اپنا نمائندہ منتخب نہ کریں لیکن وہ امید کرتی ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔

صدر کو دباؤ میں رکھنا

ڈیموکریٹ کی طرف سے ایسے اشارے بھی ملے ہیں کہ مواخذے کی تحریک ہی ایک ایسا طریقہ ہے جس سے صدر کو سیاسی دباؤ میں رکھا جا سکتا ہے۔

مواخذے کی تحقیقات سے صدر ٹرمپ کے کاروبار اور ان کے رفقا پر کڑی نظر رکھنے میں مدد ملی ہے خاص طور پر ان کے ذاتی وکیل اور نیو یارک شہر کے سابق میئر روڈولف جولیانی۔

جولیانی نے یوکرین میں سابق امریکی سفیر میری یوونواچ کی برطرفی میں اہم کردار ادا کیا کیوں انھوں نے محسوس کیا کہ وہ صدر کے خلاف ہیں۔

پروفیسر بیلٹ نے کہا کہ انھیں بڑی حد تک یقین نے صدر، روڈولف جولیانی اور یوکرین میں ان کے شراکت داروں کے خلاف بہت سے مقدمات عدالتوں میں لائے جائیں گے۔ ’غالباً صدر کے کاروباری سودوں کے متعلق بھی کئی اور مقدمات۔‘

انھوں نے کہا کہ مواخذے کے علاوہ بھی بہت سے ایسے طریقے موجود ہیں جن سے ڈیموکریٹ صدر ٹرمپ اور ان کے معاملات پر قوم کی توجہ مرکوز رکھ سکتے ہیں۔

اس سلسلے میں جو مزید ثبوت بھی سامنے آئیں گے وہ صدر کے لیے سیاسی طور پر انتہائی نقصان دہ ہوں گے۔

کیا اس کا اثر امریکی ووٹروں پر ہو گا؟

ڈیموکریٹ پارٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ مواخذے کی کارروائی کا اگلا مرحلہ قوم کی زیادہ توجہ حاصل کرے گا۔

عوامی رائے عامہ کے جائزے صدر ٹرمپ کو برطرف کیے جانے یا نہ کیے جانے کے بارے میں انتہائی منقسم رائے پیش کر رہے ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ اور نشریاتی ادارے اے بی سی کے ایک مشترکہ جائزے میں جو نتائج سامنے آئے ہیں ان کے مطابق 49 فیصد لوگ اس حق میں ہیں کہ صدر کا مواِخذہ کیا جائے اور عہدے سے برطرف کیا جائے جبکہ 46 فیصد کی رائے اس کے خلاف ہے۔

عوام کی مخالفانہ رائے کی وجہ سے صدر نکسن کو سنہ 1974 میں اپنے عہدے سے استعفی دینا پڑا کیونکہ ان کا مواخذہ اور عہدے سے ہٹایا جانا بالکل یقینی تھا۔

لیکن پروفیسر بلیٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کی ایوان بالا میں اکثریت اور ان کی مواخذے کو مکمل طور پر سیاسی انتقام ثابت کرنا ان کی اقتدار سے علیحدگی کو بعید از امکان بنا دیتا ہے۔

صدر نکسن کی دفعہ ڈیموکریٹ نے آہستہ آہستہ اور قطرہ قطرہ کر کے حقائق کو عوام کے سامنے پیش کیا تھا جس کے نتیجے میں انھیں مستعفی ہونا پڑا تھا۔

اس عمل کو طول دینے سے ہو سکتا ہے کہ ڈیموکریٹ کچھ اور جرائم اور زیادہ ٹھوس شواہد سامنے لا سکیں لیکن وہ اس سارے معاملے کو جلد از جلد نمٹانا چاہ رہے ہیں تاکہ وہ دوسرے امور پر بھی توجہ دیں سکیں جن سے ان کو انتخابات میں مدد حاصل ہو سکے۔