آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
لبنان میں بجلی کا بحران: ایسا ملک جہاں زندہ رہنے کے لیے بجلی چوری کی جاتی ہے
- مصنف, ٹم ویویل
- عہدہ, بی بی سی بیوز طرابلس
شام چھ بجے کا وقت محمد مصری کے گھر میں سوئچ اوور ٹائم یعنی تبدیلی کا وقت ہے، یہ وہ لمحہ جب ان کا اپارٹمنٹ تاریک اور خاموش ہو جاتا ہے۔ بتیاں، پنکھا، ٹی وی، فرج، سب بند ہو جاتے ہیں۔
اگلے روز اسی وقت سب کچھ آن ہو جاتا ہے۔ گذشتہ 10 سال سے ان کے گھر سمیت لبنان کے بیشتر گھروں میں ایسے ہی چل رہا ہے۔۔ آن، آف۔۔ آف، آن۔
لبنان کی نیشنل گرڈ لوگوں کی ضروریات سے صرف نصف بجلی ہی فراہم کر سکتی ہے۔
73 سالہ ریٹائرڈ ڈرائیور اور پھیپھڑوں کی دائمی بیماری میں مبتلا محمد کے لیے یہ صورتحال بہت تکلیف دہ ہے۔ وہ ملک کے دوسرے بڑے شہر طرابلس میں اپنی بیوی اور پانچ بیٹیوں کے ساتھ رہتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں ’میں ایئر کنڈیشنگ آن نہیں کر سکتا۔ میں پانی گرم نہیں کر سکتا۔ حتیٰ کہ میں اپنے اپارٹمنٹ میں پانی پمپ تک نہیں کر سکتا۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’ہمیں اپنی روزمرہ سرگرمیوں کی منصوبہ بندی بجلی کی بندش کے حساب سے کرنا پڑتی ہے۔ ہم نہاتے نہیں، ہم اپنے کپڑے نہیں دھوتے۔ چونکہ فریج چل نہیں رہی ہوتی اس لیے ہمیں کھانا پھینکنا پڑتا ہے۔‘
لیکن اب لبنان کے 60 لاکھ افراد کی قوتِ برداشت جواب گئی ہے۔
لبنان میں گذشتہ دو ماہ سے جاری مظاہروں کے اہم مطالبات میں بجلی کی مستقل فراہمی سرفہرست ہے۔ یہ مطالبہ لاکھوں مظاہرین کو سڑکوں پر لے آیا ہے اور حکومت کو مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔
مظاہرین کے اشتعال کا نشانہ توانائی کی ریاستی کمپنی، ای ڈی ایل ہے۔ نوجوان مظاہرین نے بیروت میں کمپنی ہیڈ کوارٹر کے باہر ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔
اس احتجاجی کیمپ کو منظّم کرنے میں مدد دینے والی 33 سالہ لارا قیس کا کہنا ہے ’یہ سوچنا بہت ہی پاگل پن ہے کہ ہم 2019 میں ہیں اور اب بھی دن میں تین گھنٹے بجلی نہیں ہوتی۔‘
لارا بیروت کی بات کر رہی ہیں۔ باقی شہروں میں تو دن میں 17، 17 گھنٹے بجلی نہیں ہوتی۔
توانائی کی یہ کمی ملک میں گذشتہ کئی برسوں کے دوران پاوور پلانٹس میں ضرورت کے مطابق سرمایہ کاریہ نہ کرنے کی وجہ سے ہے۔
اور ایسا اس لیے ہوا کیونکہ ملک دو بڑی مذہبی برادریوں کے درمیان اقتدار کی تقسیم اور پیچیدہ سیاسی نظام کی وجہ سے سٹریٹیجک منصوبوں کے حوالے سے فیصلے کرنا مشکل تھا۔
مظاہرین اس نظام کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔
انہیں شبہ ہے کہ بجلی کی کمی سے کئی سیاستدانوں کو فائدہ ہوتا ہے کہ جن کے نجی جنریٹر آپریٹرز کے ساتھ تعلقات ہیں اور قومی گرڈ کے ناکام ہونے پر ان لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔
زیادہ تر لبنانی دو طرح کے بجلی کے بل ادا کرتی ہیں۔ ایک ای ڈی ایل اور دوسرا ان نجی جنریٹر مالکان کا۔
جب بجلی چلی جاتی ہے تو یہ لوگ نجی بجلی پر منتقل ہو جاتے ہیں جو بہت مہنگی ہے۔ اور تکنیکی طور پر نجی جنریٹرز چلانا غیر قانونی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ان سپلائرز کو سیاسی ڈھال چاہیے۔
طرابلس میں کچھ جنریٹرز مالکان ان ملیشیا کے سابق رہنما ہیں جنہوں نے سنہ 2011 اور 2014 کے درمیان جان لیوا فرقہ وارانہ لڑائیوں کے دوران اپنی برادریوں کا دفاع کیا تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب سنی مسلمانوں اور علوی اقلیت آپس میں برسرِ پیکار تھے۔
شہر کے کونسلر اور سابق سیاسی کارکن شادی نشابة کا کہنا ہے ’جھڑپیں ختم ہونے کے بعد ان لوگوں کو پرائیویٹ جنریٹرز چلانے کی در پردہ اجازت دے دی گئی۔
ان کے بقول اس اس کے بدلے میں سکیورٹی فورسز چاہتی تھیں کہ یہ جنریٹر آپریٹرز کچھ برادریوں کو مفت بجلی فراہم کریں گے تاکہ انتخابات میں حکومت کے ساتھ ان کی وفاداری کو یقینی بنایا جائے۔
لیکن کئی دوسرے لوگ چوری کر کے مفت بجلی حاصل کر رہے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق ای ڈی ایل کی بجلی کی نصف سپلائی چوری کر لی جاتی ہے اور یہ بات بھی سرمایہ کاری کے فنڈز میں کمی کی مزید وضاحت کرتی ہے۔
ایسے میں الیکٹریشنز جو رابن ہُڈ بننے کا دعویٰ کرتے ہوئے غیر قانونی حرکات کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جن علاقوں میں لوگ بتیاں بند نہیں کرتے یہ ان کی بجلی کاٹ کر ان لوگوں کو منتقل کر دیتے ہیں جہاں اندھیرا رہتا ہے۔
ایسے ہی ایک رابن ہُڈ آدم (فرضی نام جو) جو اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتے، کا کہنا تھا ’میں یہ صرف ان لوگوں کے لیے کرتا ہوں جن کے بارے میں مجھے محسوس ہوتا ہے کہ وہ ضرورت مند ہیں اور غریب ہیں اور انہیں کہیں اور سے بجلی نہیں مل سکتی۔ ‘
’یہ چوری ہے، میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ نہیں ہے، لیکن یہ صورتحال ہم پر ریاست نے مسلط کی ہے۔‘
جنوبی بیروت میں شاہتلیا فلسطینی کیمپ جیسے انتہائی غریب علاقوں کی تنگ گلیوں اور حد سے زیادہ گنجان گھروں کے بیچ ہر کوئی چوری شدہ بجلی استعمال کرتا ہے اور ہر عمارت پر تاروں کا ایک گچھا لٹتکا نظر آتا ہے۔
مگر آج اس کے بغیر عیسیٰ رشید شاید آج زندہ نہ ہوتے۔ ان کے پھیپھڑے فیل ہو چکے ہیں اور وہ بجلی سے چلنے والے ایک آکسیجن پمپ کے ذریعے سانس لیتے ہیں۔ جب بجلی چلی جاتی ہے تو ان کی فیملی ایک غیر قانونی کنیکشن پر منتقل ہو جاتی ہے۔ وہ لوگ جنریٹر پر صرف اس وقت جاتے ہیں جب چوری شدہ بجلی بھی نہ آ رہی ہو۔
ہر روز متعدد بار ایک خوفناک لمحہ آتا ہے جب بجلی ایک سپلائی سے دوسری پر منتقل ہوتی ہے اور عیسیٰ صوفے پر بیٹھے سانس لینے کو تڑپ رہے ہوتے ہیں۔
عیسیٰ کے بیٹے اسام کہتے ہیں کہ ’ہم سارا وقت اس پریشانی میں رہتے ہیں کہ کچھ برا ہو جائے گا۔ یہ ایک انتہائی برا خوف کا احساس ہے جس میں ہم گذشتہ پانچ برسوں سے رہ رہے ہیں۔‘
کیا اس فیملی کے حالات بہتر ہوں گے؟
ریاست کی شاہتلیا فلسطینی کیمپ کو رسد اس لیے انتہائی کم ہے کیونکہ اس کے ایک مرکزی فیڈر کی کیبل ٹوٹی ہوئی ہے اور اسے بیروت میں فرقہ وارانہ تناؤ کی وجہ سے مرمت نہیں کیا گیا ہے۔
اور بہت سے مظاہرین یہی کہتے ہیں کہ یہی واضح کرتا ہے کہ لبنان میں کیا کچھ خراب ہے۔
اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ جب تک اس ملک کے سیاسی نظام کو بدلا جائے تب تک یہاں لائٹ آئے۔