شہزادہ ولیم اپنے بھائی کے انٹرویو پر ’غصہ‘ نہیں بلکہ ’فکرمند‘

برطانوی شہزادہ ولیم کے محل کینسنگنٹن پیلس کے ایک ذریعے نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ شہزادہ ولیم ایک ٹی وی ڈاکیومنٹری میں اپنی ذہنی صحت کے بارے میں بات کرنے پر شہزادہ ہیری کے لیے ’فکر مند‘ ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ شہزادہ ہیری ڈیوک آف سسیکس اور میگھن مارکل ڈچز آف سسیکس نے جب آئی ٹی وی کی ایک دستاویزی فلم میں بتایا کہ وہ کس طرح جدوجہد کر رہے ہیں، تو اس کے بعد شہزادہ ولیم نے امید ظاہر کی ہے کہ اس شاہی جوڑے کے لیے سب کچھ ’بالکل ٹھیک‘ ہوجائے گا۔

محل کے ذریعے نے کہا کہ یہ نکتہ نظر موجود ہے کہ جوڑا ’مشکل مقام‘ پر ہے مگر انھوں نے اتوار کو جاری ہونے والی آئی ٹی وی کی دستاویزی فلم پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

ذریعے نے اس تاثر کو زائل کیا کہ شہزادہ ولیم اتوار کو جاری ہونے والی دستاویزی فلم پر اپنے بھائی پر ’غصہ‘ ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اس دستاویزی فلم میں ڈیوک اور ڈچز آف سسیکس کو رواں ماہ کے اوائل میں ان کے افریقہ کے جنوبی خطے کے دورے کے دوران فلمایا گیا تھا۔

اپنے انٹرویوز میں جوڑے نے کہا تھا کہ وہ برطانوی ٹیبلائڈ پریس کے چند عناصر کی جانب سے اپنی ذاتی زندگیوں میں شدید مداخلت کے شکار ہیں۔

میگھن مارکل نے آئی ٹی وی کی ایک دستاویزی فلم میں تسلیم کیا تھا کہ میڈیا کے دباؤ کی وجہ سے ماں بننے کا تجربہ بہت مشکل تھا۔

ڈچز آف سسیکس میگھن مارکل نے کہا تھا کہ ان کے دوستوں نے انھیں مشورہ دیا تھا کہ شہزادہ ہیری سے شادی نہ کریں۔

میگھن مارکل نے کہا کہ انھیں کہا گیا تھا کہ ’ایسا (شہزادہ ہیری سے شادی) نہ کرو، برطانوی ٹیبلائیڈ پریس تمھاری زندگی برباد کر دے گا۔‘

شہزادہ ہیری نے اسی انٹرویو میں اپنے بھائی شہزادہ ولیم کے ساتھ تعلقات میں ’دراڑیں‘ پڑنے کے حوالے سے سوالوں کے جواب دیے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اور ان کے بھائی شہزادہ ولیم مختلف راہوں پر گامزن ہیں۔

شہزادہ ہیری نے کہا ’میرے اور شہزادہ ولیم کے مابین اچھے دن بھی ہوتے ہیں اور برے بھی۔ ہم بھائی ہیں، اور ہمیشہ بھائی رہیں گے۔‘

’اس لمحے ہم یقیناً دو مختلف راہوں پر گامزن ہیں، لیکن جب ضرورت ہوئی تو میں اس کے ساتھ ہوں گا اور مجھے معلوم ہے کہ وہ بھی میرے ساتھ کھڑا ہوگا۔‘

’زندگی صرف زندہ رہنے کا نام نہیں‘

اتوار کو نشر کی گئی آئی ٹی وی کی ڈاکومینٹری میں میگھن مارکل نے کہا کہ شاہی زندگی کو اپنانا بہت مشکل تھا اور وہ برطانوی ٹیبلائیڈ میڈیا کی اتنی دخل اندازی کے لیے تیار نہیں تھیں۔

وہ کہتی ہیں کہ جب وہ پہلی بار شہزادہ ہیری سے ملی تھیں تو ان کے دوست بہت خوش تھے کیونکہ وہ بہت خوش تھیں۔ لیکن ان کے مطابق ان کے برطانوی دوستوں نے ان سے کہا ’ہمیں معلوم ہے کہ وہ (شہزادہ ہیری) بہت اچھے ہیں، لیکن آپ کو اس سے شادی نہیں کرنی چاہیے، برطانوی ٹیبلائیڈ تمہاری زندگی برباد کر دے گا‘۔

میگھن نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کے دباؤ کی وجہ سے حاملہ ہونا اور ماں بننا ایک مشکل مرحلہ تھا۔

ایک سوال کے جواب میں کہ کیا وہ اب اس دباؤ کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو گئی ہیں، میگھن مارکل نے کہا ’سچ بتاؤں میں نے کئی بار ایچ سے کہا ہے ( میں انھیں اسی طرح بلاتی ہوں) کہ زندگی کا مقصد صرف زندہ رہنا ہی نہیں ہے، بلکہ زندگی میں آگے بڑھنا ہوتا ہے۔‘

شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن کا دورہ پاکستان

میں اپنے خاندان کا تحفظ کروں گا

شہزادہ ہیری سے جب پوچھا گیا کہ کیا انھیں اس کی پریشانی ہے کہ ان کی بیوی کو اسی طرح کے دباؤ کا سامنا ہے جو ان کی ماں لیڈی ڈیانا کو تھا جو 1997 میں پیرس میں ایک کار حادثے میں وفات پا گئیں تھیں، تو انھوں نے کہا ’میں ہمیشہ اپنے خاندان کا تحفظ کروں گا، اور اب میرا خاندان ہے جس کا مجھے تحفظ کرنا ہے۔

’میری ماں جن حالات سے گزری اور ان کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ بہت اہم ہے۔ اور یہ نہیں کہ میں کسی وسوسے کا شکار ہوں، میں چاہتا ہوں کہ تاریخ اپنے آپ کو پھر نہ دہرائے۔‘

شہزادہ ہیری نے اپنی ذہنی صحت اور روز مرّہ کے دباؤ کے حوالے سے کہا کہ اس سے روزانہ نمٹنا پڑتا ہے۔ شہزادہ ہیری نے کہا ’میں نے سوچا تھا کہ میری مشکلیں ختم ہو چکی ہیں، لیکن وہ پھر اچانک واپس آگئیں۔ مجھے ان سب سے نمٹنا پڑتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا ’یہ میرے فرائض کا حصہ ہے کہ میں کچھ چیزوں کا دلیرانہ طور پر مقابلہ کروں، لیکن میرے اور میری بیوی کے حوالے سے کچھ ایسا مواد بھی چھپتا ہے جو کافی تکلیف دہ ہوتا ہے، اور خاص طور پر ایسا مواد جو زیادہ تر سچ نہیں ہوتا۔‘

شہزادہ ہیری، میگھن اور ان کے بیٹے آرچی کا افریقہ کا حالیہ دورہ بطور خاندان ان کا پہلا سرکاری دورہ تھا۔

38 سالہ ڈچز آف سسیکس کی 35 سالہ شہزادہ ہیری سے مئی 2018 میں ونڈزر محل میں شادی ہوئی تھی اور رواں سال ان کے ہاں بیٹے آرچی کی ولادت ہوئی۔

ڈچز آف سسیکس نے شادی کے روز سے لے کر اب تک اپنے شاہی کردار کے حوالے سے بھی بات کی۔

رواں ماہ کے اوائل میں شہزادہ ہیری نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کی اہلیہ میگھن مارکل ’برطانوی ٹیبلائیڈ کی تازہ شکار ہیں، جو یہ سوچے بغیر لوگوں کے خلاف مہم چلاتے ہیں کہ اس سے ان کی زندگیوں پر کیا اثر پڑے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ کچھ مخصوص ادارے جانتے بوجھتے مسلسل جھوٹی اور شرانگیز خبریں پھیلاتے ہیں۔

ڈیوک اینڈ ڈچز آف سسیکس نے میل آن سنڈے کے خلاف ایک ذاتی خط کو غیر قانونی طور پر چھاپنے کے الزام میں مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔

شہزادہ ہیری نے دی سن، ڈیلی مرر اور بند ہو جانے والے اخبار نیوز آف دی ورلڈ کے خلاف ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کر رکھا ہے کہ انھوں نے مبینہ طور پر ان کا فون ہیک کر کے ان کی گفتگو کو نشر کیا تھا۔

’ہیری تاریخ کو خود کو دہراتا ہوا دیکھ رہے ہیں‘

جانی ڈائمنڈ، شاہی نامہ نگار کا تجزیہ

خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں۔ اس صبح ایک باخبر ذریعے نے بی بی سی کو بتایا کہ شہزادہ ولیم اپنے بھائی پر ان کے دیے گئے انٹرویو کے حوالے سے 'غصہ' ہیں۔

لیکن محل کے ایک ذریعے نے بتایا کہ انھوں نے شہزادہ ولیم کے مزاج کو ایسا نہیں سمجھا ہے۔ اس کے بجائے ان اہلکار کے مطابق شہزادہ ولیم کے مزاج میں شاہی جوڑے کی خیریت کے لیے فکرمندی تھی۔

ان انٹرویوز میں ایسے دو لوگوں کو دکھایا گیا جو بے پناہ دباؤ میں تھے، اتنا دباؤ کہ وہ اپنے خدشات عوام کے سامنے لانے کے لیے بھی تیار تھے۔ ہیری اب بھی اپنی ذہنی صحت سے نمٹ رہے ہیں اور ان کی والدہ ڈیانا پرنسس آف ویلز کا سایہ اب بھی ان کی زندگی پر موجود ہے۔

اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ انھیں تاریخ خود کو دہراتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔ وہ سوچ رہے ہیں کہ پہلے میڈیا نے ان کی والدہ کی ذاتی زندگی کو تار تار کیا اور اب ان کی اہلیہ کی باری ہے۔

ولیم دنیا کو مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔ کسی دور میں وہ بھی میڈیا کو ایک مداخلت پسند اور مخالف قوت کے طور پر دیکھتے تھے مگر اب ایسا نہیں ہے۔

ولیم اور ہیری کے راستے کئی انداز میں جدا ہوئے ہیں اور یہ ان میں سے ایک ہے۔ مگر لہجہ اب ہیری اور میگھن کے لیے گہری فکرمندی کا ہے جیسے وہ تنہا اور خطرات کا شکار ہوں۔

شہزادہ ہیری محتاط گفتگو کا طریقہ سیکھ چکے ہیں لیکن انھوں نے بھائی کے ساتھ اپنے تعلقات کو جس انداز میں بیان کیا ہے وہ اس کی تصدیق کرتا ہے کہ ان کی زندگی بدل چکی ہے اور اب دونوں بھائیوں میں زیادہ قربت نہیں رہی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بھائیوں میں محبت رہے گی لیکن کچھ چیزیں بدل چکی ہیں۔

میگھن مارکل گفتگو کرنے میں بلا کی مہارت رکھتی ہیں اور انھوں نے اپنی صورتحال کو انتہائی نپے تلے انداز میں بیان کیا۔ انھوں نے ٹیبلائیڈز کی کوریج کے حوالے سے کہا ’میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ یہ آسان ہو گا لیکن میں سوچتی تھی کہ یہ منصفانہ ہوگی۔‘

پچھلے کچھ ماہ سے میگھن کو جس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، وہ یقیناً اس سے نالاں ہیں۔ برطانوی لوگ ہمیشہ اپنی ’منصفانہ‘ صفات پر فخر کرتے ہیں اور جس انداز میں شہزادی میگھن نے لفظ منصفانہ کو استعمال کیا ہے وہ یقیناً چبھا ہے۔

جب پریزینٹر ٹام بریڈبی نے کہا کہ اب تک کا سفر مشکل تھا، تو میگھن نے کہا ’ہاں‘ ایسا ہی تھا۔ شہزادہ ہیری نے ذہنی صحت کے مسائل کا اعتراف کیا۔ یہ شاہی جوڑا اب دباؤ محسوس کر رہا ہے اور اس کا اظہار بھی کر رہا ہے۔ شہزادہ ہیری اب ہر کیمرے اور ہر ہیڈ لائن میں اپنی ماں لیڈی ڈیانا کا عکس دیکھ رہے ہیں۔

یہ بہت دکھ بھری کہانی ہے۔