آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مصر میں مظاہرے، تحریر سکوائر پھر آباد ہو رہا ہے
مصر کے صدر عبدالفتح السیسی کے خلاف مسلسل دوسری رات کو بھی ملک میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، جن میں سکیورٹی فورسز نے اب تک کئی درجن مظاہرین کو گرفتار کرلیا ہے۔
مصر کے شہر سوئز میں تقریباً 200 کے قریب مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ یہ مظاہرین مصر کے صدر کے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کئی درجن مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ ان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز آنسو گیس کا استعمال بھی کر رہی ہیں۔
صدر سیسی کی حکومت کی ’بدعنوانی` کے خلاف جمعے کو شہریوں کی بڑی تعداد قاہرہ کے مشہور تحریر سکوائر پر بھی جمع ہو گئی۔ صدر سیسی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں جھوٹ قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
مظاہرے کیوں ہو رہے ہیں؟
سنہ 2014 میں مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی حکومت کو ختم کر کے ملک کے فوجی سربراہ عبدالفتح سیسی اقتدار میں آئے تو اس وقت سے ان کے خلاف مظاہرے ہونا بہت غیرمعمولی تصور کیا جاتا رہا ہے۔ حالیہ مظاہروں کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب مصر کے مشہور اداکار اور کاروباری شخصیت محمد علی نے سوشل میڈیا پر صدر سیسی اور ان کی حکومت کے خلاف متعدد ویڈیوز شئیر کیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آن لائن شیئر کی گئیں ان ویڈیوز میں کہا گیا کہ جہاں ملک میں غربت سے عام آدمی کا جینا محال ہوچکا ہے تو وہیں مصری حکمران عوام کے خون پسینے کی کمائی سے ملین ڈالرز کے بڑے بڑے بنگلے خرید رہے ہیں اور قومی خزانے سے رقم کو اپنی عیاشیوں پر لٹا رہے ہیں۔
مصر میں حالیہ برسوں میں معاشی بچت سے متعلق مہم بھی شروع کی گئی تھی۔
جہاں ملک میں مختلف حصوں میں احتجاج کا یہ سلسلہ جاری ہے وہیں جمعے کو مظاہرین کی بڑی تعداد 2011 سے مظاہروں کے لیے مشہور قاہرہ کے تحریر سکوائر میں بھی جمع ہوئے اور انھوں نے صدر سیسی کے خلاف نعرے لگائے۔
نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اب تک 74 مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ تاہم اس سے متعلق ابھی تک سرکاری سطح پر کچھ نھیں بتایا گیا ہے۔
سنیچر کے روز کیا ہوا تھا؟
سنیچر کو مصر کے شہر سوئز میں تقریباً 200 کے قریب مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے جہاں جمعے کو بھی احتجاج ہوا تھا۔ ان مظاہروں کے دوران آنسو گیس کے شیل فائر کرنے پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم بھی ہوا۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مظاہرین صدر سیسی کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں اور فوجی صدر کو خدا کا دشمن قرار دے رہے ہیں۔
سنیچر کو محمد علی نے مصر میں مظاہروں کی اپیل کرتے ہوئے مصری شہریوں سے کہا کہ وہ ملین مارچ میں شریک ہوں اور ملک کے تمام بڑے سکوائرز پر احتجاج کریں۔