آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کو رہا کر دیا گیا
مصر کی اعلیٰ عدالت کی جانب سے سابق صدر حسنی مبارک کو2011 کی عرب سپرنگ میں ہونے والی ہلاکتوں سے بری الزمہ قرار دیے جانے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔
چھ سال قبل ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا۔
حسنی مبارک کے وکلا کا کہنا ہے کہ سابق صدر جنوبی قاہرہ میں واقع فوجی ہسپتال سے قاہرے کے مضافات میں واقع اپنے مکان چلے گئے ہیں۔
حسنی مبارک نے انور سادات کو قتل کیے جانے کے بعد صدر کا عہدہ سنبھالا تھا۔
حسنی مبارک کو 2013 میں ضمانت ملنے کے بعد طرہ جیل سے فوجی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
ان کو 2012 میں فروری 2011 میں مظاہرین کو سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک کروانے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
اس سزا کے بعد ایک اور مقدمے میں جج نے مئی 2015 میں فیصلہ سنایا کہ حسنی مبارک کو حراست سے رہا کیا جا سکتا ہے۔
تاہم صدر عبدالفتح السیسی کی حکومت عوامی ردعمل کے خوف سے ان کو رہا کرنے کے حق میں نہیں تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صدر عبدالفتح السیسی حسنی مبارک کے دور اقتدار میں ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ تھے اور انھوں نے سنہ 2013 میں محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹا تھا۔