آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
چین امریکہ مذاکرات: کیا تجارتی جنگ ختم ہو جائے گی؟
- مصنف, کرشما وسوانی
- عہدہ, نامہ نگار، ایشیا
چین اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا تازہ ترین دور چین میں مکمل ہوا ہے جس میں اتفاق کیا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان جاری تجارتی جنگ کے حوالے سے مذاکرات کا اگلا دور ستمبر میں امریکہ میں ہو گا۔ تازہ ترین بات چیت کے بعد چین کی وزارت تجارت نے مذاکرات کے اس دور کو ’نہایت مفید، کارآمد اور تعمیری‘ قرارد دیا ہے۔
ذیل میں ہماری نامہ نگار کرشما وسوانی نے جائزہ لیا ہے کہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان جاری تجارتی جنگ کا مستقبل کیا دکھائی دیتا ہے۔
’’دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی جنگ پر معاملات طے کرنے کے لیے امریکہ اور چین کے سرکردہ حکام نے اس ہفتے چین میں مذاکرات کے ایک دور کا آغاز کیا ہے، لیکن ان مذاکرات سے توقعات کچھ زیادہ نہیں ہیں۔
تاہم یہ کہنا بھی غلط ہوگا کہ حالیہ عرصے میں دونوں ملکوں کے درمیان باضابطہ بات چیت دکھائی نہیں دی، لیکن میڈیا کی نظروں سے دور بہت کچھ ہوتا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے:
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حال ہی میں اس بات کے ثبوت منظر عام پر آئے ہیں کہ یہ تجارتی جنگ دونوں ملکوں کی معیشت کے لیے کس قدر نقصاندہ ثابت ہو رہی ہے۔
یہاں ہم ان تین نکات کا جائزہ لیتے ہیں جن کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرت کی پیچیدگی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
ہواوے پر شور شرابا
گزشتہ چند ماہ سے امریکہ نے چین کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ مثلاً قومی سلامتی کو خطرہ قرار دیتے ہوئے، ہواوے کو مصنوعات فروخت کرنے والی امریکی کپمنیوں پر پابندی لگا دی گئی ہے کہ وہ اب کوئی چیز ہواوے کو برآمد نہیں کر سکتیں۔
اگرچہ اس برآمدی پابندی سے ہواوے کا کاروبار ٹھپ نہیں ہوا، لیکن امریکہ کے اس اقدام نے دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں بے چینی ضرور پیدا کی ہے۔
چونکہ جاپان سے لیکر امریکہ تک پھیلی ہوئی کئی کمپنیوں کی مصنوعات می امریکی پُرزے لگے ہوتے ہیں، اس لیے یہ کمپنیاں بھی پریشان ہیں کہ اب ہواوے کے ساتھ ان کے کاروبار کا کیا ہوگا؟ آیا یہ کمپنیاں اپنی مصنوعات ہواوے کو فروخت کر پائیں گی۔
لیکن پھر اچانک جون میں جی20 کے اجلاس کے موقع پر جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ اعلان کیا کہ امریکہ کچھ کمپنیوں کو ہواوے کو اپنی مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت دیدے گا، تو امید پیدا ہو گئی کہ صدر ٹرمپ اس معاملے میں نرمی کا مظاہرہ کرنے جا رہے ہیں۔
لیکن صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد بھی ان کی انتظامیہ کے حکام میں یہ تذبذب پایا جاتا ہے کہ کون کون سی کمپنیاں اپنی مصنوعات ہواوے کو فروخت کر سکتی ہیں کون سی نہیں۔ اس کے علاوہ انھیں یہ بھی واضح نہیں کہ یہ کمپنیاں کیا چیز فروخت سکتی ہیں اور کیا نہیں۔
ادھر بیجنگ میں لوگوں کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ کے اعلان کا مطلب یہ نہیں کہ وہ چین کے ساتھ تجارتی جنگ کو ختم کرنے جا رہے ہیں۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ نے یہ اعلان امریکہ کی اپنی ٹیکنالوجی صنعت کے دباؤ میں آ کر کیا ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ کئی بڑی کمپنیاں کہہ چکی ہیں کہ ہواوے کے ساتھ کاروبار پر پابندی کی وجہ سے وہ اپنے ایک بڑے خریدار سے محروم ہو چکی ہیں۔
جہاں تک چین کا تعلق ہے، ہواوے اس کے لیے محض ایک کاروباری کمپنی نہیں، بلکہ یہ ایک قومی سرمایہ ہے۔ اسی لیے چین سمجھتا ہے کہ ہواوے کے ساتھ لین دین پر پابندی محض ایک کمپنی پر حملہ نہیں بلکہ چین کے ان عزائم کے خلاف کارروائی ہے جن کے تحت وہ بین الاقوامی سطح پر ایک کامیاب معیشت کے طور پر ابھرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ہواوے کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا اعلان بظاہر ان کے اپنے عزائم کی نفی دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ امریکہ چین کو کھلا چھوڑ دے گا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ کے لیے ہواوے ایک ایسی علامت بن چکی ہے جس کے ذریعے وہ دنیا کو دکھانا چاہتا ہے کہ چینی معیشت میں کتنی خرابیاں ہیں۔ امریکہ کا الزام ہے کہ ہواوے کوئی آزاد نجی کاروبار نہیں ہے، بلکہ اس کے تانے بانے چینی حکومت سے ملتے ہیں اور چینی حکومت اس کمپنی کی مالی مدد بھی کرتی ہے۔ یاد رہے کہ ہواوے ان تمام الزامات سے انکار کرتی ہے۔ s
وعدے ہی وعدے اور زرعی جنگ
چین اور امریکہ کے درمیان جن بڑے بڑے معاشی معاملات پر جھگڑا چل رہا ہے ان میں زراعت بھی شامل ہے۔
چینی مصنوعات پر امریکہ کی طرف سے اضافی برآمدی ٹیکس عائد کیے جانے کے جواب میں چین ان امریکی کسانوں اورکمپنیوں کو نشانہ بنا رہا ہے جو چین کو گوشت، اجناس اور سویا بین وغیرہ برآمد کرتی ہیں۔
لیکن حالیہ مذاکرات کو خوشگوار بنانے کے لیے اِس ہفتے چین نے کہا ہے کہ جون میں دونوں ملکوں کے صدور کی ملاقات کے بعد سے اب تک وہ امریکہ سے کئی لاکھ ٹن سویا بین درآمد کر چکا ہے۔
یہ چین کی جانب سے واضح اشارہ ہے کہ وہ امریکہ سے مزید زرعی اجناس خریدنے کے لیے تیار ہے۔ چین سمجھتا ہے کہ اس اقدام کو واشگنٹن میں ایک مثبت پیشرفت کے طور پر دیکھا جائے گا جس سے زرعی اجناس کی تجارت کے معاملے میں بہتری ہو سکتی ہے۔
لیکن دونوں ملکوں کے تجارتی تعلقات میں بہتری کا بڑاانحصار اس بات پر ہے کہ حالیہ مذاکرات میں دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی میں کتنی بہتری آتی ہے۔
خطرے کے اشارے
چین اور امریکہ کے درمیان اعتماد کی کمی کے شواہد ہمیں حقیقی دنیا میں بھی نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔
صرف گزشتہ تین ماہ کے درمیان ہم اعداد و شمار کا ایک نیا سلسلہ دیکھ چکے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور چین کی تجارتی جنگ کی وجہ سے عالمی معیشت میں بھی دراڑیں پڑ رہی ہیں۔
مثلاً، چین سے ایشیا کے دیگر ممالک کو بھیجی جانے والی برآمدات نہایت تیزی سے گر رہی ہیں۔
اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ چینی معیشت سست روی کا شکار ہے، لیکن دوسری وجہ تجارتی جنگ میں مسلسل اضافہ ہے۔
کئی کمپنیاں یہ سوچنے پر مجبور ہو چکی ہیں کہ آیا انہیں چین سے نکل جانا چاہیے یا نہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کمپنیوں نے اپنا کاروبار پھیلانا فی الحال روک دیا ہے، جس کی وجہ سے نئی فیکٹریاں نہیں لگائی جا رہیں اور نہ ہی نئی ملازمتیں پیدا ہو رہی ہیں۔
ان حالات کے پیش نظر آئی ایم ایف جیسے عالمی ادارے دنیا کو اُن خطرات سے خبردار کر رہے ہیں جو تجارتی جنگ کی وجہ سے عالمی معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
آئی ایم ایف نے موجودہ اور آئندہ سال کے لیے عالمی معیشت کی نمو میں بہتری کے جو تخمینے لگائے تھے، اب ادارے نے ان تخمینوں میں کمی کر دی ہے۔
دوسری جانب، گزشتہ ہفتے امریکی اداروں کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعداد و شمار سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران امریکی معیشت میں اتنا اضافہ نہیں ہوا جتنا سمجھا جا رہا تھا۔
ان اعداد و شمار کے مطابق تجاری جنگ کی وجہ سے امریکہ کی بیرونِ ملک تجارت اور امریکہ کے اندر سرمایہ کاری، دونوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔
ان تمام باتوں سے ظاہر ہوتا ہے امریکہ اور چین کا تجارتی جنگ کے کسی حل پر متفق ہونا کس قدر اہم ہو چکا ہے۔
لیکن اگر آپ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران مذاکرات نہ ہونے سے ان دو بڑی معیشتوں کے درمیان فاصلے میں اضافہ ہو چکا ہے، تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کے آئندہ مذاکرات سے بھی زیادہ توقعات وابسطہ نہیں کی جا سکتیں۔