آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
غزہ: گولان کی پہاڑیوں پر نئی ’ٹرمپ بستی‘ کا افتتاح
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے گولان کی پہاڑیوں کے مقبوضہ علاقے میں نئ آباد کاری منصوبے کا افتتاح کیا ہے جس کا نام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام پر ’ٹرمپ ہائٹس‘ رکھا گیا ہے۔
اتوار کو افتتاحی تقریب میں اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس نئی آبادی کا نام ’ٹرمپ ہائٹس‘ امریکی صدر کی جانب سے گولان پہاڑیوں پر اسرائیلی خود مختاری کو تسلیم کرنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ابھی اس مقام پر تعمیراتی کام شروع ہونا باقی ہے لیکن یہاں پر امریکی صدر ٹرمپ کے نام کی تختی اور اسرائیلی اور امریکی پرچم نصب کر دیے گیے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ناقدین نے اسے بنا کسی قانونی حیثیت کے سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے اٹھایا گیا اقدام قرار دیا ہے۔
اسرائیل نے 1967 کی مشرق وسطیٰ کی جنگ کے آخری مرحلے میں اس علاقے پر قبضہ کر لیا تھا اور 1973 میں شام کی اس پر واپس قبضہ کرنے کی کوشش بھی ناکام بنائی اور سنہ 1981 میں اس کو اسرائیل نے یکطرفہ طور پر اپنا علاقہ قرار دے دیا تھا۔
رواں برس مارچ میں امریکہ وہ پہلا ملک بنا تھا جس نے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی خود مختاری تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکی صدر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’آج تاریخی دن ہے اور صدر ٹرمپ اسرائیل کے دوست ہیں۔‘
امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈمین نے بھی اس تقریب میں شرکت کی اور اس نئی بستی کے قیام کو سراہا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اپریل میں امریکی صدر کی جانب سے دہایوں بعد گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی خودمختاری تسلیم کرنے کے فیصلہ کہ بعد اس نئی بستی کو صدر ٹرمپ کے نام پر رکھنے کا وعدہ کیا تھا۔
گولان کی پہاڑیاں 1200 مربع کلومیٹر پر پھیلی ہیں۔ یہ شامی دارالحکومت دمشق سے تقریباً 60 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہیں۔ اس علاقے پر تقریباً 30 یہودی بستیاں قائم ہیں۔
اس نئی بستی کو گولان کی پہاڑیوں کے شمالی علاقے کیلا کے قریب تعمیر کرنے کا امکان ہے۔
اتوار کو اسرائیلی کابینہ نے وزیر اعظم نیتن یاہو کی گولان کی پہاڑیوں ہر نئی بستی بنانے کی قرار داد کی منظوری دی تھی۔ لیکن یہ قرارداد نئی بستی کے قیام کے اعلان سے زیادہ کچھ نہیں کیونکہ تعمیر کے لئے کوئی رقم ابھی تک مختص نہیں کی گئ.
اس سکیم کے سیاسی مخالفین نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ قانونی طور پر ستمبر میں اسرائیل کے انتخابات سے پہلے کوئی نیا علاقہ قائم نہیں کیا جا سکتا.
اسرائیلی کابینہ کے سابق سیکرٹری زوی ہوزر نے مقامی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کو بتایا کہ ’جو کوئی بھی اس ’تاریخی‘ فیصلہ کے پڑھے گا سمجھ جائے گا کہ یہ ایک جعلی پالیسی کے علاوہ کچھ نہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ’ہم امید کرتے ہیں کہ ہے صدر ٹرمپ کو یہ معلوم نہ ہو کہ ان کا نام تعلقات عامہ کی اس مشق کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔‘