آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکہ: وائٹ ہاؤس کا اخوان المسلیمین کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا ارادہ
امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ نے مصر کی تنظیم اخوان المسلیمین کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا ارادہ کیا ہے جس کے دوران تنظیم کے خلاف بڑے پیمانے پر پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
اس فیصلے کے بعد مصر کی قدیم ترین تنظیم کے خلاف معاشی اور سفری پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ مشرق وسطی میں اس تنظیم کے دس لاکھ سے زائد ارکان ہیں۔
یہ فیصلہ مصر کے صدر عبدالفتح السیسی کے اپریل میں وائٹ ہاؤس کے دورے کے بعد سامنے آیا ہے۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ مصر کے صدر السیسی نے ڈونلڈ ٹرمپ سے ایسا کرنے کے لیے کہا ہے۔
اسی بارے میں
منگل کو وائٹ ہاؤس کی سیکرٹری سارہ سینڈرز نے تصدیق کی کے انتظامیہ ایسا کرنے کے لیے کوشش کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا ’صدر نے قومی سلامتی کی ٹیم اور علاقے میں موجود رہنماؤں سے رابطہ کیا ہے جنھوں نے اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا اور اس حوالے سے کام کیا جا رہا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی میڈیا کے مطابق نو اپریل کو السیسی اور ٹرمپ کی ملاقات کے بعد ہی پہلے مرتبہ سکیورٹی اہلکاروں اور سفارتکاروں سے کہہ دیا گیا تھا کہ وہ اخوان المسلیمین کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے حوالے سے راستے تلاش کریں۔
مصر نے خود پہلے ہی اخوان المسلیمین کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ السیسی نے مصر کے صدر محمد مرسی کو سنہ 2013 میں اقتدار سے الگ کیا تھا جو اخوان المسلیمین کے سابق رہنما ہیں۔
ایک مرتبہ اخوان المسلیمین کو دہشت گرد قرار دے دیا گیا تو ان کمپنیوں اور افراد کے خلاف پابندیاں لاگو ہو جائیں گی جو اخوان المسلیمین کے ساتھ رابطہ رکھیں گے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اخوان المسلیمین نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے اس فیصلہ کے بعد بھی اپنا کام جاری رکھیں گے۔
نیو یارک ٹائمز کے مطابق اس فیصلہ پر وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون سٹاف کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔
اگرچہ قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن اور وزیر مملکت مائیک پوپیو نے اس اقدام کی حمایت کی ہے تاہم قومی سلامتی کا عملہ، وکلا اور سفارتاکاروں نے اس پر قانونی اور پالیسی اعتراضات اٹھائے ہیں۔
ایسے ہی خدشات کا اظہار ملکی اور غیر ملکی اہلکاروں نے ظاہر کیے ہیں۔
اخوان المسلیمین سنہ 1928 میں حسن البنا نے قائم کی تھی ان کی اس سیاسی اور اسلامی فلاحی کاموں کے امتزاج کے باعث دنیا بھر میں اسلامی تحریکیں متاثر ہوئیں۔
اس تحریک کا ابتدائی مقصد اسلامی اقدار اور اچھے کام کرنا تھا تاہم جلد ہی یہ سیاست میں بھی سرگرم ہو گئی خاص طور پر اسے برطانوی کلونیئل نظام اور مغربی اثر سے سے نکالنے کے لیے۔
سابق صدر حسنی مبارک کی سنہ 2011 میں معزو لی کے بعد ہونے والے پہلے پارلیمانی انتخابات میں اخوان المسلیمین سے منسلک جماعت نے کامیابی حاصل کی اور پارلیمان کی نصف نشستیں حاصل کیں۔
تاہم مرسی کی معزولی کے بعد اخوان المسلیمین کے ہزارڑوں اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا۔