امریکہ: وائٹ ہاؤس کا اخوان المسلیمین کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا ارادہ

US President Donald Trump (R) and Egyptian President Abdel Fattah al-Sisi take part in a bilateral meeting at a hotel in Riyadh on May 21, 2017

،تصویر کا ذریعہMANDEL NGAN/Getty

،تصویر کا کیپشنان پابندیوں کا مطالبہ مصری صدر السیسی نے کیا ہے

امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ نے مصر کی تنظیم اخوان المسلیمین کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا ارادہ کیا ہے جس کے دوران تنظیم کے خلاف بڑے پیمانے پر پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

اس فیصلے کے بعد مصر کی قدیم ترین تنظیم کے خلاف معاشی اور سفری پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ مشرق وسطی میں اس تنظیم کے دس لاکھ سے زائد ارکان ہیں۔

یہ فیصلہ مصر کے صدر عبدالفتح السیسی کے اپریل میں وائٹ ہاؤس کے دورے کے بعد سامنے آیا ہے۔

امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ مصر کے صدر السیسی نے ڈونلڈ ٹرمپ سے ایسا کرنے کے لیے کہا ہے۔

اسی بارے میں

منگل کو وائٹ ہاؤس کی سیکرٹری سارہ سینڈرز نے تصدیق کی کے انتظامیہ ایسا کرنے کے لیے کوشش کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا ’صدر نے قومی سلامتی کی ٹیم اور علاقے میں موجود رہنماؤں سے رابطہ کیا ہے جنھوں نے اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا اور اس حوالے سے کام کیا جا رہا ہے۔‘

امریکی میڈیا کے مطابق نو اپریل کو السیسی اور ٹرمپ کی ملاقات کے بعد ہی پہلے مرتبہ سکیورٹی اہلکاروں اور سفارتکاروں سے کہہ دیا گیا تھا کہ وہ اخوان المسلیمین کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے حوالے سے راستے تلاش کریں۔

Pro Mohammed Morsi supporters rally near where over 50 were purported to have been killed by members of the Egyptian military and police in early morning clashes on July 8, 2013 in Cairo, Egypt.

،تصویر کا ذریعہSpencer Platt/Getty

،تصویر کا کیپشنسنہ 2013 مںی ایک فوجی بغاوت کے بعد السیسی نے منتخب صدر مرسی کو معزول کر دیا

مصر نے خود پہلے ہی اخوان المسلیمین کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ السیسی نے مصر کے صدر محمد مرسی کو سنہ 2013 میں اقتدار سے الگ کیا تھا جو اخوان المسلیمین کے سابق رہنما ہیں۔

ایک مرتبہ اخوان المسلیمین کو دہشت گرد قرار دے دیا گیا تو ان کمپنیوں اور افراد کے خلاف پابندیاں لاگو ہو جائیں گی جو اخوان المسلیمین کے ساتھ رابطہ رکھیں گے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اخوان المسلیمین نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے اس فیصلہ کے بعد بھی اپنا کام جاری رکھیں گے۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق اس فیصلہ پر وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون سٹاف کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔

اگرچہ قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن اور وزیر مملکت مائیک پوپیو نے اس اقدام کی حمایت کی ہے تاہم قومی سلامتی کا عملہ، وکلا اور سفارتاکاروں نے اس پر قانونی اور پالیسی اعتراضات اٹھائے ہیں۔

ایسے ہی خدشات کا اظہار ملکی اور غیر ملکی اہلکاروں نے ظاہر کیے ہیں۔

Poster showing President al-Sisi

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمصری پارلیمان حال ہی میں ایک آئینی ترمیم منظور کی جس میں السیسی کو 2030 تک ملک کا اقتدار سونپا گیا

اخوان المسلیمین سنہ 1928 میں حسن البنا نے قائم کی تھی ان کی اس سیاسی اور اسلامی فلاحی کاموں کے امتزاج کے باعث دنیا بھر میں اسلامی تحریکیں متاثر ہوئیں۔

اس تحریک کا ابتدائی مقصد اسلامی اقدار اور اچھے کام کرنا تھا تاہم جلد ہی یہ سیاست میں بھی سرگرم ہو گئی خاص طور پر اسے برطانوی کلونیئل نظام اور مغربی اثر سے سے نکالنے کے لیے۔

سابق صدر حسنی مبارک کی سنہ 2011 میں معزو لی کے بعد ہونے والے پہلے پارلیمانی انتخابات میں اخوان المسلیمین سے منسلک جماعت نے کامیابی حاصل کی اور پارلیمان کی نصف نشستیں حاصل کیں۔

تاہم مرسی کی معزولی کے بعد اخوان المسلیمین کے ہزارڑوں اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا۔