اسرائیل کے غزہ پر فضائی حملے

اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں پیر کی رات کو ہوائی حملے کیے جو کہ اس سے کچھ گھنٹے قبل اسرائيلی شہر شمالی تل ابیب میں ایک گھر پر راکٹ لگنے کے بعد شروع کیے گئے۔

اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ ان کے ہدف پر حماس کے سیاسی رہنما کا دفتر اور ان کے ملٹری انٹیلجنس ہیڈ کوارٹرز تھے۔

غزہ کی وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ ان حملوں میں سات افراد زخمی ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

یہ ہوائی حملے پیر کی رات جاری رہے۔ اسرائیل کا کہنا تھا کہ غزہ کی جانب سے بھی 30 راکٹ داغے گئے تھے جس کی وجہ سے پورے جنوبی اسرائیل میں ایئر ریڈ سائرن سنائی دیے۔

حملوں کا آغاز کب ہوا؟

اس سے قبل پیر کی صبح آئی ڈی ایف نے اسرائیل اور ایک یہودی بستی پر راکٹ داغنے کا الزام حماس پر لگایا تھا، جہاں ایک گھر پر راکٹ گرنے سے سات افراد زخمی ہوئے تھے۔

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو اس وقت امریکہ کے دورے پر تھے جو انھوں نے قبل از وقت منسوخ کر دیا۔ واشنگٹن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’اسرائیل یہ برداشت نہیں کرے گا۔ میں یہ برداشت نہیں کروں گا۔‘

ابھی تک کسی فلسطینی گروہ نے اس راکٹ حملے کی ذمہ داری نہیں قبول کی، جبکہ حماس کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ ان کو ایسا کرنے میں ’کوئی دلچسپی‘ نہیں ہے۔

تازہ خبر کیا ہے؟

منگل کی صبح کو آئی ڈی ایف کی طرف سے بیان جاری کیا گیا کہ انھوں نے اسرائیل پر ہونے والے حملوں کے بدلے میں شمالی غزہ پر 15 راکٹ داغے۔

ساتھ ہی ان کا یہ کہنا تھا کہ پیر کی رات کو مقامی وقت کے مطابق 10 بجے کے بعد سے اسرائیل کے اوپر 30 راکٹ داغے گئے۔ وہ کہتے ہیں ان راکٹ حملوں سے شمالی اسرائیل کے سڈاروٹ شہر کے ایک گھر کو نقصان پہنچا۔

حماس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مصری ثالثیوں کی مدد سے جنگ بندی ہو چکی ہے، لیکن اسرائیل نے ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں کی۔

اسرائیل نے کیا کیا؟

فلسطینی سکیورٹی اداروں، میڈیا اور چشم دید گواہوں نے بتایا ہے کہ پیر کی شام کو غزہ کی پٹی پر ہر طرف ہوائی حملے ہو رہے تھے۔ آئی ڈی ایف اور حماس کے الاقصیٰ ٹی وی کے مطابق حماس کے سیاسی رہنما اسماعیل ہنیہ کے دفتر پر بمباری کی گئی لیکن فی الحال یہ واضح نہیں کہ وہ اس وقت اندر موجود تھے یا نہیں۔

آئی ڈی ایف نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کے جنگی طیاروں نے حماس کی انٹرنل سکیورٹی سروس کو بھی نشانہ بنایا۔ اس سمیت انھوں نے مشرقی غزہ شہر میں ایک تین منزلہ عمارت پر بھی بمباری کی جو کہ ان کے مطابق حماس کے حساس اداروں کے خفیہ دفاتر ہیں۔

الاقصیٰ ٹی وی کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے مرکزی غزہ میں اور مشرقی شجاعیہ کے علاقے میں میزائیل داغے۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے ٹوئٹر پر کہا کہ ان حملوں میں سات لوگ زخمی ہو ئے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹر شیریں رحمان نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ’میں سوشل میڈیا پر کل رات سے غزہ پر حملوں کی خبریں دیکھ رہی ہوں لیکن مین سٹریم میڈیا میں ابھی تک کچھ نہیں دیکھا۔ لگتا ہے اسرائیل کے پاس کھلا ہاتھ ہے کہ وہ نہ صرف اپنا قبضہ بڑھاتے جائیں بالکہ اپنی ظلم کی خبریں بھی چھپائیں۔‘

فلسطینی ڈاکٹر اور صحافی بلال الدبور نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ’اسرائیلی طیاروں کے ہدف میں شامل ایک مسجد، ایک ڈرائیونگ سکول اور ایک انشورنس کمپنی‘۔

اسی طرح فلسطینی ادیب اور صحافی کا ٹوئٹر پر کہنا تھا کہ ’اسرائیل کے غزہ کی تمام آبادی کے خلاف تشدد بھرے بدلے کے دوران یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ فلسطین کو 52 سال کے قبضے اور ظلم کے سامنے اپنے دفاع اور مزاحمت کا پورا حق ہے۔‘