تھائی لینڈ: پارٹی نے وزیر اعظم کے عہدے کی نامزدگی واپس لے لی لیکن شہزادی اپنے فیصلے پر قائم

،تصویر کا ذریعہReuters
تھائی لینڈ کے بادشاہ کی جانب سے مخالفت کے بعد رسکا چارٹ پارٹی نے وزیر اعظم کے عہدے کی نامزدگی واپس لے لی ہے لیکن شہزادی اب بھی اپنے فیصلے پر قائم ہیں۔
تھائی لینڈ کی شہزادی کو انتخابات میں وزیراعظم کے امیدوار کے لیے نامزد کرنے والی سیاسی جماعت تھائی رسکا چارٹ پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ بادشاہ کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے ان کے نامزدگی واپس لیتے ہیں۔
تھائی رسکا چارٹ پارٹی متنازع سابق وزیر اعظم تھاکسن شیناوترا کی اتحادی ہے۔
جمعے کے روز تھائی بادشاہ واجیرالنونگ کورن نے اپنی بہن شہزادی بولرتانا ماہیڈول کی انتخابات میں نامزدگی اور سیاست میں حصہ لینے کے فیصلے کو نامناسب قرار دیا تھا۔
اسے بارے میں
ان کی نامزدگی سے شاہی خاندان کی عوامی سیاست سے باہر رہنے کی روایت ٹوٹ جاتی۔
سیاسی جماعت کا کہنا تھا کہ 'کہ وہ شاہی حکم کو مانتے ہوئے بادشاہ اور شاہی خاندان کے وفادار ہیں۔‘
سیاسی جماعت کی جانب سے یہ بیان اس شاہی حکم کے جواب میں آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اس طرح کا اقدام 'عوام کی ثقافت کو مجروع کرے گا۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تمام تھائی ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ 'چاہے شہزادی اپنی تمام تر شاہی ذمہ داریوں سے تحریری طور پر دستبردار ہو چکی ہیں لیکن وہ اب بھی شاہی رتبہ رکھتی ہیں اور چکری شاہی خاندان کا حصہ ہیں۔
اور شاہی خاندان کے کسی بھی معزز رکن کا کسی بھی صورت میں سیاست میں حصہ لینا، قوم کی روایات، رسم و رواج اور ثقافت کے منافی تصور کیا جاتا ہے لہذا اس فیصلے کو انتہائی غیر مناسب مانا جاتا ہے۔'
اس بیان نے آئین کی ایک شق کا حوالہ دیا ہے جس کا کہنا ہے کہ بادشاہت کو سیاسی استحکام برقرار رکھنا چاہیے۔
اگلے ماہ ہونے والے انتخابات کو بہت گہری نظر سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ پانچ سال کی فوجی آمریت کے بعد تھائی لینڈ میں جمہوریت کو واپس آنے کا پہلا موقع ملے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بادشاہ کی مداخلت سے الیکشن کمیشن نے بھی کسی نہ کسی صورت 24 مارچ کو ہونے والے انتخابات میں شہزادی کو نااہل قرار دے دینا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کا کہنا تھا کہ شہزادی کو نامزد کرنے کا فیصلہ ایک سنگین غلطی تھی، کوئی اس شیناوتری دھڑے کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو فوج کو سیاست سے باہر رکھنے کے لیے زور لگا رہا ہے۔
شہزادی کا خود کیا کہنا ہے؟
دوسری جانب شہزادی یولرتانا ماہیڈول نے انتخابات میں حصہ لینے کے اپنے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔
انسٹاگرام پرپوسٹ کرتے ہوئے انھوں نے دہرایا ہے کہ وہ اپنے تمام تر شاہی اعزازات سے دستبردار ہو چکی ہیں اور ایک عام انسان کی طرح زندگی گزار رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک عام شہری کی حیثیت سے اپنا حق استمعال کرتے ہوئے وزیر اعظم کے عہدے کے لیے بطور امیدوار حصہ لینا چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مکمل دیانت داری اور استقامت سے تمام تھائی عوام کی فلاح اور خوشحالی کے لیے کام کریں گی۔
بادشاہ کے بیان کے کچھ دیر بعد انھوں نے دوبارہ انسٹاگرام پر پوسٹ کیا اور مسئلہ پر براہ راست بات نہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ تھائی عوام کا ان کی حمایت پر شکریہ ادا کرتی ہیں اور وہ چاہتی ہیں کہ' تھائی لینڈ ترقی کرے اور عالمی برادری اس کی تعریف بھی کرے اور اسے قبول بھی کرے۔'
بولرتانا ماہیڈول کون ہیں؟
تھائی لینڈ کی سیاست میں حالیہ برسوں میں کئی انوکھے واقعات پیش آئے ہیں لیکن شہزادی بولرتانا کا وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار بننا یقیناً ان میں سب سے عجیب سمجھا جا رہا ہے۔
شہزادیبولرتانا ماہیڈول سنہ 1951 میں پیدا ہوئیں اور وہ شاہی خاندان کی سب سے بڑے اولاد ہیں۔
سنہ 1972 میں ایک امریکی سے شادی کرنے کے بعد انھوں نے اپنا شاہی لقب چھوڑ دیا اور امریکہ منتقل ہو گئی تھیں۔
طلاق کے بعد وہ واپس تھائی لینڈ لوٹ آئیں اور پھر سے شاہی زندگی میں شرکت کرنا شروع کر دی۔
انھیں تھائی شاہی خاندان کی سب سے رنگین شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ سوشل میڈیا کی سرگرمیوں میں پھرپور شرکت کرتی ہیں اور کئی تھائی فلموں میں اداکاری بھی کر چکی ہیں۔
ان کے تین بچے ہیں جن میں سے ایک سنہ 2004 کی سونامی میں ہلاک ہو گیا جبکہ دو حیات ہیں اور امریکہ میں مقیم ہیں۔








