تھائی لینڈ کے بادشاہ 88 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

،تصویر کا ذریعہAFP
تھائی لینڈ میں شاہی محل نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے بادشاہ پومی پون 88 برس کی عمرمیں انتقال کر گئے ہیں۔
وہ دنیا میں طویل ترین عرصے تک بادشاہ رہنے والے فرماں روا تھے جنہوں نے اپنے ستر سال دورہ اقتدار میں بہت سے سیاسی بحرانوں سے ملک کو نکلا۔
گزشتہ چند برسوں میں وہ اپنی طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے عوامی تقریبات میں شرکت نہیں کرتے تھے۔
بادشاہ کا انتقال ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب تھائی لینڈ 2014 میں ہونے والی بغاوت کے بعد سے فوج کی حکمرانی میں ہے۔
شاہی محل کی طرف سے کیے جانے والے اعلان کے مطابق بادشاہ پومی پون سری راج ہسپتال میں انتہائی پرسکون حالت میں انتقال کر گئے۔
اس موقع پر تھائی لینڈ کی پارلیمان کا خصوصی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔
بادشاہ پومی پون کے جانشین تریسٹھ سالہ ولی عہد شہزادہ وجیرالونگکورن کو عوام میں وہ پذیرائی حاصل نہیں ہے جو ان کے والد کو تھی۔
تھائی لینڈ کے قوانین کے مطابق عوامی سطح پر جانشینی کے معاملات پر بات کرنا قابل تعزیر جرم ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بنکاک میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ تھائی لینڈ کے نازک سیاسی ماحول میں بادشاہ پومی پون جس طرح طاقت کے توازن کو برقرار رکھا تھا اس کے تناظر میں ان کی جانشینی کا مرحلہ آسان نہیں ہو گا۔
بادشاہ پومی پون جو امریکہ کی ریاست میسی چوسٹ کے شہر کیمبرج میں پیدا ہوئے ان کی تاج پوشی نو جون 1946 میں ان کے بھائی اناند ماہیدول کے انتقال کے بعد ہوئی۔تھائی لینڈ کے بادشاہ 88 برس کی عمر انتقال کر گئے








