آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اکیلی خواتین کو جسم فروش کیوں سمجھا جاتا ہے؟
- مصنف, فلورا ڈروری
- عہدہ, بی بی سی نیوز
ہیش ٹیگ می ٹو کے دور میں کسی عورت کے اکیلے ریسٹورانٹ میں بیٹھنے سے کسی کو کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے اور وہ بھی کرہ ارض پر سب سے زیادہ روشن خیال شہر تصور کیے جانے والے نیویارک میں۔
کلیمینٹین کرافرد مینہیٹن کے ایک ریسٹورانٹ کے شراب خانہ میں اکیلی بیٹھی تھیں جب ان سے کہا گیا کہ وہ وہاں نہیں بیٹھ سکتی ہیں۔ وہ اس پر حیران و پریشان تھیں۔ لیکن ان کی پریشانی اس وقت اور زیادہ ہو گئی جب ایک اکیلا مرد وہاں آیا اور ساتھ والے ٹیبل پر بیٹھ گیا۔ اس مرد کو کسی نہیں کہا کہ وہ وہاں اکیلے نہیں بیٹھ سکتا۔
کلمینٹین نے بار کے انتظامیہ سے اصرار کیا کہ وہ بتائیں کہ انھیں ان کے اکیلے بیٹھنے پر اعتراض کیوں ہے، تو انھیں بتایا گیا کہ ریسٹورانٹ کے مالک نے جسم فروشی کرنے والوں کو روکنے کی ہدایت کر رکھی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
کلیمینٹین کو ایسا لگا جیسے ان کی اعلیٰ نوکری اور برسوں کی محنت کے باوجود جو بات ان کے خلاف جاتی ہے وہ ان کا اکیلا ہونا ہے۔
کلیمینٹین نے ریسٹورانٹ میں بیٹھنے پر اصرار کیا تو انھیں اس اکیلے مرد کے برابر میں بیٹھنے کی اجازت تو دے دی گئی لیکن کسی نے ان کے ساتھ ہوئے سلوک کے لیے معافی نہیں مانگی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کیلیمٹین اپنے پیش آنے والے اس واقعے کو تحریر میں لائیں اور وہ ’ڈرگسٹور کلچر ڈاٹ کوم’ پر چھپا۔
بیشتر خواتین کے لیے باہر اکیلے کھانا کھانے کے لیے جانا آسان نہیں ہوتا اور اپنی اس پریشانی کو کم کرنے کے لیے کتاب پڑھنے یا موبائل فون پر مصروف ہو کر کم کرنے کی کوشش کرتی ہیں کیوںکہ اس سے ان کا دھیان بٹ جاتا ہے۔
لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ اگر آپ اپنے ارد گرد خواتین سے پوچھیں کہ اس کی کیا وجہ ہے تو وہ صاف صاف کچھ نہیں کہہ سکتیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ کلیمینٹین کے تجربے سے صاف ظاہر ہے کہ اکیلے کھانا کھانے آنے والی خواتین طرح طرح کے سوالوں سے بھری نظروں کا سامنا کر رہی ہوتی ہیں۔ کلیمینٹین کے معاملے میں ریسٹورانٹ کے سٹاف نے صاف کہہ دیا لیکن زیادہ تر معاملوں میں نہ کہتے ہوئے بھی بہت کچھ کہ دیا جاتا ہے۔
کلیمینٹین نے بی بی سی کو بتایا کہ ہم جتنا سمجھتے ہیں، یہ سلوک اس سے زیادہ عام ہے۔
یہ بھی پڑھیے
جب سے کلیمینٹین کا آرٹیکل شائع ہوا ہے، متعدد خواتین نے کہا ہےکہ انہوں نے بھی اس سلوک کا سامنا کیا ہے۔ ان میں سے بیشتر مینہیٹن شہر میں ہی رہتی ہیں۔
کلیمینٹین نے کہا کہ ریسٹورانٹ کا واقعہ تو صرف ان تمام تجربوں کی ایک مثال ہے جن سے خواتین #MeToo کے اس دور میں بھی ہر روز گزرتی ہیں۔
چند خواتین نے کہا کہ وہ تو اس خوف میں ہی اکیلے باہر کھانے نہیں جاتی ہیں کہ یہ سمجھا جائے گا کہ وہ خود کو بہادر دکھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
امریکی بلاگر گلوریا اٹینمو پانچ برس سے دنیا بھر میں گھوم رہی ہیں۔ اور وہ بھی اس سلوک کو محسوس کرتی رہتی ہیں۔
انہوں نے بی بی سی سے کہا کہ ’میں اکیلے بہت گھومتی ہوں۔ اور ایسا اکثر ہوتا ہے کہ لوگ مجھے دیکھ کر سوچتے ہیں کہ میں گاہک کا انتظار کر رہی ہوں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’میرا روم میں تجربہ سب سے زیادہ برا رہا۔ میں وہاں ایک بس سٹاپ پر بس کا انتظار کر رہی تھی۔ اور تقریباً ہر پانچ منٹ بعد میرے قریب سے گزرتی ہوئی گاڑیوں کی رفتار کم ہو جاتی تھی۔‘
گلوریا نے بھی اپنے تجربے کے بارے میں اپنے بلاگ پر لکھا۔ وہ بھی یہ دیکھ کر حیران تھیں کہ کتنی ساری خواتین نے انہیں بتایا کہ اکیلا ہونے پر انہیں ایسے دیکھا جاتا ہے جیسے وہ جسم فروشی کا کاروبار کر رہی ہوں اور گاہک ڈھونڈ رہی ہوں۔
یہ دنیا کے کسی ایک حصہ کے کہانی نہیں ہے۔ روس یا مشرقی یورپ کے ممالک میں بھی بیشتر خواتین ایسا ہی محسوس کرتی ہیں۔
اکیلی خاتون کا تعلق جسم فروشی سے ہونے والا خیال بھی صرف ریسٹورانٹ، بار یا سڑکوں تک محدود نہیں ہے۔
شیری کولنز بائبل پچ نامی تخلیقی کمپنی کی بانی اور ایڈیٹر ہیں۔ گزشتہ برس ’کان فیسٹیول آف کریئیٹیوٹی‘ میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ وہ ایک رات کے لیے کتنے پیسے لیں گی۔
نتیجے میں اگلے برس انہوں نے اپنی میگزین کے پیچھے ایک بڑا سا اشتہار شائع کیا جس پر لکھا تھا، ’ہم سیاہ فام تخلیقی خواتین ہیں جو کان میں شامل ہونے جا رہی ہیں۔ برائے مہربانی ہم سے نہ پوچھیں کہ ہم ایک رات کے لیے کیا لیتی ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’میں نے ایسا اشتہار اس لیے شائع کیا کیوں کہ میں نہیں چاہتی کہ جس تجربے سے میں گزری اس سے میری جیسی کسی اور خاتون کو گزرنا پڑے۔‘
خاص بات یہ کہ ان میں سے سبھی خواتین چاہتی ہیں کہ ان کی آواز دور دور تک پہنچے۔ وہ اپنی طرز زندگی کو بدلنا بھی نہیں چاہتیں۔ گلوریا اکیلے گھومنا یا اکیلے کھانا، کچھ بھی بدلنا نہیں چاہتیں۔
وہ کہتی ہیں کہ اکیلے سفر کرنے اور کھانے پینے میں ایک عجیب سے اختیار کا احساس شامل ہے۔