سعودی خواتین کے حقوق کے لیے خفیہ ریڈیو سٹیشن

ایک نامعلوم ملک میں موجود ایک چھوٹے سے کمرے سے سعودی خواتین کے حقوق کے لیے انٹرنیٹ ریڈیو چلایا جا رہا ہے۔

نسویہ نامی ایف ایم سٹیشن پر خلیجی ریاستوں میں خواتین پر گھریلو تشدد کے حوالے سے نشر ہونے والے پروگراموں کے دوران پس منظر میں غمگین میوزک چلایا جاتا ہے۔

پروگرام کی میزبان کی آواز نے جذباتی طور پر اس وقت سب کو ہلا دیا جب وہ خاندان کے مردوں کے ہاتھوں سارہ کے قتل کی کہانی بیان کر رہی تھی۔

سارہ کی عمر 33 برس تھی اور وہ گریجویشن کرنے کے بعد ملازمت کر رہی تھی۔ وہ اپنے والدین کے ساتھ رہتی تھی اور ایک یمنی شخص سے شادی کرنا چاہتی تھی۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

بی بی سی عربی سروس سے گفتگو میں ایک 27 سالہ خاتون نے، جن کا تخلص اشتر ہے، بتایا کہ 'سارہ کے خواب اس وقت ختم ہو گئے جب اس کے 22 سالہ بھائی نے اسے پانچ گولیاں مار دیں، حالانکہ سارہ کی منگنی اس کے والدین کی رضامندی سے ہوئی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ میڈیا پر اس خبر کو نشر بھی کیا گیا تھا۔

میزبان نے ہناننامی کی کہانی بھی بیان کی جنھوں نے سنہ 2013 میں خود کشی کی تھی۔ وجہ یہ تھی کہ ان کے بھائی اور انکل نے انھیں مارا تھا اور کہا تھا کہ وہ اپنے منگیتر سے شادی نہ کریں۔

اشتر کہتی ہیں کہ یہ کیسز معمول کی بات ہیں، بلکہ یہ تو ایک ہلکی سی جھلک ہیں۔

’خاموش اکثریت‘

تین ہفتے پہلے نسویہ ایف ایم نے ٹوئٹر پر اپنا اکاؤنٹ بنایا اور اعلان کیا کہ وہ ہر ہفتے پروگرام چلائے گا جس میں خاموش اکثریت کی بات کی جائے گی۔

ریڈیو کی جانب سے لوگوں کو یہ بھی پیغام دیا گیا ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر مواد کی تیاری اور پروڈکشن میں کام کر سکتے ہیں۔

گذشتہ دو ہفتوں میں اس ایف ایم سٹیشن کی جانب سے دو پروگرام نشر کیے گئے ہیں جو ایک گھنٹے کے دورانیے پر مشتمل تھے۔ اس کے لیے ایک مائیکروفون ایک لیپ ٹاپ اور ایڈیٹنگ سافٹ ویئر اور لائیو آڈیو سٹریمنگ ویب سائٹ مکسلر کا استعمال ہوا۔

پروڈکشن کوالٹی اور آواز کی خرابی سے یہ عیاں ہو رہا تھا کہ یہ پراجیکٹ پروفیشنل بنیادوں پر نہیں چلایا جا رہا۔

اشتر کہتے ہیں کہ ابھی یہ توقع نہیں کہ ابتدائی طور پر انھیں بہت زیادہ سامعین ملیں گے بلکہ امید ہے کہ ان کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہو گا کیونکہ سٹیشن عورتوں کے حقوق کے لیے آگاہی بڑھا رہا ہے۔

’ہم نے اس پروجیکٹ کو تاریخ کے اس مرحلے کو محفوظ کرنے کے لیے شروع کیا ہے۔ تاکہ لوگ ہمیں جانیں، ہم اصل تھے ہم موجود تھے۔‘

سعودی عرب سے باہر رہنے کے باوجود اشتر اس سے زیادہ اس حوالے اپنے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتانا چاہتی تھیں کیونکہ وہ کسی بھی انتقامی کارروائی سے خوفزدہ تھیں۔

وہ کہتی ہیں کہ سعودی حکام ٹوئٹر اکاؤنٹ کو کسی بھی وقت ختم کر سکتی ہیں اور ہم اپنے خیالات کے ذخیرے سے کھو بیٹھیں گے جبکہ ریڈیو پروگرام کے ذریعے ہمیں موقع ملتا ہے کہ ہم پروگرام کو ریکارڈ کریں اور دیگر پلیٹ فارمز پر نشر کریں۔

اقوام متحدہ کے مطابق مئی کے وسط سے لے کر اب تک خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اور سعودی حکومت پر تنقید کرنے والے 17 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ان میں سے متعدد افراد پر بہت سنگین نوعیت کے جرائم کے الزامات ہیں، جن میں مشکوک غیر ملکی پارٹیوں سے رابطے بھی شامل ہیں۔ اگر ان زیر حراست افراد پر فرد جرم عائد ہو جاتی ہے تو انھیں 20 سال سے زیادہ عرصے تک کی قید کا سامنا کیا جا سکتا ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

نسویہ ایف ایم میں دو میزبان اور نو خواتین پروڈیوسرز ہیں۔ ان میں سے دو سعودی شہری ہیں اور کچھ خواتین سعودی عرب میں مقیم ہیں۔

ان خواتین کا کہنا ہے کہ ان کے لیے آپس میں رابطہ مشکل ہے کیونکہ وہ ایسے علاقوں میں رہتی ہیں جہاں وقت میں فرق ہے، پھر کچھ ایسی بھی ہیں جو اپنے کام اور پڑھائی کی وجہ سے ہر وقت میسر نہیں ہو سکتیں۔

اشتر کا کہنا ہے کہ وہ ایک کارکن ہیں جو اپنے خیالات کے اظہار کے لیے میڈیا کا استعمال کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے لبنان کے معاصر اخباروں میں حالیہ برسوں میں آرٹیکل لکھے لیکن انھیں نہیں چھاپا گیا۔ ان کا خیال ہے کہ مسترد کیے جانے کی وجہ معاشرے، مذہب اور سیاست کے بارے میں ان کے متصادم خیالات ہیں۔